دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی تبادلے بائننس نے یکم نومبر 2026 کو رقوم کی واپسی مرحلہ وار بحال کر دی۔ یہ واپسی 29 اکتوبر کو ہونے والی تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی چوری کے بعد معطل کی گئی تھی، جسے تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل چوری قرار دیا جا رہا ہے۔ بائننس کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ رقوم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر دیا ہے اور صارفین کو نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔
اہم نکات
- بائننس نے یکم نومبر 2026 کو صبح کے وقت مرحلہ وار واپسی بحال کی؛ پہلے مرحلے میں 15 ڈیجیٹل کرنسیاں شامل تھیں۔
- 29 اکتوبر کو تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری ہوئی تھی۔
- بائننس کا کہنا ہے کہ متاثرہ رقوم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر دیا گیا ہے؛ 31 اکتوبر کو یہ شرح 90 فیصد تھی۔
- امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چوری کا ذمہ دار شمالی کوریا سے منسلک گروپ ٹریڈر ٹریٹر کو قرار دیا ہے۔
- واپسی بحال ہوتے ہی ابتدائی طور پر رقوم نکالنے میں تیزی آئی، بعد میں صورتحال مستحکم ہوئی۔
واپسی کیسے بحال ہوئی
بائننس نے یکم نومبر کو صبح 6 بجے سے 9 بجے کے درمیان پہلے مرحلے کی واپسی شروع کی۔ پہلے مرحلے میں بٹ کوائن، ایتھیریم، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن سمیت 15 کرنسیاں شامل تھیں۔ کمپنی کے شریک سربراہ رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ واپسی احتیاط سے مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے تاکہ خدمات محفوظ طریقے سے واپس آئیں۔ کمپنی نے کہا کہ وہ چوری شدہ رقوم کا مالی اثر خود اٹھائے گی، صارفین نہیں۔

6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی چوری
یہ چوری 29 اکتوبر کو ہوئی اور تقریباً 20 منٹ میں بڑی رقم منتقل ہوئی۔ بائننس نے نقصان پورا کرنے کے لیے 6 ارب 34 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کی، جس میں اس کا محفوظ اثاثہ فنڈ، فیوچر انشورنس فنڈ اور کمپنی کا اپنا خزانہ شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق تقریباً 3 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔ 31 اکتوبر کو لیے گئے ذخائر کے جائزے میں دس اثاثے مکمل طور پر محفوظ بتائے گئے، جبکہ مکمل ثبوت 3 نومبر تک آنے کی توقع ہے۔

تحقیقاتی ادارے کا موقف
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے 31 اکتوبر کو کہا کہ شمالی کوریا سے منسلک گروپ ٹریڈر ٹریٹر 29 اکتوبر کو بائننس سے 6 ارب ڈالر سے زیادہ کی ورچوئل کرنسی کی چوری کا ذمہ دار ہے۔ ادارے کے مطابق چوری شدہ رقوم کو زیادہ تر ایتھیریم میں بدلا جا رہا ہے اور مزید رقوم کو غیر مرکزی مالیاتی پلیٹ فارمز اور فوری تبادلے کی خدمات کے ذریعے منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔ ادارے نے کرپٹو کاروباروں سے کہا ہے کہ وہ شناخت شدہ پتوں سے متعلق لین دین کو روکیں۔ اس گروپ پر گزشتہ سال فروری میں بائی بٹ سے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کی چوری کا الزام بھی لگ چکا ہے۔
صارفین کا ردعمل
واپسی بحال ہوتے ہی صارفین نے بڑی تعداد میں رقوم نکالیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کو 3 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی خالص رقوم باہر گئیں۔ بائننس کے ترجمان نے کہا کہ شروع میں واپسی میں تیزی آئی، لیکن بعد میں اس میں واضح کمی آئی اور صورتحال معمول کی سطح پر مستحکم ہو رہی ہے۔

صارفین کے لیے احتیاط
بائننس نے کہا ہے کہ ہر نیٹ ورک اور ہر کرنسی کی واپسی ایک ساتھ بحال نہیں ہوگی، بلکہ حفاظتی جانچ مکمل ہونے کے بعد مرحلہ وار بحال ہوگی۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مطلوبہ کرنسی اور نیٹ ورک کی حیثیت پہلے جانچ لیں، کیونکہ بھاری طلب کے باعث واپسی میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔
متعلقہ مضامین
نتیجہ
بائننس کی واپسی کی بحالی کرپٹو صارفین کے لیے ایک اہم موڑ ہے، لیکن مکمل بحالی ابھی مرحلہ وار جاری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تحقیقات اور حفاظتی جانچ کے بعد باقی نیٹ ورکس کب بحال ہوں گے اور چوری شدہ رقوم کی واپسی کا عمل کس حد تک مکمل ہوگا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بائننس کی واپسی کب بحال ہوئی؟
یکم نومبر 2026 کو مرحلہ وار واپسی بحال ہوئی؛ پہلا مرحلہ صبح 6 سے 9 بجے کے درمیان شروع ہوا۔
کتنی رقم چوری ہوئی تھی؟
تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری ہوئی تھی۔
بائننس نے کتنی رقم پوری کی ہے؟
بائننس کے مطابق متاثرہ رقوم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر دیا گیا ہے۔
چوری کا ذمہ دار کسے قرار دیا گیا؟
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے شمالی کوریا سے منسلک گروپ ٹریڈر ٹریٹر کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
کیا تمام کرنسیوں کی واپسی بحال ہو گئی ہے؟
نہیں، واپسی مرحلہ وار بحال ہو رہی ہے؛ پہلے مرحلے میں 15 کرنسیاں شامل تھیں، باقی حفاظتی جانچ کے بعد بحال ہوں گی۔
کیا صارفین کو نقصان اٹھانا پڑے گا؟
بائننس کا کہنا ہے کہ وہ چوری شدہ رقوم کا مالی اثر خود اٹھائے گی، صارفین نہیں۔