واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی ہے۔ امریکی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوئے۔ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں جلد فیصلہ کرے گا۔ تاہم امریکی حکومت کی جانب سے کسی نئے حملے کا باضابطہ اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔
اہم نکات
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ اور جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران پر ممکنہ نئے حملوں پر مشاورت کی۔
- صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں جلد فیصلہ کیا جائے گا۔
- ابھی تک کسی نئے حملے کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی آپریشن کی منظوری کی تصدیق ہوئی ہے۔
- نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
- ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو جوہری معاملے پر باضابطہ تجویز بھیج دی ہے۔
- امریکی رائے عامہ کے ایک سروے میں تقریباً دس میں سے چھ ووٹروں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس میں دو روزہ مشاورت
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق ان اجلاسوں میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور جنگ دوبارہ شروع کرنے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مشاورت کے دوران کیا فیصلے کیے گئے یا کسی نئے آپریشن کی منظوری دی گئی ہے۔ فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں 9 نومبر کو مشرق وسطیٰ میں نئے چاند کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس رات چاندنی نہ ہونے یا انتہائی کم ہونے کے باعث اندھیرا زیادہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ایسی ماحولیاتی صورت حال بعض فوجی کارروائیوں کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ تاہم چاند کی اس کیفیت کو کسی ممکنہ امریکی حملے کی حتمی تاریخ یا کارروائی کے منصوبے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان اور قومی سلامتی ٹیم کے اجلاسوں کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ فاکس نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے وسط مدتی انتخابات سے قبل حملے دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اس وقت ایسا نہیں کیا۔ امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
مذاکرات کی کوششیں بھی جاری
نائب صدر جے ڈی وینس نے عوامی طور پر جنگ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کی وجہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ نئے حملوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کریں۔ خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق وینس انتظامیہ کے ان سینئر عہدیداروں کی قیادت کر رہے ہیں جو مذاکرات کے حامی ہیں۔ گزشتہ ماہ وینس نے قطری ذرائع کے ذریعے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کو خط بھیجا تھا، جس میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ محسن رضائی نے خط ملنے کی تصدیق کی تھی، تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا تھا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس رابطے کی حمایت کی تھی۔

تہران کی علامتی تصویر — میلاد ٹاور اور البرز پہاڑی سلسلہ
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے جمعرات کو بتایا کہ تہران نے قطری ذرائع کے ذریعے امریکہ کو جوہری معاملے پر باضابطہ تجویز بھیج دی ہے، جس میں مزید مذاکرات کو واشنگٹن کی جانب سے اپنے سات مطالبات پر غور سے مشروط کیا گیا ہے۔ وینس نے ایران کے ساتھ براہ راست رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے درمیان جون میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات میں بھی وہ شریک رہے تھے۔
خطے میں کشیدگی کے خدشات
منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کو کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے ایران کے خلاف جنگ امریکی سیاست میں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ رائے عامہ کے ایک سروے کے مطابق تقریباً دس میں سے چھ ووٹروں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو غلط فیصلہ قرار دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں واشنگٹن کا فیصلہ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ عالمی برادری کی نظریں اب وائٹ ہاؤس کے اگلے اعلان پر مرکوز ہیں۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔