دنیا کی چار بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں نے ویب سائٹس کے مالکان کو ایک بڑی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اب کوئی بھی ویب سائٹ ایک ہی مشترکہ ہدایت کے ذریعے یہ کہہ سکے گی کہ اس کا مواد مصنوعی ذہانت کے ماڈلوں کی تربیت کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اس سے پہلے ہر کمپنی کے لیے الگ الگ ہدایات لکھنا پڑتی تھیں، جو خاص طور پر چھوٹے اداروں اور خبر رساں اداروں کے لیے ایک مشکل کام تھا۔
اہم نکات
- اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ اور اینتھروپک نے مشترکہ علامت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
- ایک ہی ہدایت سے مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے گا۔
- اینتھروپک نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، جبکہ باقی کمپنیاں آئندہ مہینوں اور سال 2027 میں اسے نافذ کریں گی۔
- یہ ہدایت صرف آئندہ کی تربیت پر لاگو ہوگی اور ماضی میں جمع کیا گیا مواد اس سے واپس نہیں ہوگا۔
نیا نظام کیسے کام کرے گا
ہر ویب سائٹ کی ایک روبوٹس فائل ہوتی ہے، جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ خودکار پروگرام ویب سائٹ کے کس حصے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ نئے نظام کے تحت اس فائل میں ایک مشترکہ ہدایت شامل کی جائے گی، جسے تمام چار کمپنیوں کے نظام پہچانیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناشر کو ہر کمپنی کے ہر خودکار پروگرام کے لیے الگ الگ سطر لکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
یہ تجویز انٹرنیٹ کے معیارات بنانے والے ادارے میں ایک ابتدائی مسودے کی صورت میں پیش کی گئی ہے، جسے اینتھروپک کے معیارات کے ماہر کیون کیلی نے تیار کیا ہے۔ مسودہ 30 اکتوبر 2026 کا ہے، اور یہ ابھی باقاعدہ معیار نہیں بنا، بلکہ جائزے کے مرحلے میں ہے۔

ہر کمپنی کا اپنا شیڈول
چاروں کمپنیوں کے نفاذ کا وقت ایک جیسا نہیں ہے۔ اینتھروپک نے بتایا ہے کہ اس نے اس علامت پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں اسے نافذ کرے گی۔ مائیکروسافٹ یکم فروری 2027 سے اس پر عمل شروع کرے گی، جبکہ گوگل نے سال 2027 کے دوران نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے ناشروں کو کچھ عرصہ انتظار کرنا ہوگا، جب تک تمام نظام اس ہدایت کو مکمل طور پر تسلیم نہ کر لیں۔
اس ہدایت کی حدود کیا ہیں
اس پیش رفت کو سمجھنے کے لیے اس کی حدود جاننا بھی ضروری ہے۔ یہ ہدایت صرف اس مواد پر لاگو ہوگی جو آئندہ ماڈلوں کی تربیت کے لیے جمع کیا جائے گا۔ یہ خودکار پروگراموں کو ویب سائٹ پر آنے سے مکمل طور پر نہیں روکے گی، اور نہ ہی تلاش کے نتائج میں ویب سائٹ کی موجودگی پر اثر ڈالے گی۔ اگر کوئی ناشر یہ ہدایت نہ دے تو اس کا مواد پہلے کی طرح تربیت کے لیے استعمال ہو سکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن یہ ناشروں کے تمام خدشات کا مکمل حل نہیں ہے۔
ناشروں اور خبر رساں اداروں کے لیے اہمیت
خبر رساں ادارے گزشتہ چند برسوں سے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ ان کی محنت سے تیار کردہ تحریریں ان کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تربیت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس تنازع کی ایک بڑی مثال دسمبر 2023 میں سامنے آئی، جب ایک معروف امریکی اخبار نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ نئے مشترکہ نظام کو اسی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نتیجہ
چار بڑی کمپنیوں کا ایک مشترکہ علامت پر اتفاق مصنوعی ذہانت اور اشاعت کی دنیا کے تعلق میں ایک نیا موڑ ہے۔ اگر یہ نظام مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو چھوٹے ناشروں کو بھی وہی تحفظ مل سکے گا جو اب تک صرف بڑے ادارے حاصل کر پاتے تھے۔ تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب یہ ہدایت عملی طور پر ہر نظام میں کام کرنے لگے گی۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مشترکہ ہدایت سے کیا مراد ہے؟
اس سے مراد ویب سائٹ کی روبوٹس فائل میں ایک ہی ہدایت ہے، جسے چاروں کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے مواد کے استعمال سے روکنے کے لیے تسلیم کریں گی۔
کون سی کمپنیاں اس نظام کی حمایت کر رہی ہیں؟
اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ اور اینتھروپک نے اس مشترکہ علامت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
یہ نظام کب مکمل طور پر کام کرے گا؟
اینتھروپک نے عمل شروع کر دیا ہے، اوپن اے آئی آنے والے مہینوں میں، مائیکروسافٹ فروری 2027 سے اور گوگل سال 2027 کے دوران اسے نافذ کرے گی۔
کیا یہ ہدایت ماضی میں جمع شدہ مواد کو بھی واپس لے گی؟
نہیں، یہ ہدایت صرف آئندہ کی تربیت پر لاگو ہوگی اور ماضی میں جمع کیا گیا مواد اس سے متاثر نہیں ہوگا۔