پولینڈ میں اسقاط حمل کی گولیوں تک خواتین کی رسائی کے لیے ایک منفرد اور اختراعی اقدام سامنے آیا ہے۔ وارسا میں نصب ‘ابورٹ او میٹ’ نامی گلابی رنگ کا پارسل لاکر خواتین کو چھ ہندسوں کے کوڈ کے ذریعے گمنام اور فوری طور پر یہ گولیاں فراہم کرتا ہے۔ کارکنوں کے مطابق یہ اقدام ملک کے یورپ کے سخت ترین اسقاط حمل قوانین کے خلاف ایک پرامن اور تخلیقی مزاحمت ہے۔
‘ابورٹ او میٹ’ کیا ہے؟
یہ دنیا کا پہلا پارسل لاکر ہے جو خاص طور پر اسقاط حمل کی گولیوں کی تقسیم کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے گلابی رنگ میں رنگا گیا ہے اور اس کے گرد زیبرا دھاریوں والے پردے لگے ہیں۔ اس میں ۲۲ خانے ہیں جن میں دوا کے لفافے رکھے جاتے ہیں، اور خواتین چھ ہندسوں کا کوڈ درج کرکے تیزی اور گمنامی سے یہ گولیاں حاصل کر سکتی ہیں۔

ابورٹ او میٹ کے خانوں میں اسقاط حمل کی گولیوں کے لفافے رکھے جاتے ہیں جن تک چھ ہندسوں کے کوڈ سے رسائی ممکن ہے۔ (تصویر: وطن نیوز)
یہ لاکر وارسا میں ‘ابورشن ڈریم ٹیم’ کے زیر انتظام اسقاط حمل مرکز کے اندر نصب کیا گیا ہے، جسے مارچ ۲۰۲۵ میں کھولا گیا تھا۔ اس کا مقام علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ مرکز پولینڈ کی پارلیمنٹ کے بالکل سامنے واقع ہے — وہی ادارہ جو قوانین میں نرمی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اقدام کے پیچھے کون ہے؟
اس سروس کا آغاز دو تنظیموں نے مل کر کیا ہے: ‘ویمن ہیلپ ویمن فاؤنڈیشن’ اور ‘ابورشن ڈریم ٹیم’۔ کنگا جیلنسکا، جو ویمن ہیلپ ویمن فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر اور ابورشن ڈریم ٹیم کی شریک بانی ہیں، اس اقدام کی روح رواں ہیں۔
کنگا جیلنسکا کے مطابق یہ ایک حقوق نسواں کی مداخلت ہے جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ حالات کتنے الٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح انڈر ویئر یا کاسمیٹکس جیسی اشیا اگلے ہی دن حاصل کی جا سکتی ہیں، اسی طرح اسقاط حمل کی گولیوں کی فوری دستیابی بھی ضروری ہے کیونکہ بعض صورتوں میں وقت کی اہمیت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

پولینڈ کی پارلیمنٹ کے سامنے وارسا کی سڑک پر نصب ابورٹ او میٹ — اس کا مقام علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ (تصویر: وطن نیوز)
پولینڈ میں اسقاط حمل کے قوانین
پولینڈ میں اسقاط حمل کے قوانین یورپ میں سب سے سخت ترین میں شمار ہوتے ہیں۔ ۲۰۲۰ میں آئینی ٹریبونل کے ایک فیصلے کے بعد جنین کی شدید خرابیوں کی بنیاد پر اسقاط حمل کی اجازت ختم کر دی گئی — اس فیصلے سے قبل ۹۸ فیصد قانونی اسقاط حمل اسی بنیاد پر ہوتے تھے۔
اب اسقاط حمل صرف دو صورتوں میں قانونی ہے: جب حمل کسی جرمانہ فعل جیسے زیادتی کا نتیجہ ہو، یا جب ماں کی جان یا صحت کو خطرہ ہو۔ گولیوں کا استعمال یا ان کا حصول جرم نہیں ہے، لیکن انہیں فراہم کرنا یا کسی کی مدد کرنا ۳ سال تک قید کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔
سیاسی پس منظر
۲۰۲۰ میں قوانین کی سختی کے خلاف پولینڈ بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جو ۱۹۸۹ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد ملک کی سب سے بڑی عوامی تحریک تھی۔ ۲۰۲۳ کے انتخابات میں انہی مظاہروں نے ڈونلڈ ٹسک کو اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے ۱۰۰ دنوں کے اندر قوانین میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد سیاسی جمود برقرار رہا۔ وزیراعظم ٹسک نے اعتراف کیا کہ حمل کے ۱۲ویں ہفتے تک اسقاط حمل کی اجازت کے لیے پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت بھی موجود نہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی حکومت اسقاط حمل میں مدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرے گی۔
اہم نکات
- نام: ابورٹ او میٹ — دنیا کا پہلا اسقاط حمل گولیوں کا پارسل لاکر
- مقام: وارسا میں اسقاط حمل مرکز کے اندر، پولینڈ کی پارلیمنٹ کے سامنے
- خصوصیات: ۲۲ خانے، چھ ہندسوں کا کوڈ، گمنام اور فوری رسائی
- بانی تنظیمیں: ویمن ہیلپ ویمن فاؤنڈیشن اور ابورشن ڈریم ٹیم
- قانونی صورتحال: گولیاں لینا جرم نہیں، فراہم کرنے پر ۳ سال تک قید ممکن
نتیجہ
ابورٹ او میٹ کا آغاز پولینڈ میں اسقاط حمل کی گولیوں تک رسائی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اقدام سخت قوانین کے خلاف پرامن مزاحمت کی علامت ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ شہری معاشرہ رکاوٹیں دور کرنے کے لیے تخلیقی حل تلاش کر رہا ہے۔ اگرچہ قانونی اور سیاسی چیلنجز موجود ہیں، لیکن یہ اختراعی طریقہ کار خواتین کو فوری اور گمنام رسائی فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پولینڈ اور یورپ کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز کا یورپ سیکشن ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
ابورٹ او میٹ کیا ہے؟
ابورٹ او میٹ وارسا میں نصب دنیا کا پہلا پارسل لاکر ہے جو خواتین کو چھ ہندسوں کے کوڈ کے ذریعے اسقاط حمل کی گولیوں تک گمنام اور فوری رسائی فراہم کرتا ہے۔
یہ اقدام کس نے شروع کیا؟
اسے ویمن ہیلپ ویمن فاؤنڈیشن اور ابورشن ڈریم ٹیم نے مل کر شروع کیا ہے۔ کنگا جیلنسکا فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر اور ڈریم ٹیم کی شریک بانی ہیں۔
کیا پولینڈ میں اسقاط حمل قانونی ہے؟
پولینڈ کے قوانین بہت سخت ہیں — اسقاط حمل صرف اس صورت میں قانونی ہے جب حمل کسی جرمانہ فعل کا نتیجہ ہو یا ماں کی جان یا صحت کو خطرہ ہو۔ گولیوں کا استعمال جرم نہیں، مگر فراہم کرنے پر ۳ سال تک قید ہو سکتی ہے۔
اس لاکر کا مقام کیوں اہم ہے؟
یہ لاکر پولینڈ کی پارلیمنٹ کے بالکل سامنے واقع اسقاط حمل مرکز کے اندر نصب ہے۔ کارکنوں کے مطابق یہ مقام علامتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ قوانین میں نرمی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔