کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع خضدار اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جن کی شدت ریختر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی ہے۔ جھٹکے کوئٹہ سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔
اہم نکات
- زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی؛ مرکز خضدار سے 48 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع تھا۔
- زلزلے کی گہرائی زمین میں 25 کلومیٹر تھی؛ جھٹکے کوئٹہ، نوشکی، خاران، مستونگ، قلات اور دیگر اضلاع میں محسوس کیے گئے۔
- ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی خبر نہیں ملی۔
- مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
- دو روز قبل چمن سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 3.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
زلزلے کے جھٹکے کی تفصیلات
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریختر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز خضدار سے 48 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع تھا۔ زلزلے کی گہرائی زمین میں 25 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ خضدار کے علاوہ ضلع واشک کی تحصیل بسیمہ میں بھی زلزلے کے انتہائی شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، خاران، مستونگ، خضدار، قلات اور دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ شہریوں نے بتایا کہ زمین ایک لمحے کے لیے لرز اٹھی، جس کے بعد لوگوں نے کلمہ طیبہ اور آیات کریمہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔

خوف و ہراس کا ماحول
زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں اور کھلی جگہوں پر جمع ہوگئی اور ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتی رہی۔ کئی مقامات پر لوگ دیر تک گھروں میں واپس جانے سے ہچکچاتے رہے۔
انتظامیہ کا موقف
ضلعی انتظامیہ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں بروقت ریلیف کی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان کا وسیع علاقہ زلزلے کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ یہ خطہ مختلف ارضیاتی پلیٹوں کی سرحدوں اور فعال فالٹ لائنز کے قریب واقع ہے۔ دو روز قبل بھی چمن سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت 3.8 ریکارڈ کی گئی تھی۔
ملک بھر کی تازہ ترین خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔