- 0
- 63 words
پاکستان کے پاس موسمیاتی منصوبے اور اہداف موجود ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا۔ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں نومبر میں ہونے والی کوپ 31 سے قبل یہی سوال پاکستان کے لیے سب سے اہم بن چکا ہے، اور کوپ 31 صدارت کی جانب سے پاکستان کو “کلائمیٹ امپلیمنٹیشن برج” (BRIDGE) کے پانچ پائلٹ ممالک میں شامل کیے جانے کے بعد یہ بحث مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
مالیاتی خلا کتنا بڑا ہے؟
ڈان میں 7 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق عالمی بینک کا تخمینہ ہے کہ 2023 سے 2030 کے دوران پاکستان کے موسمیاتی اور ترقیاتی چیلنجوں سے جامع طور پر نمٹنے پر تقریباً 348 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ اس میں سے 152 ارب ڈالر موافقت اور لچک کے لیے، جبکہ 196 ارب ڈالر معیشت بھر میں اخراج کم کرنے کے لیے درکار ہیں۔
طویل مدتی تصویر اس سے بھی بڑی ہے۔ ڈان کی ایک رپورٹ اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی دستاویز کے مطابق پاکستان کو اپنے قومی موسمیاتی منصوبے “این ڈی سی 3.0” کے اہداف 2035 تک حاصل کرنے کے لیے 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔
ڈان کے مطابق ان ضروریات کے مقابلے میں ملک کو ملنے والی رقم بہت کم ہے۔ جنوری 2023 کی جنیوا کانفرنس میں سیلاب کی بحالی کے لیے 9 ارب ڈالر سے زائد کے وعدے کیے گئے، مگر ان کا بڑا حصہ قرضوں اور پہلے سے طے شدہ ترقیاتی فنڈز پر مشتمل تھا اور رقم کی فراہمی سست اور غیر متوازن رہی۔ مضمون کے مطابق پاکستان دستیاب فنڈز سے بھی پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا، جس کی بڑی وجہ قابلِ سرمایہ کاری (“بینک ایبل”) منصوبوں کی کمی اور ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں۔
برج منصوبہ اور پاکستان
کوپ 31 صدارت نے 24 ستمبر 2026 کو نیویارک کلائمیٹ ویک کے موقع پر اعلان کیا کہ ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، پاکستان اور ازبکستان برج منصوبے کے پہلے پائلٹ ممالک ہوں گے۔ cop31.tr کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ممالک کی موسمیاتی اور ترقیاتی ترجیحات کو سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبوں کے مجموعوں میں بدلنا، عمل درآمد کی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں موجودہ بین الاقوامی مالی معاونت سے بہتر طور پر جوڑنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (UNDP) اس منصوبے میں عمل درآمد کا شراکت دار ہے۔ اس اعلان کی تفصیل وطن نیوز پہلے ہی اپنی 26 ستمبر کی رپورٹ میں شائع کر چکا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
کوپ 31 کی بحث اب “کیا ممالک کے پاس موسمیاتی منصوبے ہیں؟” سے آگے بڑھ کر “کیا ان منصوبوں پر عمل کے لیے قابلِ سرمایہ کاری منصوبے اور مالی وسائل موجود ہیں؟” کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 22 ستمبر کے اعلامیے کے مطابق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے برج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیلنج اب منصوبے بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ پرافٹ (پاکستان ٹوڈے) کی 25 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ادارہ جاتی بکھراؤ اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی کمی کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا اور بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد ملنے والی کچھ بین الاقوامی امداد مناسب منصوبے نہ ہونے کے باعث استعمال نہیں ہو سکی۔ برج اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
آگے کن باتوں پر نظر رہے گی؟
سب سے اہم پیش رفت برج کے تحت پاکستان کے منصوبوں کی پہلی فہرست (پائپ لائن) ہو گی۔ اس کے بعد دیکھنا ہو گا کہ عالمی بینک، یو این ڈی پی اور نجی شعبہ ان منصوبوں کی مالی معاونت میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحال برج کے لیے کسی مالی حجم کا اعلان نہیں ہوا۔ اصل امتحان یہ ہو گا کہ کیا یہ نظام این ڈی سی کی ترجیحات کو ایسے منصوبوں میں ڈھال پاتا ہے جو واقعی مالیاتی معاہدے (فنانشل کلوز) تک پہنچیں۔ پری کوپ اجلاس 5 سے 8 اکتوبر تک فجی میں ہو گا، جبکہ کوپ 31 کانفرنس 9 سے 20 نومبر تک انطالیہ میں منعقد ہو گی۔
ذرائع
- ڈان، “Climate finance is great but how do you get it?” (7 ستمبر 2026): https://www.dawn.com/news/2028099
- ڈان، “Pakistan needs $566bn to meet climate targets”: https://www.dawn.com/news/1967029
- ایشیائی ترقیاتی بینک، پاکستان کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026–2030 (کلائمیٹ ضمیمہ): https://www.adb.org/sites/default/files/linked-documents/cps-pak-2026-2030-ccp.pdf
- کوپ 31 صدارت (24 ستمبر 2026): https://cop31.tr/news-detail/cop31-presidency-elevates-finance-and-city-action
- پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (22 ستمبر 2026): https://pid.gov.pk/site/press_detail/34000
- پرافٹ، پاکستان ٹوڈے (25 ستمبر 2026): https://profit.pakistantoday.com.pk/2026/09/25/pakistan-flags-shortage-of-bankable-projects-as-hurdle-to-climate-finance