زمین کی صحت کے حوالے سے 2026 کی تازہ ترین عالمی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے نو بنیادی ماحولیاتی نظاموں میں سے سات انسانی سرگرمیوں کے باعث محفوظ حد سے تجاوز کرچکے ہیں۔ جرمنی کے پوٹسڈم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کی سیاروی حدود سائنس لیب کی جانب سے 60 سے زائد سائنس دانوں کی مشترکہ تحقیق 21 ستمبر کو جاری کی گئی۔ تحقیق کے مطابق یہ ساتوں نظام اب تک کی بلند ترین خطرناک سطح پر ہیں اور ان پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماحولیات کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔
اہم نکات
- نو میں سے سات ماحولیاتی نظام محفوظ حد سے باہر، سب بلند ترین خطرناک سطح پر
- سمندری تیزابیت 2025 میں پہلی بار محفوظ حد سے تجاوز کرگئی
- موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع، زمین کے استعمال، میٹھے پانی، نائٹروجن و فاسفورس کے چکر اور کیمیکلز کی آلودگی بھی حد سے باہر
- صرف اوزون کی تہہ اور فضائی ذرات کی آلودگی محفوظ حد کے اندر، دونوں میں بہتری آئی
- پاکستان کے 2025 کے مون سون سیلاب سے 69 لاکھ سے زائد افراد متاثر — رپورٹ میں نمایاں مثال
- جنوری 2023 سے ستمبر 2025 تک دنیا کے 84.4 فیصد مرجانی چٹانوں والے علاقے شدید سمندری گرمی سے متاثر ہوئے
کون سے سات ماحولیاتی نظام حد سے باہر ہیں
سیاروی حدود کا تصور ان باہم مربوط قدرتی نظاموں کی وضاحت کرتا ہے جن کا محفوظ حد میں رہنا زمین کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق جن سات نظاموں میں محفوظ حد عبور ہوچکی ہے، ان کی تفصیل یہ ہے:
| ماحولیاتی نظام | صورتحال |
|---|---|
| موسمیاتی تبدیلی | حد سے باہر |
| حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی سالمیت | حد سے باہر |
| زمین کے استعمال میں تبدیلی | حد سے باہر |
| میٹھے پانی کے نظام | حد سے باہر |
| نائٹروجن اور فاسفورس کے قدرتی چکر میں خلل | حد سے باہر |
| مصنوعی کیمیکلز اور پلاسٹک کی آلودگی | حد سے باہر |
| سمندری تیزابیت | حد سے باہر — 2025 میں پہلی بار |
| اوزون کی تہہ | محفوظ حد کے اندر — بہتری جاری |
| فضائی ذرات کی آلودگی | محفوظ حد کے اندر — بہتری جاری |
رپورٹ کے سرکردہ مصنف بورس ساکشوسکی کے مطابق تشخیص بالکل واضح ہے: محفوظ حد سے باہر ہر نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر، طویل مدتی اور ممکنہ طور پر ناقابل واپسی تبدیلیوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جبکہ غلطی کی گنجائش سکڑتی جارہی ہے۔ صرف اوزون کی تہہ اور فضائی ذرات کی آلودگی میں گزشتہ دہائی کے دوران بہتری آئی ہے، تاہم مصنفین خبردار کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر بہتری بعض علاقوں میں فضائی آلودگی کی خطرناک صورتحال کو چھپا سکتی ہے۔
انتہائی موسمی واقعات اور پاکستان کا حوالہ
یہ تحقیق ایسے بارہ ماہ کے بعد سامنے آئی ہے جن میں زمین اور سمندروں دونوں میں انتہائی موسمی واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی سمندروں کی حرارت نے نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ سمندری طوفان میلیسا غیر معمولی گرم سمندروں سے گزر کر تیزی سے پانچویں درجے کا طوفان بن گیا اور جمیکا سے ٹکرایا۔
رپورٹ میں پاکستان کے 2025 کے مون سون سیلاب کو نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے 69 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ جنوری 2023 سے ستمبر 2025 تک دنیا کے تقریباً 84.4 فیصد مرجانی چٹانوں والے علاقے شدید سمندری گرمی سے متاثر ہوئے، جو اب تک کا سب سے بڑا عالمی مرجانی سفیدی کا واقعہ ہے۔
رواں سال 2026 میں مغربی یورپ نے ریکارڈ کا گرم ترین جون اور جولائی دیکھا، فرانس، اسپین، جرمنی اور برطانیہ میں خشک سالی رہی، جبکہ یورپ اور کینیڈا میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ لگی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں میں بھی ریکارڈ توڑ گرمی ریکارڈ کی گئی۔

کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام بھی دباؤ میں
رپورٹ میں ایک اور تشویشناک نکتہ قدرتی کاربن جذب کرنے والے نظاموں کی کمزوری ہے۔ نباتات اور مٹی انسانوں کے خارج کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑا حصہ جذب کرتی ہیں، لیکن بار بار کی گرمی، خشک سالی، آگ اور ماحولیاتی تنزلی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کم کرسکتی ہے — اور بعض علاقوں میں یہ نظام کاربن جذب کرنے کے بجائے کاربن خارج کرنے لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمینی کاربن کے ذخائر کا حساب لگانے والے ماڈل ان کی مضبوطی کا حد سے زیادہ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر یوہان راکسٹروم کا کہنا ہے کہ وقت کی کمی ضرور ہے، لیکن رخ بدلنے کا علم، صلاحیت اور حل موجود ہیں۔ تمام ماحولیاتی حدود میں محفوظ دائرے کی طرف واپسی کے لیے تیز تر اقدام انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
کاپ31 سے قبل انتباہ
یہ رپورٹ ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں اقوام متحدہ کا موسمیاتی سربراہی اجلاس کاپ31 منعقد ہونے جارہا ہے، جہاں معدنی ایندھن کے خاتمے، موسمیاتی مالیات اور کمزور ممالک کی مدد جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔ سائنس دانوں کا پیغام واضح ہے: اعداد و شمار اب کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتے — عمل کا وقت اب ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سیاروی صحت جائزہ (پلینیٹری ہیلتھ چیک) کیا ہے؟
یہ پوٹسڈم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کی سیاروی حدود سائنس لیب کی سالانہ تحقیق ہے، جس میں 60 سے زائد سائنس دان زمین کے نو بنیادی ماحولیاتی نظاموں کی صحت کا جائزہ لیتے ہیں۔
کون سے دو ماحولیاتی نظام ابھی محفوظ حد میں ہیں؟
صرف اوزون کی تہہ کی کمی اور فضائی ذرات کی آلودگی محفوظ حد کے اندر ہیں، اور دونوں میں گزشتہ دہائی کے دوران بہتری آئی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے سیلاب کا ذکر کیوں کیا گیا؟
پاکستان کے 2025 کے مون سون سیلاب سے 69 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے، اس لیے رپورٹ میں اسے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔