سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دنوں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں 17 پاکستانی شہری زخمی ہوئے تھے۔ ریاض میں سعودی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق پندرہ زخمیوں کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دو پاکستانی شہریوں کا ریاض کے ایک اسپتال میں علاج جاری ہے۔
اہم نکات
- ریاض ایئرپورٹ حوثی حملے میں 17 پاکستانی زخمی ہوئے، ان میں پانچ خواتین شامل ہیں
- پندرہ زخمیوں کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا؛ دو کا علاج جاری ہے
- حملے دس اور گیارہ اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئے تھے
- دس اکتوبر کے حملے میں بارہ افراد جاں بحق اور تقریباً تین سو نو افراد زخمی ہوئے تھے
- گیارہ اکتوبر کے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور گیارہ افراد زخمی ہوئے تھے
- وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حملوں کی مذمت کی اور ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو متاثرین کی مکمل مدد کی ہدایت کی ہے
ریاض ایئرپورٹ حوثی حملے کی تفصیل
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق دس اور گیارہ اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو الگ الگ حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق دس اکتوبر کے حملے میں بارہ افراد جاں بحق اور تقریباً تین سو نو افراد زخمی ہوئے تھے۔ گیارہ اکتوبر کو ایئرپورٹ کے مسافر ہال نمبر چار پر ہوئے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور گیارہ افراد زخمی ہوئے تھے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
یمن کے حوثی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حوثی گروپ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے جس کے باعث فضائی سفر میں خلل اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستان کا ردِعمل اور متاثرین کی مدد
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملے مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ وزیر خارجہ نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ زخمی پاکستانی شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرے اور سعودی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی زخمی پاکستانیوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور متاثرین کی مدد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔