پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صوبے کے لیے اعلان کردہ ترقیاتی پیکج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے انہیں مایوس کیا ہے، کیونکہ انہیں امید تھی کہ خیبرپختونخوا کو ایک بڑا پیکج دیا جائے گا۔
شوکت یوسف زئی نے یکم نومبر کو اپنے بیان میں کہا کہ صوبہ دہشت گردی، بے روزگاری، غربت، کمزور انفراسٹرکچر اور ناکافی عوامی خدمات جیسے سنگین چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس لیے صوبے کے عوام کو وفاق سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے قربانیاں دی ہیں اور اب انہیں ترقی کے عمل میں آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
اہم نکات
- شوکت یوسف زئی: وزیراعظم سے بڑے پیکج کی امید تھی، اعلان سے مایوسی ہوئی
- وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے
- گورنر فیصل کریم کنڈی: رقم کا 70 فیصد محروم علاقوں اور ضم اضلاع پر خرچ ہوگا
- پیکج کا اعلان ان 12 اضلاع کی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کے نمائندوں سے ملاقات میں کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ ہے
- صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہے، تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے وفاق سے مذاکرات کی حمایت کی ہے
خیبرپختونخوا پیکج پر ردعمل
شوکت یوسف زئی کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہے اور وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ ان کے بیان کو صوبے کے عوام کے جذبات کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے، جو امن کی بحالی، عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔
خیبرپختونخوا کے عوام، قبائلی مشران اور سیاسی نمائندوں نے اس سے قبل وزیراعظم کے پیکج کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے میں ترقی کی رفتار تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جانب بڑا قدم قرار دیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف کے رہنما کا موقف ہے کہ صوبے کی ضروریات کے مقابلے میں یہ پیکج ناکافی ہے۔
وزیراعظم کا اعلان کردہ پیکج
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام ضروری وسائل مہیا کرے گی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس رقم کا 70 فیصد حصہ ان علاقوں میں خرچ ہوگا جو ماضی میں محروم رہے ہیں، جبکہ ضم اضلاع کو وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق باقی 30 فیصد دیگر اضلاع کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے گورنر اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ صوبے کو جتنی گندم درکار ہو، فراہم کی جائے، اور پولیس کی تربیت اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے 31 اکتوبر کو مسلم لیگ ن کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں صوبے میں فوری ریلیف کے اقدامات کو ترجیح دینے کی ہدایت بھی کی تھی، اور چترال، ہری پور، مانسہرہ، باجوڑ اور شانگلہ میں دانش اسکولوں کے قیام کا ذکر کیا تھا۔

صوبے میں سیاسی صورتحال
خیبرپختونخوا میں اس وقت گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہے۔ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی نے حال ہی میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کی ہے تاکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔ شوکت یوسف زئی نے بھی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی کہا ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن صوبے کے امن کے لیے سب کو متفق ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ اس معاملے پر وفاق کی پالیسی اپنائے گا اور امن کے قیام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
پیکج کے تحت کن منصوبوں پر، کتنی مدت میں اور کس طریقہ کار سے رقم خرچ ہوگی، اس کی تفصیل ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔