کوہاٹ — جمعرات 18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ کی ہنگو روڈ پر پرانی پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش دھماکے نے شہر کو دہشت گردی کے نئے زخم سے دوچار کر دیا۔ سرکاری بیانات کے مطابق حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی؛ دھماکے سے مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار گر گئی، جبکہ اس کے فوراً بعد فائرنگ بھی ہوئی۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے تصدیق کی کہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی اور دھماکے کے بعد فائرنگ ریکارڈ کی گئی۔ واقعہ سکیورٹی تنصیب کے ساتھ قریبی عبادت گاہ کے احاطے کو بھی متاثر کرتا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے خطرے کی شدت واضح ہوتی ہے۔
ایم ایس کوہاٹ اسپتال ڈاکٹر طاہر شاہ کے مطابق 21 افراد شہید ہوئے، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔ شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کے چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شامل ہیں—ایک ایسا نقصان جو طبی خدمات اور مقامی کمیونٹی دونوں پر بھاری پڑا۔ زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری بتائے گئے؛ مجموعی طور پر 103 زخمیوں میں سے 90 ڈی ایچ کیو اور 13 لیاقت میموریل اسپتال منتقل کیے گئے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق 34 زخمی تاحال زیرِ علاج ہیں، جبکہ چار زخمیوں کو پشاور ریفر کیا گیا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق دھماکے کے بعد صورتحال گیٹ تک محدود نہیں رہی: سات مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، جن کا پولیس اور سی ٹی ڈی نے بھرپور مقابلہ کیا۔ ہلاک دہشت گردوں میں خودکش بمبار اور اسنائپر شامل تھے، اور کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا، زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد کی ہدایت دی، اور کہا کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی، حملے کو افسوسناک اور ناقابلِ قبول قرار دیا، اور زخمیوں کے فوری علاج و طبی سہولتوں کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
گیٹ پر گاڑی بم، اندر داخلہ، فائرنگ، اور بیک وقت عام شہریوں و طبی عملے کا نقصان یہ واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردی صرف ایک تنصیب نہیں بلکہ شہر کی روزمرہ زندگی کو نشانہ بناتی ہے۔ حکام کی جانب سے کلیئرنس اور طبی ریلیف جاری ہے؛ مکمل تفتیش کے باضابطہ نتائج ابھی سامنے آنے باقی ہیں۔
ذرائع: جنگ آن لائن (کوہاٹ، 18 ستمبر 2026) بشمول آئی جی کے پی ذوالفقار حمید، ایم ایس کوہاٹ اسپتال، سینٹرل پولیس آفس، صدارتی اور وزیرِ اعلیٰ کے بیانات۔ جنگ صفحے پر رائٹرز تصویر تھی—یہاں ویکیمیڈیا کامنز کی کھلی لائسنس تصویر استعمال کی گئی۔