اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ سفارتی کوششوں سے متعلق صدارتی بیان متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پانچ نومبر کو اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران سفارت کاری پیچھے نہیں ہٹنی چاہیے بلکہ اسے مزید مؤثر ہونا چاہیے۔
اہم نکات
- سلامتی کونسل نے پانچ نومبر کو پاکستان کی پیش کردہ صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کیا۔
- بیان کا موضوع جنگ کے دوران سفارت کاری کا کردار ہے۔
- بیان قرارداد 2788 کا تسلسل ہے جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔
- صدارتی بیان قرارداد کی طرح قانونی طور پر پابند نہیں ہوتا، یہ کونسل کا اجتماعی موقف ظاہر کرتا ہے۔
- اسحاق ڈار نے کہا کہ جنگ شدت اختیار کرے تو سفارت کاری کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
سلامتی کونسل صدارتی بیان میں کیا کہا گیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران سفارت کاری کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے۔ مذاکرات، ثالثی اور پرامن حل کی کوششیں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی جاری رہنی چاہئیں اور مشکل ترین حالات میں بھی امن کی کوششیں نہیں رکنی چاہئیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سفارت کاری کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ عملی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے مذاکرات اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

قرارداد 2788 سے تسلسل
یہ صدارتی بیان سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا تسلسل ہے۔ یہ قرارداد جولائی 2025 میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اور اس میں تنازعات کے پرامن حل کے طریقوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ نئے بیان میں اسی عزم کو آگے بڑھایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران بھی سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔
علاقائی صورتحال پر رابطے
اسی روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کو تعمیری طور پر مصروف رہنا چاہیے اور دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے لیے فعال اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق سفارت کاری، مذاکرات اور پرامن حل کو ترجیح دیتا رہے گا۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔