مصنوعی ذہانت پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر کی کمپنیوں کو اب تک اس سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ یہ نتیجہ سرمایہ کاری فرم اپالو گلوبل مینجمنٹ کے چیف اکانومسٹ ٹورسٹن سلوک کے تازہ تجزیے میں سامنے آیا ہے، جس نے امریکہ کی کارپوریٹ دنیا میں اے آئی کے اثرات پر بحث کو نئی شدت دے دی ہے۔
اہم نکات
- اپالو کے چیف اکانومسٹ ٹورسٹن سلوک کے مطابق ٹیکنالوجی کے علاوہ کارپوریٹ امریکہ کو اے آئی سے صفر مالی فائدہ ہوا ہے۔
- سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں فی ملازم آمدن 2022 کے تقریباً 550 ہزار ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 800 ہزار ڈالر ہو گئی، جبکہ باقی 493 کمپنیوں میں یہ تقریباً 550 ہزار ڈالر پر ہی رکی ہوئی ہے۔
- ٹیکنالوجی کے باہر کی کمپنیوں کا منافع تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا منافع تقریباً 30 فیصد کے قریب ہے۔
- معیشت بھر میں پیداواری صلاحیت میں اے آئی کے باعث کوئی واضح بہتری نظر نہیں آئی ہے۔
- اے آئی ماڈلوں پر خرچ کا 99.5 فیصد حصہ صرف سب سے زیادہ خرچ کرنے والی 10 فیصد کمپنیوں کا ہے۔
ایس اینڈ پی 493 کیا ہے؟
سلوک نے اپنے تجزیے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جنہیں میگنیفیسنٹ سیون کہا جاتا ہے، اور باقی 493 کمپنیاں، جنہیں ایس اینڈ پی 493 کہا گیا ہے۔ سات بڑی کمپنیوں میں ایلفابیٹ، ایمازون، ایپل، میٹا، مائیکروسافٹ، اینویڈیا اور ٹیسلا شامل ہیں۔
تجزیے کے مطابق 2022 کے بعد سے سات بڑی کمپنیوں کی فی ملازم آمدن اور منافع میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ باقی 493 کمپنیوں میں دونوں پیمانے تقریباً ساکت رہے ہیں۔ سلوک نے لکھا ہے کہ بھاری سرمایہ کاری اور وسیع تشہیر کے باوجود اے آئی نے ٹیکنالوجی کے علاوہ کارپوریٹ امریکہ کو صفر مالی فائدہ دیا ہے۔
اے آئی ایک اچھا کیلکولیٹر، لیکن کاروبار فیصلے سے چلتا ہے
سلوک نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ اے آئی ایک بہترین کیلکولیٹر ہو سکتی ہے، لیکن کاروبار میں ذہانت زیادہ تر فیصلہ سازی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی جوابدہی، اعتماد، ثقافت، غیر تحریری اصولوں، اخلاقی توازن یا انصاف کو نہیں سمجھتی، اور یہی عوامل ساکھ کے خطرے اور بالآخر آمدن و منافع کو متاثر کرتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام کمپنیاں اب اے آئی پر خرچ کو ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ لاگت کا مرکز سمجھنے لگی ہیں، جو منافع پر دباؤ ڈالتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایجنٹک اے آئی اور ٹوکن پر خرچ معیشت کے ایک چھوٹے حصے تک محدود رہے گا، اے آئی کے مجموعی معاشی اثرات بہت محدود رہیں گے۔

خرچ بھی چند کمپنیوں تک محدود
تجزیے میں ریمپ نامی کاروباری خرچ کے ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق ماڈل سروسنگ اور انفرنس پر خرچ کا 99.5 فیصد حصہ صرف سب سے زیادہ خرچ کرنے والی 10 فیصد کمپنیوں کا ہے۔ اسی طرح سب سے زیادہ خرچ کرنے والی ایک فیصد کمپنیوں میں 80.4 فیصد وینچر کی حمایت یافتہ کمپنیاں ہیں۔
سلوک نے نتیجہ نکالا ہے کہ اے آئی کی کہانی کا فیصلہ سات بڑی کمپنیوں میں نہیں بلکہ باقی 493 کمپنیوں میں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر عام کمپنیاں سستی ذہانت کو زیادہ آمدن اور منافع میں تبدیل نہ کر سکیں تو اے آئی کی معاشی کہانی ادھوری رہے گی۔
اس بحث کا مطلب کیا ہے؟
یہ تجزیہ ایسے وقت میں آیا ہے جب سرمایہ کار اے آئی کی تعمیر پر خرچ کی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹر اور چپس پر کھربوں ڈالر لگا رہی ہیں، دوسری طرف عام کمپنیوں کے منافع میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔
تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام مقصد کی ٹیکنالوجیوں کا فائدہ ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے، اور پیداواری صلاحیت میں بہتری ایک عبوری مدت کے بعد آتی ہے۔ اس لیے یہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی ہے کہ اے آئی کا اصل معاشی فائدہ کب اور کس حد تک عام کمپنیوں تک پہنچے گا۔
متعلقہ مضامین
- اینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ
- چیٹ جی پی ٹی اشتہارات اب پاکستان سمیت 26 مزید ممالک میں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اپالو کا تجزیہ کیا کہتا ہے؟
اپالو کے چیف اکانومسٹ کے مطابق سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ باقی 493 کمپنیوں میں اے آئی سے آمدن، منافع یا پیداواری صلاحیت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
ایس اینڈ پی 493 سے کیا مراد ہے؟
ایس اینڈ پی 493 سے مراد ایس اینڈ پی 500 کی وہ 493 کمپنیاں ہیں جو سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ ہیں۔
سات بڑی کمپنیوں کی فی ملازم آمدن کتنی بڑھی ہے؟
سات بڑی کمپنیوں کی فی ملازم آمدن 2022 کے تقریباً 550 ہزار ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 800 ہزار ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ باقی کمپنیوں میں یہ تقریباً 550 ہزار ڈالر پر ہی رکی ہوئی ہے۔
کیا اے آئی کا فائدہ مستقبل میں عام کمپنیوں تک پہنچ سکتا ہے؟
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام مقصد کی ٹیکنالوجیوں کا فائدہ ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے، اور پیداواری صلاحیت میں بہتری ایک عبوری مدت کے بعد آ سکتی ہے۔