دنیا بھر میں خوراک کی قیمتیں تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، اور عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ یہ دباؤ آنے والے برس میں بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کی تنظیم کے اعداد کے مطابق ستمبر میں عالمی خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ مسلسل تیسرے مہینے بڑھا، جس سے غریب گھرانوں پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
اہم نکات
- ستمبر میں عالمی خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ 136 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
- اناج کا اشاریہ ایک مہینے میں 5.1 فیصد بڑھا، جبکہ چینی 6.1 فیصد مہنگی ہوئی۔
- عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ خوراک کی قیمتیں 2026 میں 10 فیصد اور 2027 میں مزید 7 فیصد بڑھیں گی۔
- موسمی شدت اور بحیرہ اسود کے راستے رسد میں رکاوٹیں اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
ستمبر کے اعداد کیا بتاتے ہیں
خوراک و زراعت کی تنظیم نے 2 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ ستمبر میں اس کا خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ 136 پوائنٹس رہا، جو اگست کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ اور گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 5.8 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اشاریہ اب بھی مارچ 2022 کی ریکارڈ سطح سے تقریباً 15 فیصد کم ہے، لیکن اس میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی خوراک کی مہنگائی ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔
اناج نے سب سے زیادہ دباؤ ڈالا۔ گندم 6.3 فیصد، مکئی 5.6 فیصد اور چاول 1.4 فیصد مہنگے ہوئے۔ چینی کی قیمت میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ بڑے پیداواری علاقوں میں موسم کی خرابی سے رسد کے خدشات ہیں۔ خوردنی تیل 0.9 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ گوشت 1.1 فیصد سستا اور دودھ کی مصنوعات تقریباً مستحکم رہیں۔

عالمی بینک کی وارننگ
عالمی بینک نے 28 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی اجناس کی منڈیوں سے متعلق رپورٹ میں خبردار کیا کہ مجموعی طور پر اجناس کی قیمتیں 2026 کے آخر تک 23 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔ خوراک کی قیمتیں 2026 میں 10 فیصد اور 2027 میں مزید 7 فیصد بڑھنے کا اندازہ ہے۔ بینک کے مطابق اس کی وجوہات میں بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں، ایندھن اور کھاد کی بلند قیمتیں اور ایک انتہائی شدید ایل نینو موسمی مظہر شامل ہیں، جس سے ایشیا میں فصلوں کو نقصان کا خدشہ ہے۔
بینک نے یہ بھی بتایا کہ اگر خطرات بیک وقت سامنے آ گئے تو 2027 میں خوراک کی قیمتیں بنیادی اندازے سے 12 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔ اس کے نائب چیف ماہر اقتصادیات نے کہا کہ دنیا کو بیک وقت کئی بڑے جھٹکوں کا سامنا ہے، جو مہنگائی، خوراک کی عدم تحفظ اور معاشی نمو کو متاثر کر رہے ہیں۔
کسانوں اور صارفین پر اثر
قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ان گھرانوں پر پڑ رہا ہے جن کی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔ انڈونیشیا میں چاول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، مصر میں بغیر سبسڈی والی روٹی کی قیمت جولائی کے بعد سے بڑھ گئی ہے، اور بھارت میں چینی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ تنظیم کے چیف ماہر اقتصادیات میکسیمو ٹوریرو نے کہا ہے کہ اگر یہ دباؤ برقرار رہا تو یہ جلد صارفین کی قیمتوں تک پہنچ جائے گا، خاص طور پر ان ملکوں میں جو خوراک اور توانائی درآمد کرتے ہیں۔
دوسری طرف تنظیم کا اندازہ ہے کہ 2026 میں عالمی اناج کی پیداوار 2.1 فیصد کم ہو کر 2.98 ارب ٹن رہ جائے گی، جو گزشتہ سال کی ریکارڈ فصل سے کم مگر تاریخ کی دوسری بڑی فصل ہوگی۔ عالمی اناج کی تجارت میں بھی 3.5 فیصد کمی کا اندازہ ہے۔
نتیجہ
عالمی خوراک کی قیمتیں اس وقت ایک نازک موڑ پر ہیں۔ موسم، جنگوں سے متاثرہ ترسیلی راستے اور توانائی کی قیمتیں مل کر ایک ایسا دباؤ بنا رہے ہیں جو عام صارف کی روزمرہ زندگی تک پہنچ رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں فصلوں کی صورتحال اور ترسیلی راستوں میں بہتری ہی اس دباؤ کو کم کر سکتی ہے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
عالمی خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ کیا ہے؟
یہ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کا ماہانہ اشاریہ ہے، جو بین الاقوامی منڈی میں خوراک کی پانچ بڑی اقسام کی قیمتوں میں تبدیلی کو ماپتا ہے۔
ستمبر میں کون سی اشیاء سب سے زیادہ مہنگی ہوئیں؟
گندم 6.3 فیصد، چینی 6.1 فیصد اور مکئی 5.6 فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ گوشت سستا ہوا اور دودھ کی مصنوعات تقریباً مستحکم رہیں۔
عالمی بینک نے 2026 اور 2027 کے لیے کیا پیش گوئی کی ہے؟
بینک کا اندازہ ہے کہ خوراک کی قیمتیں 2026 میں 10 فیصد اور 2027 میں مزید 7 فیصد بڑھیں گی۔
قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
موسمی شدت، بحیرہ اسود کے راستے ترسیل میں رکاوٹیں، ایندھن اور کھاد کی بلند قیمتیں اور ایل نینو کے اثرات اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔