×
رات کے وقت دور دراز چیک پوسٹ کے قریب گاڑی میں سفر کرتا ہوا ایک خاندان

پاکستانی مختصر فلم دی لاسٹ گلانس نے عالمی سینما کی سب سے بڑی دوڑ میں ایک اہم قدم رکھ دیا ہے۔ ہدایت کار کامران فائق کی بارہ منٹ کی یہ فلم امریکہ کے شہر سیئٹل میں ہونے والے تصویر فلم فیسٹیول میں بہترین مختصر فلم کا جیوری ایوارڈ جیت کر 2028 کے آسکر کے لیے اہل قرار پائی ہے۔ یہ اعزاز پاکستانی فلم سازی کے لیے ایک اور خوش آئند خبر ہے، جو چند ہی دن پہلے فیسٹیول کی کامیابی کے بعد سامنے آئی ہے۔

اہم نکات

  • پاکستانی مختصر فلم دی لاسٹ گلانس نے سیئٹل کے تصویر فلم فیسٹیول میں بہترین مختصر فلم کا جیوری ایوارڈ جیتا ہے۔
  • یہ جیت فلم کو 2028 کے آسکر کی طویل فہرست میں جگہ دلاتی ہے؛ یہ حتمی نامزدگی نہیں، بلکہ اہلیت کی ایک اہم منزل ہے۔
  • تصویر فلم فیسٹیول کا اکیسواں ایڈیشن 13 سے 18 اکتوبر تک سیئٹل میں ہوا؛ یہ دنیا کا واحد آسکر کوالیفائنگ جنوبی ایشیائی فلم فیسٹیول ہے۔
  • فلم کی مدت بارہ منٹ ہے؛ کہانی ایک خاندان کے رات کے سفر اور ایک دور دراز چیک پوسٹ پر مشکل فیصلے کے گرد گھومتی ہے، جو سچے واقعات سے متاثر ہے۔
  • مرکزی کردار برکات اداکار عدنان شاہ ٹیپو نے ادا کیا ہے؛ اریج ایوب اور فہد ہاشمی بھی کاسٹ میں شامل ہیں۔
  • کامران فائق نے فلم لکھی، پروڈیوس کی اور ہدایت کاری کی؛ پروڈکشن کمپنی آٹم پکچرز ہے۔
  • اس سے پہلے فلم کینیڈا کے موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین بین الاقوامی مختصر فلم کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہے۔
  • فلم کی آسکر مہم 2027 تک جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔

سیئٹل میں جیوری ایوارڈ: اہلیت کا مطلب کیا ہے

تصویر فلم فیسٹیول جنوبی ایشیائی سینما کا ایک اہم میلہ ہے، اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ آسکر کوالیفائنگ فیسٹیول ہے، یعنی یہاں جیتنے والی فلمیں آسکر کی دوڑ میں داخل ہونے کی اہل ہو جاتی ہیں۔ دی لاسٹ گلانس نے اس میلے میں بہترین مختصر فلم کا جیوری ایوارڈ حاصل کیا، اور اسی جیت نے اسے 2028 کے آسکر کی طویل فہرست تک پہنچا دیا ہے۔

ہدایت کار کامران فائق نے اس فرق کو خود واضح کیا ہے کہ یہ حتمی نامزدگی نہیں ہے، بلکہ اہلیت ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں مختصر فلموں میں سے صرف تقریباً دو سو فلمیں اس مرحلے تک پہنچ پاتی ہیں، اور تصویر فیسٹیول سے اہل ہونے والی یہ واحد فلم ہے۔ یہ وضاحت اس خبر کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ طویل فہرست میں آنا ایک بڑی کامیابی ہے، مگر اس کے بعد بھی نامزدگی کے کئی مراحل باقی ہوتے ہیں۔

فلم فیسٹیول میں اسکرین کی روشنی میں بیٹھے ناظرین، جو ایک مختصر فلم کی نمائش دیکھ رہے ہیں
فلم فیسٹیول کی نمائش میں ناظرین؛ تصویر فیسٹیول جیسے میلے مختصر فلموں کو عالمی ناظرین تک پہنچاتے ہیں

کہانی اور کاسٹ: ایک رات، ایک خاندان، ایک فیصلہ

دی لاسٹ گلانس ایک بارہ منٹ کی ڈراما فلم ہے۔ کہانی برکات نامی ایک شخص کے گرد گھومتی ہے، جو تشدد سے بچ کر اپنی حاملہ بیوی اور چھوٹے بیٹے کے ساتھ فرار ہو رہا ہے۔ رات کے سفر کے دوران خاندان ایک دور دراز پولیس چیک پوسٹ تک پہنچتا ہے، جہاں وفاداری کا ایک مطالبہ انہیں زندگی بدل دینے والے فیصلے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ فلم کی کہانی سچے واقعات سے متاثر بتائی گئی ہے، اور اسی لیے اس کا موضوع ناظرین کے دل کو چھوتا ہے۔

مرکزی کردار عدنان شاہ ٹیپو نے ادا کیا ہے، جو پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلم کے تجربہ کار اداکار ہیں اور دختر اور رام چند پاکستانی جیسی فلموں میں بھی نظر آ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ اریج ایوب اور فہد ہاشمی نے اداکاری کی ہے۔ کامران فائق نے فلم تحریر کی، پروڈیوس کی اور ہدایت کاری بھی خود کی۔ فلم آٹم پکچرز کے بینر تلے بنی ہے، جس میں عمر پیرزادہ پروڈیوسر، خالد سعید خان ایگزیکٹو پروڈیوسر، اور مائیک میک نامارا اور ارمینہ رانا خان شریک پروڈیوسر کے طور پر شامل ہیں۔

فلم کی شوٹنگ کے موقع پر کیمرے کے قریب کام کرتا ہوا ایک چھوٹا فلمی عملہ
مختصر فلم کی شوٹنگ میں چھوٹا عملہ بڑی کہانی کو پردے تک لاتا ہے؛ دی لاسٹ گلانس بھی اسی محنت کی مثال ہے

پاکستانی سینما کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے

تصویر فیسٹیول کی جیت دی لاسٹ گلانس کی پہلی کامیابی نہیں ہے۔ اس سے پہلے یہ فلم کینیڈا کے موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین بین الاقوامی مختصر فلم کا ایوارڈ جیت چکی ہے، اور لاس اینجلس میں ایشین ورلڈ فلم فیسٹیول کے مختصر فلم پروگرام کے آٹھ فائنلسٹس میں بھی شامل رہی ہے، جہاں پچاس سے زیادہ ایشیائی ممالک کی فلمیں شامل تھیں۔ یہ تسلسل بتاتا ہے کہ فلم کو مختلف ممالک کے ناظرین اور جیوریوں میں پذیرائی مل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلم کی ٹیم اپنی آسکر مہم 2027 تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور اس مہم میں ایک آسکر نامزد اداکار کو ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر شامل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، تاکہ فلم آسکر کے مرحلوں میں مضبوط نمائندگی حاصل کر سکے۔ پاکستان میں فلم سازی کو محدود وسائل، تقسیم کے مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ہر بین الاقوامی ایوارڈ اور ہر کوالیفائنگ جیت نئے فلم سازوں کے لیے ایک دروازہ کھولتی ہے۔ دی لاسٹ گلانس کی یہ کامیابی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایک چھوٹی، سچی اور انسانی کہانی بھی عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔

وطن نیوز کی مزید شوبز خبریں یہاں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

ڈیٹا سینٹر کی راہداری میں سرورز کی قطاریں

اپالو کے ماہر معاشیات کا انتباہ: ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ اے آئی سے کسی کو مالی فائدہ نہیں ہوا

مصنوعی ذہانت پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر کی کمپنیوں کو اب تک اس سے...

Read out all
خلا کی جانب پرواز کرتا ہوا راکٹ

چین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹ کے ایک اور گروپ کو خلا میں بھیج دیا، گووانگ نیٹ ورک میں اب 231 سیٹلائٹ

چین نے اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کی توسیع میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے 25 اکتوبر 2026 کو گووانگ نیٹ ورک...

Read out all
چیانگ مائی کے پرانے شہر میں لانا ڈیزائن والی برقی ٹرام

چیانگ مائی نے اسمارٹ سٹی سیاحت کے لیے گرین ای وی ٹرام متعارف کرا دی

چیانگ مائی نے پائیدار اور کم کاربن والا شہر بننے کی جانب بڑا قدم اٹھایا ہے، جب مقامی رہنماؤں اور ایسیٹ ورلڈ...

Read out all
امریکہ کے ایک رہائشی علاقے میں مکانات کی قطار

امریکہ میں مکانات کی طلبی قیمتیں مارچ کے بعد پہلی بار گر گئیں، خریداروں کو کچھ ریلیف کا امکان

امریکہ کی ہاؤسنگ مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ملک میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے مکانات کی اوسط...

Read out all
کوپن ہیگن میں نیہاؤن نہر کے کنارے رنگ برنگے مکانات

ڈنمارک میں ڈیپ فیک کے خلاف تاریخی قانون سازی: چہرے اور آواز کی نقل بغیر اجازت شیئر کرنا غیر قانونی ہوگا

ڈنمارک مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے خلاف قانون سازی میں یورپ میں سب سے آگے نکل گیا...

Read out all

سینٹینری بینک، کابالے ڈائیوسس اور گڈ فارسٹس فاؤنڈیشن نے کاننگو میں 12,000 درخت لگائے

سینٹینری بینک، کابالے ڈائیوسس کی کیتھولک چرچ اور گڈ فارسٹس فاؤنڈیشن یوگنڈا نے ماحولیاتی بحالی کی اپنی شراکت کو کابالے ڈائیوسس تک...

Read out all