یورپ بھر میں مہنگائی اور عوامی خدمات کی صورتحال کے خلاف احتجاج کا سلسلہ 31 اکتوبر 2026 کو بھی جاری رہا۔ فرانس میں وزارت داخلہ کے مطابق تقریباً تین لاکھ بیس ہزار افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا، جبکہ جرمنی میں نوجوانوں کی تحریک کی کال پر درجنوں شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ زیادہ تر مظاہرے پُرامن رہے، لیکن چند شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اہم نکات
- فرانس میں 31 اکتوبر کو تقریباً 150 مظاہروں میں تین لاکھ بیس ہزار افراد شریک ہوئے، جن میں پیرس میں ستر ہزار شامل تھے۔
- فرانس میں یہ لگاتار تیسرے ہفتے کے مظاہرے تھے؛ اس سے پہلے 17 اکتوبر کو پانچ لاکھ پچاس ہزار اور 24 اکتوبر کو چار لاکھ دس ہزار افراد نے حصہ لیا تھا۔
- جرمنی میں نوجوانوں کی تحریک جن زی ریگلٹ کی کال پر درجنوں شہروں میں مظاہرے ہوئے۔
- فرانس میں 565 گرفتاریاں رپورٹ ہوئیں؛ جرمنی کے فرینکفرٹ میں دکانوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات آئیں۔
- طلبہ نے 3 اور 5 نومبر کو مزید احتجاج اور اسکولوں و جامعات کی بندش کا اعلان کیا ہے۔
فرانس میں تیسرے ہفتے کے مظاہرے
فرانس میں مظاہروں کا آغاز تقریباً ایک ماہ قبل پیرس کے مضافات میں ایک ہائی اسکول میں اسکولوں کی صورتحال پر ہوا تھا، جو آگے چل کر مہنگائی اور عوامی خدمات کے مسئلے میں بدل گیا۔ 31 اکتوبر کو پیرس میں ستر ہزار افراد نے شہر کے مرکز سے بچتے ہوئے مضافاتی سڑکوں پر مارچ کیا، جن میں بعض افراد ہالووین کے لباس میں بھی تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

جھڑپیں کہاں ہوئیں
وزارت داخلہ کے مطابق زیادہ تر مظاہرے اپنے اعلان کردہ راستوں میں پُرامن رہے، لیکن بعض شہروں میں جلوس کے آخر میں موجود شدت پسند عناصر نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ایک پولیس اہلکار پر پیٹرول بم حملے کو غیر معمولی تشدد قرار دیا۔ بورڈو، ٹولوز، رین، لیل، نانٹ، مارسیلز اور لیون سمیت کئی شہروں میں جھڑپوں کی اطلاعات آئیں۔
جرمنی میں نوجوانوں کا احتجاج
جرمنی میں مظاہروں کی قیادت نوجوانوں کی تحریک جن زی ریگلٹ نے کی، جس کا مطالبہ تعلیم، صحت، ماحولیات اور سستی زندگی ہے۔ منتظمین کے مطابق جرمنی بھر میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد نے حصہ لیا۔ برلن، فرینکفرٹ، کولون اور میونخ سمیت بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں مجموعی طور پر 18 ہزار تک مظاہرین گنے گئے۔

فرینکفرٹ میں کشیدگی
فرینکفرٹ میں شام کے وقت صورتحال کشیدہ ہوئی، جہاں دکانوں کے شیشے توڑے گئے اور پولیس نے پانی کی توپیں استعمال کیں۔ جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ پُرامن مظاہروں کو شدت پسند عناصر نے یرغمال بنایا۔ ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ نے کہا کہ فرینکفرٹ میں تقریباً 100 شناخت شدہ شدت پسند مظاہرے میں شامل ہوئے۔ منتظمین نے پُرامن احتجاج کی اپیل کی تھی۔
دیگر یورپی ممالک
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہزاروں افراد نے کرایوں سے متعلق بل کے خلاف مارچ کیا، جس کے بارے میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس سے رہائش کا بحران مزید بڑھے گا۔ اٹلی میں ٹورن، بولوگنا اور میلان سمیت شہروں میں طلبہ اور مزدوروں نے مہنگائی، کم اجرتوں اور ناقابل برداشت رہائش کے خلاف احتجاج کیا۔ البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں بھی احتجاج ہوا۔

آگے کیا ہوگا
طلبہ نے منگل اور جمعرات کو ہائی اسکولوں اور جامعات کی بندش کا اعلان کیا ہے، جبکہ 5 نومبر کو ٹریڈ یونینوں کے مظاہرے کی کال بھی دی گئی ہے۔ فرانس میں مظاہرین کی تعداد پچھلے ہفتوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، لیکن مطالبات وہی ہیں: مہنگائی پر قابو، تعلیم میں بہتری اور عوامی خدمات کی بحالی۔
متعلقہ مضامین
نتیجہ
31 اکتوبر کے مظاہروں نے دکھایا کہ مہنگائی اور عوامی خدمات کا مسئلہ یورپ میں نوجوانوں سمیت وسیع طبقے کی تشویش بن چکا ہے۔ زیادہ تر مظاہرے پُرامن رہے، لیکن چند مقامات پر تشدد نے اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ پُرامن احتجاج کو کشیدگی سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
فرانس میں 31 اکتوبر کو کتنے افراد نے مظاہرہ کیا؟
فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق تقریباً تین لاکھ بیس ہزار افراد نے حصہ لیا، جن میں پیرس میں ستر ہزار شامل تھے۔
یہ مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
مظاہرین مہنگائی، تعلیم میں کمی، عوامی خدمات کی خرابی اور رہائش کی قیمتوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
جرمنی میں مظاہروں کی قیادت کس نے کی؟
جرمنی میں نوجوانوں کی تحریک جن زی ریگلٹ نے مظاہروں کی کال دی تھی۔
فرانس میں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟
رپورٹوں کے مطابق فرانس میں 565 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک اور بیان میں شام چھ بجے تک 296 حراستیں بتائی گئیں۔
آگے مزید احتجاج کب متوقع ہے؟
طلبہ نے 3 اور 5 نومبر کو بندش کا اعلان کیا ہے اور 5 نومبر کو ٹریڈ یونینوں کا مظاہرہ بھی طے ہے۔