- 0
- 16 words
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری آپریشن شعبان اور صوبے کے دیگر علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 71 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کی رپورٹس کے مطابق فوج نے اس پیش رفت کو “بھارت کی پشت پناہی میں سرگرم افغان پراکسیز” کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
اہم حقائق
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آپریشن شعبان کے ابتدائی مرحلے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 33 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آپریشن مزید تیز کیا گیا جس کے نتیجے میں مزید 23 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ایک وسیع علاقہ کلیئر کر کے مقامی آبادی کو خطرے سے نجات دلائی گئی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی ایک علیحدہ کارروائی میں 11 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ مند کے علاقے میں ایک اور کارروائی کے دوران چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود قبضے میں لیا گیا۔
سیاسی قیادت کا ردِعمل
پاکستان ٹوڈے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان میں “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو قوم کا قابلِ فخر اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پس منظر
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آپریشن شعبان کا آغاز 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح کے علاقوں میں کیا گیا تھا۔ اس سے قبل آئی ایس پی آر نے 24 اور 25 ستمبر کو بلوچستان میں دو الگ کارروائیوں میں 16 دہشت گردوں کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا، جن میں سے پانچ 24 ستمبر کو شعبان کے علاقے میں مارے گئے تھے، اور اس وقت تک اس آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد 22 بتائی گئی تھی۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک میں سیکیورٹی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہفتے کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور تقریباً 35 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی۔
تصدیق شدہ معلومات اور دعوے
ہلاکتوں کے تمام اعداد و شمار اور دہشت گردوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہونے کی بات آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان پر مبنی ہے۔ متاثرہ علاقوں تک میڈیا کی رسائی محدود ہونے کے باعث ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
آئی ایس پی آر اور وفاقی حکومت دونوں نے واضح کیا ہے کہ آپریشن جاری رہے گا۔ کلیئرنس کارروائیاں آگے بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں اور برآمدگیوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ صوبے میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر نظریں مرکوز رہیں گی۔
ذرائع
- ایکسپریس ٹریبیون (27 ستمبر 2026): https://tribune.com.pk/story/2631673/over-71-terrorists-killed-in-balochistan-over-last-96-hours-ispr
- پاکستان ٹوڈے (28 ستمبر 2026): https://www.pakistantoday.com.pk/2026/09/28/over-71-terrorists-killed-in-balochistan-operations-in-96-hours-ispr