سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کو ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کے ہوائی اڈوں، مقدس شہروں اور اقتصادی تنصیبات پر بار بار کیے جانے والے حملوں کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
اہم نکات
- منگل کو ریاض میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس کی صدارت ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔
- کابینہ نے کہا کہ حوثی مملکت کے ہوائی اڈوں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، حرمین شریفین کے زائرین اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر مسلسل گھناونے حملے کر رہے ہیں۔
- کابینہ نے حملوں میں جان سے جانے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
- سعودی عرب اپنی سلامتی یا بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں نہیں پڑنے دے گا۔
- ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کے حملے میں کم از کم تیرہ افراد جان سے گئے اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے۔
- بدھ کو حوثیوں نے دھران میں تیل کمپنی کے دفتر کو نشانہ بنایا؛ محدود آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کابینہ کا اجلاس اور اہم فیصلے
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق منگل کو ریاض میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس کی صدارت ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کابینہ حوثی ملیشیا کے جرائم اور اس کے مسلسل گھناونے حملوں کے نتائج کی پوری ذمہ داری اسی پر عائد کرتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مملکت اپنی سلامتی یا بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں نہیں پڑنے دے گی۔ کابینہ نے مملکت کے دفاع میں مسلح افواج کے فیصلہ کن کردار کو سراہا اور کہا کہ ان کوششوں سے سعودی عرب امن و استحکام کا گہوارہ قائم رہتا ہے اور خطے اور دنیا میں امن کی کوششوں کا عزم برقرار ہے۔

ریاض ایئرپورٹ حملہ اور تازہ صورتحال
رواں ہفتے کے آغاز میں حوثیوں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے حملے میں کم از کم تیرہ افراد جان سے گئے، جن میں ایک امریکی شہری بھی شامل تھا، جبکہ تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اتوار کو ہوائی اڈے کے چوتھے ٹرمینل پر ایک اور حملے میں آگ لگ گئی اور مزید جانی نقصان ہوا۔ ان حملوں کے بعد ریاض کا مرکزی ہوائی اڈا سترہ اکتوبر تک بند کر دیا گیا ہے۔
بدھ کو حوثیوں نے حملوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے مملکت کے مشرقی صوبے کے شہر دھران میں تیل کمپنی کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ وزارت توانائی کے مطابق عمارت میں محدود آگ لگی جس پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی قیادت میں اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض، الخرج، دھران اور حرض کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روک دیا اور ریاض کے شمال میں تین ڈرون تباہ کر دیے۔
بحیرہ احمر میں کشیدگی اور عالمی ردعمل
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر اور اہم آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں تیل کی تنصیب کے قریب کے علاقے کے لوگوں کو اپنی حفاظت کے لیے وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے صنعا میں الصباح کی تنصیبات اور ایک ایندھن بھرنے کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ حوثی بہت برا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے مداخلت اور سعودی مفادات کی حمایت کی درخواست کر سکتے ہیں۔ یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل نے بھی حوثیوں کے لیے جاسوسی، مالی معاونت اور انٹیلی جنس یا رسد کی مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

مزید عالمی خبریں جاننے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ فرمائیں۔