سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں بدھ کے روز ایک ہوائی اڈے اور تیل کی ایک تنصیب پر الگ الگ حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔ سعودی حکام نے ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملوں کے بعد فضائی دفاعی نظام کو مزید متحرک کر دیا گیا ہے اور متاثرہ مقامات پر نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد امریکہ نے بھی سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اہم نکات
- دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔
- شیبہ آئل فیلڈ میں ڈرون روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
- ہلاک ہونے والوں میں فلپائن اور نیپال کے شہری شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری بھی ہے۔
- سعودی فوجی اتحاد نے مشرقی صوبے اور مدینہ کے علاقے میں کئی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
- امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے کے غیر ہنگامی عملے اور اہل خانہ کی روانگی کا حکم دیا ہے۔
- سعودی وزارت توانائی کے مطابق شیبہ آئل فیلڈ میں کام متاثر نہیں ہوا۔
سعودی عرب پر حوثی حملے: دمام ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ نشانہ
سعودی جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن نے جمعرات کی صبح بتایا کہ بدھ کو دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ ہوا، جس میں ایک شخص جان سے گیا اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو علاقائی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ ہوائی اڈے پر ہونے والے نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔
اسی روز سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ میں ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والا ڈرون فضائی دفاع نے مار گرایا، لیکن اس کے گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے ہے، جب کہ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہے۔ ملبے سے تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکے دار کی گاڑی میں آگ بھی لگ گئی، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ آئل فیلڈ میں کام متاثر نہیں ہوا۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ جمعرات کی صبح مشرقی صوبے کی فضا میں چار ڈرون مار گرائے گئے، جب کہ بدھ کو مملکت کی جانب آنے والے سات ڈرون روکے گئے، جن میں مدینہ کے علاقے کی جانب آنے والا ڈرون بھی شامل تھا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کا تحفظ ہے۔

امریکہ کا سفارتی عملے کی روانگی کا حکم
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ محکمہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے شامل ہیں، جن سے عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا ہے اور سفری نظام میں شدید خلل پڑا ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں موجود امریکی شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں سے گریز کریں اور مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔ سفارت خانے کے مطابق صورت حال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
کشیدگی کا پس منظر اور ردعمل
یمن میں جاری لڑائی کے دوران سعودی عرب پر حملوں میں حالیہ ہفتوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں خاص طور پر ہوائی اڈوں، شہری علاقوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رواں ماہ کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی حملے ہوئے، جس کے بعد کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے عام شہریوں کی زندگی اور علاقائی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان اور مصر سمیت کئی ممالک نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔ مصر کی دفاعی کونسل نے سعودی عرب میں افواج بھیجنے کی منظوری بھی دی ہے، جب کہ پاکستان نے سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کا اعلان کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں اور فضائی دفاع کی مضبوطی پر توجہ مرکوز رہے گی، تاکہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔