وسکونسن نے ریاست کے ’ٹریلین ٹریز پلیج‘ کے تحت 50 ملینواں درخت لگا دیا ہے۔ وسکونسن کے محکمہ قدرتی وسائل (ڈی این آر) نے 12 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ یہ سنگِ میل 2030 تک 10 کروڑ درخت لگانے کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اہم نکات
- وسکونسن کے ’ٹریلین ٹریز پلیج‘ کے تحت 50 ملینواں درخت لگایا گیا (اعلان: 12 اکتوبر 2026)۔
- پلیج کا ہدف 2030 تک 100 ملین (10 کروڑ) درخت لگانا ہے؛ 2025 کے آخر تک 54.7 ملین سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں — ہدف کا تقریباً 55 فیصد۔
- پلیج میں شہری علاقوں میں 10 لاکھ درخت لگانا اور کم از کم 125,000 ایکڑ جنگلاتی زمین کی حفاظت بھی شامل ہے۔
- پلیج 2021 میں گورنر ٹونی ایورز نے شروع کیا؛ ریاست کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2024 میں درخت لگانے کا ہدف 75 ملین سے بڑھا کر 100 ملین کر دیا گیا۔
- ڈی این آر کے ری فاریسٹیشن پروگرام نے 2027 کے موسمِ بہار کے لیے پودوں کے آرڈر لینا شروع کر دیے ہیں۔
2030 کے ہدف کی جانب نصف سفر
ڈی این آر کے مطابق یہ سنگِ میل پانچ سال کی وسیع مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ بلدیات، اسکولوں، کمپنیوں، غیر منافع تنظیموں، سرکاری شراکت داروں، جنگلاتی زمین کے مالکان اور عام شہریوں نے اس تعداد میں حصہ ڈالا۔ ریاست کی 2025 کی سالانہ رپورٹ، جو اپریل 2026 میں جاری ہوئی، کے مطابق وسکونسن نے صرف 2025 میں تقریباً 12 ملین درخت لگائے اور 7,800 ایکڑ سے زائد جنگلاتی زمین محفوظ کی — اس طرح پانچ سال میں مجموعی تعداد 54 ملین سے بڑھ گئی۔
پلیج کا آغاز 2021 میں اس وقت ہوا جب گورنر ایورز نے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے 2030 تک 75 ملین نئے درخت لگانے اور 125,000 ایکڑ جنگلات محفوظ کرنے کا عہد کیا۔ 2024 میں انہوں نے درختوں کا ہدف بڑھا کر 100 ملین کر دیا۔ ریاست کا یہ پلیج عالمی ’ٹریلین ٹریز‘ تحریک کا حصہ ہے، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف قدرتی حل کو فروغ دینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف درخت کیوں ضروری ہیں
ڈی این آر پودوں کو موسمیاتی اثرات کے خلاف صفِ اول کا ہتھیار قرار دیتا ہے۔ پودے بڑے ہو کر ایسے جنگل بنتے ہیں جو کاربن ذخیرہ کرتے ہیں، پانی کو صاف کرتے ہیں، جنگلی حیات کی پرورش کرتے ہیں اور ان معیشتوں اور برادریوں کا سہارا بنتے ہیں جو ان پر انحصار کرتی ہیں۔ محکمے کے مطابق درخت اور جنگل شدید بارشوں اور شدید گرمی جیسے موسمیاتی اثرات کو کم کرنے کے بہترین ذرائع میں سے ہیں۔
شہری شجرکاری کے لیے الگ ہدف مقرر کیا گیا ہے: 100 ملین میں سے 10 لاکھ درخت شہروں اور قصبوں کے لیے ہیں، جہاں درختوں کی چھاؤں شدید گرمی اور موسلا دھار بارشوں سے تحفظ میں مدد دیتی ہے۔ لگائے گئے ہر درخت کا اندراج وسکونسن کے سرکاری درخت لگانے کے نقشے میں کیا جا سکتا ہے۔

شہری کیسے حصہ لے سکتے ہیں
ڈی این آر کے ری فاریسٹیشن پروگرام نے 2027 کے موسمِ بہار کے پودوں کے آرڈر لینا شروع کر دیے ہیں اور زمین مالکان، اسکولوں اور تنظیموں کو پلیج کی اگلی لہر میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ شہری سرکاری نرسریوں کو درختوں کے بیج جمع کر کے فروخت بھی کر سکتے ہیں، اپنے محلے کے درختوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں، شجرکاری کے پروگراموں کی حمایت کر سکتے ہیں، اور چوتھی جماعت کے سالانہ مفت پودا پروگرام میں اساتذہ کی مدد کر سکتے ہیں — یہ روایت 1984 سے چلی آ رہی ہے۔
موسمیات کی مزید خبریں وطن نیوز کے موسمیاتی صفحے پر پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
وسکونسن کا ٹریلین ٹریز پلیج کیا ہے؟
یہ ایک ریاستی عہد ہے جس کا آغاز 2021 میں گورنر ٹونی ایورز نے کیا اور ڈی این آر کے سرکاری اعلان میں اس کی تفصیل دی گئی: 2030 تک 100 ملین درخت لگانا، ان میں سے 10 لاکھ شہری علاقوں میں لگانا، اور کم از کم 125,000 ایکڑ جنگلاتی زمین محفوظ کرنا۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کے قدرتی حل کو فروغ دینے والی عالمی ٹریلین ٹریز تحریک کا حصہ ہے۔
وسکونسن اب تک کتنے درخت لگا چکا ہے؟
ڈی این آر کے مطابق 2025 کے آخر تک 54.7 ملین سے زائد درخت لگائے جا چکے تھے — 100 ملین کے ہدف کا تقریباً 55 فیصد — اور 50 ملینواں درخت کا سنگِ میل 12 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا گیا۔
درختوں کے پودے موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے میں کیسے مدد کرتے ہیں؟
ڈی این آر کے مطابق پودے بڑے ہو کر جنگل بنتے ہیں جو کاربن ذخیرہ کرتے ہیں، پانی صاف کرتے ہیں، جنگلی حیات کی پرورش کرتے ہیں اور شدید بارشوں اور شدید گرمی جیسے موسمیاتی اثرات سے برادریوں کو تحفظ دیتے ہیں۔ شہروں میں درختوں کی چھاؤں شدید گرمی سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔
کیا شہری 2027 کے لیے پودے منگوا سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ ڈی این آر کے ری فاریسٹیشن پروگرام نے 2027 کے موسمِ بہار کے پودوں کے آرڈر لینا شروع کر دیے ہیں، اور لگائے گئے درختوں کا اندراج سرکاری درخت لگانے کے نقشے میں کیا جا سکتا ہے۔
پلیج میں شہری درخت کیوں شامل ہیں؟
100 ملین میں سے 10 لاکھ درخت شہری علاقوں کے لیے مخصوص ہیں، کیونکہ شہروں اور قصبوں میں درختوں کی چھاؤں شدید گرمی اور موسلا دھار بارشوں جیسے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں برادریوں کی مدد کرتی ہے۔