- 0
- 2 words
لاہور میں کھیلے گئے ایک سنسنی خیز فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر ایک روزہ سہ ملکی سیریز کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ فخر زمان کی شاندار سنچری نے پاکستان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کیا، جب پاکستان نے 326 رنز کا بڑا ہدف نو گیندیں قبل حاصل کر لیا۔ یہ پاکستان کا 2008 کے بعد پہلا ایک روزہ سہ ملکی ٹائٹل ہے۔
اہم نکات
- پاکستان نے سری لنکا کو فائنل میں تین وکٹوں سے شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی۔
- فخر زمان نے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، جو ان کی 12 ویں ایک روزہ سنچری تھی۔
- سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 325 رنز بنائے، جس میں کامندو مینڈس کے 131 رنز شامل تھے۔
- پاکستان نے 331 رنز بنا کر مشترکہ طور پر ایک روزہ فائنل کی سب سے بڑی کامیاب ہدف کی تعاقب مکمل کی۔
سری لنکا کی بڑی اننگز
فائنل میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں پر 325 رنز بنائے۔ کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ پاون رتھنائیکے نے 77 رنز بنائے۔ ایک مرحلے پر یہ مجموعہ پاکستان کے لیے بہت بڑا لگ رہا تھا، خاص طور پر اس لیے کہ فائنل میں دباؤ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
فخر زمان کی یادگار اننگز
پاکستان کی اننگز کا آغاز اچھا نہیں رہا اور ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں، لیکن فخر زمان نے ایک سرے سے ذمہ داری سنبھال لی۔ انہوں نے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد رفتار تیز کی اور 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے۔ سلمان آغا نے ان کا اہم ساتھ دیا، اور دونوں کے درمیان 57 رنز کی تیز شراکت نے میچ کا رخ موڑ دیا۔ بعد میں عرفات منہاس کی نصف سنچری نے فتح کی راہ ہموار کی، اور پاکستان نے 331 رنز بنا کر نو گیندیں قبل میچ جیت لیا۔

2008 کے بعد پہلا ٹائٹل
یہ فتح پاکستان کے لیے کئی لحاظ سے اہم ہے۔ یہ 2008 کے بعد پاکستان کا پہلا ایک روزہ سہ ملکی ٹائٹل ہے، جب اس نے بنگلہ دیش میں بھارت کو شکست دی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے 2025 میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں اپنے ہی میدان میں فائنل میں شکست کا بدلہ بھی چکا دیا۔ ایک بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب ٹیم کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا سرمایہ ہے۔
دوسری بڑی خبر: جنوبی افریقہ کی سیریز جیت
اسی دن کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز میں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 176 رنز سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 2-1 سے جیت لی۔ آسٹریلیا کو جیت کے لیے 288 رنز درکار تھے، لیکن پوری ٹیم 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ سپنر سائمن ہارمر نے 16 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی بہترین کارکردگی تھی، جبکہ کاگیسو راباڈا نے 350 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کیں اور گیندوں کے لحاظ سے یہ سنگ میل حاصل کرنے والے تیز ترین بولر بن گئے۔ اس جیت کے ساتھ جنوبی افریقہ جنوری 2016 کے بعد پہلی بار ٹیسٹ درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
نتیجہ
لاہور کا فائنل ایک بار پھر ثابت کر گیا کہ بڑے میچوں میں انفرادی شاندار کارکردگی اور ٹیم کی اجتماعی ہمت ہی فرق پیدا کرتی ہے۔ فخر زمان کی سنچری اور نوجوان کھلاڑیوں کی شراکت نے پاکستان کو ایک یادگار فتح دلائی، جسے شائقین طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
فائنل میں فخر زمان نے کتنے رنز بنائے؟
فخر زمان نے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، جو ان کی 12 ویں ایک روزہ سنچری تھی۔
پاکستان نے ہدف کتنی گیندیں قبل حاصل کیا؟
پاکستان نے 326 رنز کا ہدف نو گیندیں قبل حاصل کر کے 331 رنز بنائے اور تین وکٹوں سے میچ جیت لیا۔
سری لنکا کی طرف سے سب سے زیادہ رنز کس نے بنائے؟
کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز بنائے، جبکہ پاون رتھنائیکے نے 77 رنز کی اننگز کھیلی۔
جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے ٹیسٹ کا نتیجہ کیا رہا؟
جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 176 رنز سے شکست دے کر سیریز 2-1 سے جیت لی اور ٹیسٹ درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آ گیا۔