- 0
- 8 words
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے سائبریا میں طاعون کے تحقیق کے ادارے میں کام کرنے والی ایک لیب ٹیکنیشن کی اچانک موت کے بعد روس میں وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم قرار دیا ہے۔ 28 سالہ دیریا شیپیلووا کی موت گزشتہ ہفتے اس وقت ہوئی جب وہ بیمار پڑنے کے دو دن بعد فوت ہو گئیں۔
سائبریا میں طاعون تحقیق کا ادارہ
دیریا شیپیلووا، جو 28 سال کی تھیں، سائبریا میں ایک تحقیقی ادارے میں کام کرتی تھیں جہاں طاعون سمیت خطرناک پیتھوجنز پر تحقیق کی جاتی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق، انہیں کام کی جگہ پر حادثے کے بعد انفیکشن کا شبہ ہے۔
- دیریا شیپیلووا کی موت گزشتہ ہفتے ہوئی۔
- وہ سائبریا کے ایک تحقیقی ادارے میں کام کرتی تھیں۔
- یہ ادارہ طاعون جیسے خطرناک پیتھوجنز پر تحقیق کرتا ہے۔
- روسی حکام نے واقعے کو کم اہمیت دی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا بیان
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر نے منگل کو بتایا کہ وبا کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ مریضوں کے تمام رابطوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کی نگرانی کی جا رہی ہے، لیکن اب تک کسی میں بھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
- WHO کے مطابق، وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔
- مریضوں کے تمام قریبی رابطوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
- اب تک کسی میں بھی بیماری کی علامات نہیں پائی گئیں۔
- WHO نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
روسی حکام کی تحقیقات اور اقدامات
روسی حکام ابھی بھی اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا شیپیلووا کی موت وائرل نمونیا کی وجہ سے ہوئی تھی، لیکن WHO نے ارکتسک کے لیے صحت کے خطرے کو ‘درمیانے سے کم’ اور روس کے باقی حصوں کے لیے ‘کم’ قرار دیا ہے۔
- دیریا شیپیلووا کی موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
- ابتدائی طور پر نمونیا کی وجہ سے موت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
- ارکتسک میں صحت کے خطرے کو درمیانے سے کم قرار دیا گیا ہے۔
- روس کے دیگر علاقوں میں خطرہ کم ہے۔
- یورپ کے لیے خطرہ بہت کم ہے۔
عالمی ردعمل اور شفافیت کا مطالبہ
WHO کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ شیپیلووا کی موت کے بارے میں شفافیت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کا تبادلہ ضروری ہے تاکہ متضاد اطلاعات کو واضح کیا جا سکے اور عوامی صحت کے ممکنہ خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
امریکی ردعمل
امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرے۔
- امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
- امریکی وزیر خارجہ نے روس سے مزید معلومات کا مطالبہ کیا ہے۔
- دی وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے روس کو ایک سفارتی پیغام بھیجا ہے۔
- یہ پیغام روس کو خبردار کرتا ہے کہ تفصیلات ظاہر نہ کرنا بین الاقوامی صحت کے فرائض کے خلاف ہے۔
تحقیقی ادارے میں قرنطینہ
روسی میڈیا کے مطابق، شیپیلووا کے 60 ساتھیوں کو جمعہ سے اس ادارے میں بند کر دیا گیا ہے جہاں وہ کام کرتی تھیں، اور وہ ٹیسٹ کے دوران فرش اور کرسیوں پر سو رہے ہیں۔ اسی طرح کے اقدامات پانچ ہسپتالوں میں بھی کیے گئے ہیں، جہاں رشتہ داروں کو مریضوں سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔
- شیپیلووا کے 60 ساتھی تحقیقی ادارے میں بند ہیں۔
- وہ ٹیسٹ کے دوران وہیں ٹھہرنے پر مجبور ہیں۔
- پانچ ہسپتالوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
- رشتہ داروں کو مریضوں سے ملنے کی اجازت نہیں۔
کریملن کا بیان
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور روس کے صحت کے نگران ادارے Rospotrebnadzor کے بیانات پر بھروسہ کریں۔ ادارے نے بتایا کہ ارکتسک میں صورتحال مستحکم ہے اور ادارے کے ملازمین میں کوئی نیا متعدی مرض کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
نتیجہ
عالمی ادارہ صحت نے سائبریا میں ایک لیب ٹیکنیشن کی موت کے بعد روس میں طاعون کے وبا کے خطرے کو کم قرار دیا ہے۔ اگرچہ 28 سالہ دیریا شیپیلووا کی موت نے خدشات کو جنم دیا تھا، لیکن WHO کے مطابق، اب تک کسی بڑے پھیلاؤ کے آثار نہیں ملے ہیں۔ روسی حکام تحقیقات کر رہے ہیں اور متاثرہ افراد کے رابطوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، روس سے مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ صورتحال کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا روس میں طاعون کی وبا پھیلنے کا خطرہ ہے؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، سائبریا میں ایک لیب ٹیکنیشن کی موت کے بعد روس میں طاعون کی وبا کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔
دیریا شیپیلووا کون تھیں اور ان کی موت کیسے ہوئی؟
دیریا شیپیلووا 28 سالہ لیب ٹیکنیشن تھیں جو سائبریا کے ایک تحقیقی ادارے میں کام کرتی تھیں جہاں طاعون پر تحقیق ہوتی تھی۔ ان کی موت گزشتہ ہفتے ہوئی، اور روسی حکام اس کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہی
عالمی ادارہ صحت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
WHO صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور اس نے روس کے لیے صحت کے خطرے کو ‘درمیانے سے کم’ سے ‘کم’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے روس پر شفافیت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
کیا متاثرہ افراد کے رابطوں کا پتہ لگایا گیا ہے؟
جی ہاں، روسی حکام نے بتایا ہے کہ متاثرہ مریضوں کے تمام قریبی رابطوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کی صحت کی نگرانی کی جا رہی ہے، اور اب تک کسی میں بھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔