اسلام آباد: تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اعلان تحریک کے سربراہی اجلاس میں جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔
اہم نکات
- تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
- سربراہی اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت ہوا؛ علامہ راجہ ناصر عباس، اختر مینگل، بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حسن رضا، سید زین شاہ اور مشتاق احمد خان شریک ہوئے۔
- اعلامیے کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت کی معلومات ملنے تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
- تحریک نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی واپسی کا مطالبہ کیا اور فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کا اعلان کیا۔
- تحریک نے گرفتار ارکان اور سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں علامہ راجہ ناصر عباس، اختر مینگل اور بیرسٹر گوہر کے علاوہ سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حسن رضا، سید زین شاہ اور مشتاق احمد خان بھی شریک ہوئے۔
سربراہی اجلاس میں بڑے فیصلے
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات بند کر دے گی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے اجلاس میں کہا کہ ملک میں ایسے حالات نہیں تھے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا جاتا۔

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہی اجلاس کا علامتی منظر — اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتِ حال پر مشاورت ہوئی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر موقف
اعلامیے میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا قرار دیا اور اس کے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ تحریک کا کہنا تھا کہ فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ گورنر راج صرف ایک صوبے نہیں بلکہ تمام صوبوں کے عوام کی توہین ہے۔ تحریک نے دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور مطالبہ کیا کہ نئی پالیسیاں بنانے کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی کی امن جرگہ قرارداد پر عمل کیا جائے۔
رہائی اور مذاکرات کی شرائط
تحریک نے معطل وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر سمیت گرفتار تمام ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، علیمہ خانم سمیت دیگر خواتین اور سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت کی معلومات ملنے تک حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، اور حکومت سے مذاکرات کے تمام اختیارات صرف محمود خان اچکزئی کے پاس ہوں گے۔
ملکی سیاست کی تازہ ترین خبریں اور تجزیے پڑھنے کے لیے دیکھیں: وطن نیوز اردو۔