وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولتیں دینے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں برآمد کنندہ چھوٹے کاروباروں کے لیے طویل مدتی قرض کی سہولت حاصل کرنے پر عائد 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ برآمد کنندگان کے لیے جاری رعایتی قرض اسکیم پر عمل درآمد سے کسی بھی بینک کو انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور اویس احمد خان لغاری نے شرکت کی۔
اہم نکات
- طویل مدتی قرض کی سہولت کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کردی گئی۔
- ملک میں برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے۔
- برآمدی قرض اسکیم میں چھوٹے کاروباروں اور نئے برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص ہیں۔
- طویل مدتی ترقیاتی قرض کی سہولت کے لیے رواں سال 350 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
- اسٹیٹ بینک کے آن لائن پورٹل کے اجرا کے بعد سے قرضوں کے لیے 10 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
- برآمد کنندگان کی دہلیز پر سہولتیں پہنچانے کے لیے جدید لیبارٹریز قائم کی جائیں گی۔
برآمد کنندہ چھوٹے کاروباروں کے لیے کیا فیصلے ہوئے
اجلاس کو چھوٹے کاروباروں کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورتی نشستوں اور ان کے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے برآمد کنندگان کو طویل مدتی قرض کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مقررہ 80 فیصد برآمدات کی لازمی شرط ختم کی جائے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو ان کی دہلیز پر سہولتیں پہنچانے کے لیے جدید لیبارٹریز کے قیام کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ منظوری کے معیار، لیبارٹریز کی توسیع اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو مزید بہتر اور آسان بنایا جائے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چھوٹے کاروباروں کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ان کی استعداد کار میں اضافے اور کاروبار کے وسیع فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

برآمد کنندگان کو کن مشکلات کا سامنا تھا
مشاورتی نشستوں میں ٹیکسوں کی شرح، زیر التوا رقم کی واپسی، صوبائی محصولات، منظوری کے معیار، سامان کی ترسیل، ادائیگیوں اور قرض تک رسائی جیسے اہم مسائل زیر بحث آئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت برآمدات کے شعبے سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یکم نومبر سے چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کے آن لائن پورٹل کے اجرا کے بعد 10 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
برآمدات بڑھانے کے لیے کتنی رقم مختص ہے
اجلاس کو بتایا گیا کہ برآمدی قرض اسکیم میں چھوٹے کاروباروں اور نئے برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ طویل مدتی ترقیاتی قرض کی سہولت کے لیے رواں سال 350 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان سہولتوں کا مقصد چھوٹے برآمد کنندگان کی برآمدات میں اضافہ اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔