چین نے جاپانی کمپنی سافٹ بینک کی جانب سے سوئس کمپنی اے بی بی کے روبوٹکس شعبے کی خریداری کا پانچ اعشاریہ چار ارب ڈالر کا معاہدہ روک دیا ہے۔ اس فیصلے سے سافٹ بینک کے سربراہ کی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو جوڑنے کی بڑی منصوبہ بندی کو دھچکا لگا ہے۔ اسی دن چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کے حصص سے نکل کر دیگر شعبوں کی طرف رخ کیا۔
اہم نکات
- چین نے سافٹ بینک کے پانچ اعشاریہ چار ارب ڈالر کے اے بی بی روبوٹکس معاہدے کو منظوری دینے سے انکار کر دیا۔
- اے بی بی نے 5 نومبر کو تصدیق کی کہ چینی حکام نے اس لین دین کو روک دیا ہے۔
- سافٹ بینک کے حصص ٹوکیو میں تقریباً پانچ فیصد گر گئے جبکہ اے بی بی کے حصص دو فیصد کم ہوئے۔
- کوالکوم کے حصص نو فیصد گر گئے کیونکہ میموری کی قلت نے فون چپ کی فروخت کو متاثر کیا۔
- چپ ڈیزائنر آرم کے حصص بھی نو فیصد گرے، حالانکہ اس کی آمدنی میں 27 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
- جنوبی کوریا کی منڈی تقریباً چار اعشاریہ 8 فیصد گر گئی جبکہ امریکی ڈاؤ انڈیکس ایک ہزار پانچ سو ستر پوائنٹس بڑھا۔
معاہدہ کیوں رکا؟
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا کہ چین کے قومی ترقیاتی و اصلاحاتی کمیشن نے سافٹ بینک کو بتایا کہ وہ اس معاہدے کی اجازت نہیں دے گا۔ بعد میں اے بی بی نے بھی تصدیق کی کہ چین کے غیر ملکی سرمایہ کاری سلامتی جائزہ دفتر نے ملک میں اے بی بی روبوٹکس کے کاروبار کی خریداری پر پابندی لگا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی حکام کو تشویش تھی کہ روبوٹکس یونٹ سے حاصل ہونے والا عملی ڈیٹا ملک سے باہر منتقل ہو کر حریف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں استعمال ہو سکتا ہے۔ چین اے بی بی کے روبوٹکس کاروبار کی سب سے بڑی منڈی ہے اور اس یونٹ میں سات ہزار سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں۔ سافٹ بینک نے اکتوبر 2025 میں اس کاروبار کو تقریباً پانچ اعشاریہ 375 ارب ڈالر میں خریدنے پر اتفاق کیا تھا اور یورپی یونین نے مارچ میں اسے بغیر شرط منظوری دے دی تھی۔

دونوں کمپنیاں کیا کہتی ہیں؟
اے بی بی کا کہنا ہے کہ دونوں کمپنیاں لین دین پر تعمیری انداز میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک کسی کمپنی نے باضابطہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ سافٹ بینک یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ منظوری کیوں نہیں ملی اور کیا وہ دوبارہ درخواست دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ چین نے حساس ٹیکنالوجی کے معاہدے میں مداخلت کی ہو۔ حالیہ مہینوں میں چین نے میٹا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی نئی کمپنی مینس کی دو ارب ڈالر میں خریداری کو بھی سلامتی جائزے کے بعد روکا تھا۔
چپ کے حصص میں گراوٹ
اسی دوران چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں بھی بڑی کمی آئی۔ کوالکوم کے حصص نو فیصد گر گئے۔ کمپنی نے چوتھی سہ ماہی کی توقع سے بہتر آمدنی ظاہر کی تھی، لیکن میموری کی قلت کی وجہ سے فون چپ کی فروخت متاثر ہوئی اور آئندہ کی آمدنی کی پیش گوئی کمزور رہی۔
چپ ڈیزائنر آرم کے حصص بھی نو فیصد گر گئے، حالانکہ اس کی آمدنی میں 27 فیصد اضافہ ہوا تھا، کیونکہ آئندہ سہ ماہی کی رہنمائی سرمایہ کاروں کی توقع سے کم رہی۔ ایشیا میں جنوبی کوریا کی منڈی تقریباً چار اعشاریہ 8 فیصد گر گئی اور تجارت عارضی طور پر روکنا پڑی، جبکہ جاپان کی نکی انڈیکس تقریباً ڈیڑھ فیصد کم ہوا۔ دوسری جانب چین کی شنگھائی منڈی تقریباً تین اعشاریہ 6 فیصد بڑھی۔
سرمایہ کاروں کا رخ کیوں بدلا؟
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت اور چپ کے حصص سے نکل کر دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ اسی وجہ سے ڈاؤ انڈیکس ایک ہزار پانچ سو ستر پوائنٹس بڑھ گیا، حالانکہ ٹیکنالوجی کے حصص دباؤ میں رہے۔ سافٹ بینک کی اوپن اے آئی میں بڑی سرمایہ کاری بھی اس دباؤ کی ایک وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
متعلقہ مضامین
- چین نے سافٹ بینک اور اے بی بی کا معاہدہ روک دیا، چپ کے حصص گر گئے
- مصنوعی ذہانت کے دور میں 115 ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ
- مصنوعی ذہانت کی چار بڑی کمپنیوں کا مشترکہ تربیتی اشارہ
نتیجہ
چین کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت اب صرف کاروباری معاملہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بن چکے ہیں۔ سافٹ بینک اب یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ دوبارہ منظوری کی کوشش کرتا ہے یا کوئی اور راستہ اختیار کرتا ہے، جبکہ چپ کی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
عمومی سوالات
سافٹ بینک اور اے بی بی کا معاہدہ کتنا بڑا تھا؟
یہ معاہدہ تقریباً پانچ اعشاریہ چار ارب ڈالر کا تھا جس کے تحت سافٹ بینک اے بی بی کے روبوٹکس کاروبار کو خریدنا چاہتا تھا۔
چین نے معاہدہ کیوں روکا؟
رپورٹوں کے مطابق چینی حکام کو تشویش تھی کہ روبوٹکس کا عملی ڈیٹا ملک سے باہر جا کر حریف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں استعمال ہو سکتا ہے۔
کوالکوم کے حصص کیوں گرے؟
میموری کی قلت نے فون چپ کی فروخت کو متاثر کیا اور کمپنی کی آئندہ آمدنی کی پیش گوئی توقع سے کمزور رہی، جس کے بعد اس کے حصص نو فیصد گر گئے۔
کیا معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے؟
نہیں، ابھی تک کسی کمپنی نے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ دونوں کمپنیاں کہتی ہیں کہ وہ تعمیری انداز میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔