- 0
- 2 words
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم نامہ آئین کے منافی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے پر قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست جمع کرائی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے انتخابی عمل میں مداخلت کرتے ہوئے ایسے احکامات جاری کیے ہیں جو شفاف انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کا حکم نامہ
لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے ایک اہم حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں الیکشن کمیشن کو انتخابات کے شیڈول پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ کو قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
پی ٹی آئی کا مؤقف
پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کچھ ایسے نکات شامل ہیں جن پر انہیں تحفظات ہیں۔ پارٹی کے مطابق، یہ حکم نامہ انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو متاثر کر سکتا ہے۔
- پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج کیا ہے۔
- درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کا حکم انتخابی قوانین کے دائرہ کار سے باہر ہے۔
- پارٹی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے کو معطل کیا جائے۔
اس پیش رفت کے بعد پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے سیاسی اور قانونی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس اقدام سے انتخابی عمل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اس معاملے میں حتمی ہوگا۔
یہ معاملہ ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور آئینی وقار کو برقرار رکھنا ریاست کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ Watan News اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مزید تفصیلات جلد فراہم کی جائیں گی۔