اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق خلیل زاد کے الزامات میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان افغان شہریوں کو مسلح کر کے طالبان کے خلاف لڑائی میں استعمال کر رہا ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
اہم نکات
- وزارت اطلاعات نے خلیل زاد کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔
- وزارت کے مطابق پاکستان افغانوں کو مسلح کرنے یا بھرتی کرنے میں ملوث نہیں ہے۔
- وزارت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی کی رپورٹوں میں افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کی موجودگی درج ہے۔
- وزارت کے مطابق یہ الزامات افغانستان کی طالبان حکومت کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
- خلیل زاد امریکہ کے سابق ایلچی ہیں جنہوں نے طالبان سے معاہدے کے لیے مذاکرات کی قیادت کی تھی۔
خلیل زاد کے الزامات پر وزارت کا ردعمل
وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خلیل زاد کے الزامات ذاتی اور یک طرفہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزارت کے مطابق ان الزامات کا مقصد افغانستان کی طالبان حکومت کو تقویت دینا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھاری قربانیاں دے چکا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا مسلح گروہوں کی سرپرستی سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہیں جو افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں۔
وزارت نے اقوام متحدہ کی نگرانی کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان رپورٹوں میں افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان سمیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہی تنظیمیں پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

پس منظر: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ برسوں سے سرحد پار عسکریت پسندی کے معاملے پر کشیدہ رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور طالبان حکومت کو اس سلسلے میں قابل تصدیق اقدامات کرنے چاہئیں۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کرتی رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی اور مذاکرات کا سلسلہ بھی وقتاً فوقتاً خبروں میں رہا ہے، جس کے باعث خطے میں امن و سلامتی کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
زلمے خلیل زاد امریکہ کے سابق سفیر اور خصوصی ایلچی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے طالبان سے معاہدے کے لیے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہوا۔ وہ اس سے پہلے بھی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر تبصرے کر چکے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے بیان کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور خطے میں امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔ مزید قومی خبریں یہاں پڑھیں۔