لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے لیے بڑی سہولت کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اب کسی مریض کو علاج سے پہلے پرچی لینے کی شرط کا پابند نہیں بنایا جائے گا، اور یہ پرانا نظام چار ہفتوں کے اندر ختم کرنا ہوگا۔ اس حکم سے پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں آنے والے لاکھوں مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
اہم نکات
- لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری اسپتالوں میں پرچی سسٹم چار ہفتوں میں ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
- ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور میں آنے والے مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔
- مریضوں کو پرچی کے حصول اور لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی زحمت نہیں دی جائے گی۔
- اسپیشل سیکریٹری صحت نے چار ہفتوں میں پرچی سسٹم ختم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
- طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق جامع رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔
- کیس کی مزید سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
عدالتی حکم کی تفصیل
سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی کمی سے متعلق درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مریضوں کو علاج سے پہلے رجسٹریشن کاؤنٹرز سے پرچی لینے کی پابندی سے آزاد کیا جائے، تاکہ بیمار افراد کو علاج کے لیے غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور میں آنے والے ہر مریض کو بلا تاخیر طبی امداد دی جائے۔ عدالتی حکم کے مطابق پرچی کے حصول کی شرط اور لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا مریضوں کے لیے ایک اضافی تکلیف ہے، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔
پرچی سسٹم کے خاتمے سے مریضوں کو کیا سہولت ملے گی
پرچی سسٹم کے خاتمے کے بعد مریض اسپتال پہنچتے ہی براہ راست علاج کے عمل میں شامل ہو سکیں گے۔ خاص طور پر وہ مریض جو تکلیف کی حالت میں اسپتال آتے ہیں، انہیں کاؤنٹرز پر وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا اور ڈاکٹروں تک ان کی رسائی آسان ہو جائے گی۔

اسپیشل سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ جدید نظام کے ذریعے علاج کے عمل کو زیادہ مؤثر اور آسان بنایا جائے گا۔ انہوں نے چار ہفتوں کے اندر پرچی سسٹم ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کرا دی، جسے عدالت نے اپنے حکم کا حصہ بنا لیا ہے۔
عمل درآمد اور آئندہ سماعت
عدالت نے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق جامع رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا متعلقہ حکام کے غیر سنجیدہ اور لاپرواہ رویے کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے تمام متعلقہ حکام چار ہفتوں میں ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر احکامات پر بلا جواز عمل درآمد نہ ہوا تو متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیس کی مزید سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے، جس میں عمل درآمد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔