چین چاہتا ہے کہ اگلے ماہ انطالیہ میں ہونے والی کاپ31 موسمیاتی سربراہی کانفرنس میں پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو مرکزی حیثیت دی جائے، اور ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی مالیات کو مذاکرات کا محور بنایا جائے۔ یہ مطالبہ چین کے نائب وزیر ماحولیات لی گاو نے 21 اکتوبر 2026 کو بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا، جو ترکیہ میں مذاکرات کاروں کے جمع ہونے سے تین ہفتے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آیا ہے۔
لی گاو اس سربراہی اجلاس میں بھی چینی وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی موسمیاتی نظام اب قواعد بنانے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ان پر عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کاپ31 کو ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر معیشتوں، کو پیرس معاہدے کے تحت اپنے قومی اہداف پورے کرنے میں مدد دینی چاہیے۔ چین کاپ31 موسمیاتی مالیات کا یہ پیغام اس لیے وعدوں کی تکمیل کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے، نہ کہ نئے وعدوں کا اعلان۔
چین کاپ31 موسمیاتی مالیات: مرکز میں مالیاتی نقشہ
چین کے موقف کا مرکز وہ مالیاتی نقشہ ہے جو 2024 میں طے پانے والے ہدف سے جڑا ہے: ترقی یافتہ ممالک کو 2035 تک ترقی پذیر دنیا کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر کی موسمیاتی مالیات فراہم کرنی ہے۔ چین چاہتا ہے کہ کاپ31 میں اس ہدف تک پہنچنے کے طریقہ کار پر تفصیلی بات چیت ہو، اور موافقت کے لیے مالیات کو تین گنا کیا جائے تاکہ کمزور ممالک ان موسمیاتی اثرات کے لیے بہتر تیاری کر سکیں جو پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔
چین یہ بھی چاہتا ہے کہ سربراہی اجلاس میں منصفانہ منتقلی کے لیے ایک بین الاقوامی نظام آگے بڑھایا جائے، تاکہ ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، سبز معیشت کی طرف منتقلی کے معاشی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹ سکیں اور عالمی شمال و جنوب کے درمیان فرق کم ہو۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن اور پیرس معاہدے کے تحت تقریباً 100 ایجنڈا نکات پر بات متوقع ہے، جن میں اخراج میں کمی، موافقت، مالیات اور منصفانہ منتقلی شامل ہیں۔

پرانے مسائل اور ایک نیا مسئلہ
لی گاو نے سربراہی اجلاس کے لیے دو طرح کے چیلنج بیان کیے۔ ان کے الفاظ میں پرانے مسائل یہ ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کے اخراج میں کمی اور مالی معاونت ناکافی ہے۔ نیا مسئلہ، ان کے مطابق، یک طرفہ اقدامات اور تحفظ پسندی ہے جو عالمی اجتماعی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے، اور یہ جملہ عام طور پر صاف ٹیکنالوجی کے خلاف تجارتی اقدامات پر تنقید سمجھا جاتا ہے۔
رائٹرز کی پریس کانفرنس سے متعلق رپورٹ کے مطابق چین اخراج کم کرنے کے لیے درکار شمسی پینلوں، ہوائی ٹربائنوں، بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کا دنیا کا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے چینی شمسی مصنوعات اور برقی گاڑیوں پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں، جبکہ یورپی یونین نے گاڑیوں پر اسی طرح کے محصولات لگائے ہیں، بعض شمسی اجزا پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ایک بڑی چینی ہوائی توانائی کمپنی کے خلاف غیر منصفانہ تجارت کی تحقیقات کر رہی ہے۔
تجارت، ٹیکنالوجی اور سبز مصنوعات کی آزاد نقل و حرکت
اس پس منظر میں لی گاو نے کہا کہ کاپ31 کو موسمیات سے متعلق تجارتی امور پر زیادہ مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور سبز و کم کاربن ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی آزاد نقل و حرکت کی حمایت کرنی چاہیے۔ رائٹرز کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین اپنے خلاف الزامات یا حملوں کا مضبوط جواب دے گا۔
رائٹرز کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا چین بجلی کاری سے متعلق عالمی معاہدے کے لیے ترکیہ کی کوشش کی حمایت کرتا ہے، تو لی گاو نے کہا کہ یہ مقصد چینی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، لیکن انہوں نے اس کی واضح حمایت سے گریز کیا۔ یہ تبادلہ ظاہر کرتا ہے کہ انطالیہ مذاکرات میں میزبان ملک کے اقدامات اور بڑی معیشتوں کے مذاکراتی موقف کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا۔
انطالیہ میں کیا ہوگا
کاپ31، اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن کے فریقین کی 31 ویں کانفرنس، 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہوگی، اور عالمی رہنماؤں کا اجلاس 11 اور 12 نومبر کو طے ہے۔ ترکیہ کاپ کی صدارت کرے گا اور عملی ایجنڈے کی قیادت کرے گا، جبکہ آسٹریلیا رسمی مذاکرات کی قیادت کرے گا، اور یہ انتظام دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی شراکت کے تحت ہے۔
ترکیہ کی صدارت نے کاپ31 کو ایک عملی کانفرنس قرار دیا ہے، جس کا مقصد موجودہ وعدوں کو ٹھوس اور قابل پیمائش نتائج میں بدلنا ہے۔ اس کے اعلان کردہ اقدامات میں 2035 تک عالمی حتمی توانائی کھپت میں بجلی کا حصہ 35 فیصد تک بڑھانا، عمارتوں میں توانائی کی شدت کم از کم 25 فیصد کم کرنا اور عالمی فضلہ پیدا ہونے کی شرح نمو کو آدھا کرنا شامل ہے۔ ترکیہ کے عملی نقطہ نظر سے متعلق خبر ترکیہ کاپ31 کو عملی کانفرنس قرار دیتا ہے میں پڑھی جا سکتی ہے، اور یورپی پارلیمنٹ کے کاپ31 مینڈیٹ کی خبر یورپی پارلیمنٹ کا کاپ31 مینڈیٹ میں موجود ہے۔
اہم نکات
- کاپ31 ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر 2026 تک ہوگی، اور رہنماؤں کا اجلاس 11 اور 12 نومبر کو ہوگا۔
- چینی وفد کی قیادت ایک بار پھر نائب وزیر ماحولیات لی گاو کریں گے۔
- چین 2035 تک سالانہ 300 ارب ڈالر کے موسمیاتی مالیاتی ہدف کا نقشہ اور موافقت کی مالیات کو تین گنا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
- چین منصفانہ منتقلی کا نظام اور سبز و کم کاربن ٹیکنالوجی کی آزاد تجارت بھی چاہتا ہے۔
- ترکیہ کاپ کی صدارت کرے گا اور عملی ایجنڈے کی قیادت کرے گا، جبکہ آسٹریلیا مذاکرات کی قیادت کرے گا۔
عمومی سوالات
کاپ31 کب اور کہاں ہوگی؟
کاپ31 ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر 2026 تک طے ہے، اور عالمی رہنماؤں کا اجلاس 11 اور 12 نومبر کو ہوگا۔
چین کاپ31 سے کیا چاہتا ہے؟
چین چاہتا ہے کہ سربراہی اجلاس موجودہ وعدوں پر عمل درآمد پر توجہ دے، اور موسمیاتی مالیاتی نقشے، موافقت کی مالیات، منصفانہ منتقلی کے نظام اور موسمیات سے متعلق تجارت پر مکالمے پر تفصیلی کام ہو۔
300 ارب ڈالر کا مالیاتی ہدف کیا ہے؟
یہ وہ ہدف ہے جو 2024 میں طے پایا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک 2035 تک ترقی پذیر دنیا کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر کی موسمیاتی مالیات فراہم کریں گے۔ چین چاہتا ہے کہ کاپ31 اس تک پہنچنے کا تفصیلی نقشہ طے کرے۔
تجارت موسمیاتی بحث کا حصہ کیوں ہے؟
چین کا موقف ہے کہ صاف ٹیکنالوجی پر محصولات اور پابندیاں اجتماعی موسمیاتی کارروائی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے بعض چینی صاف ٹیکنالوجی مصنوعات پر محصولات یا پابندیاں عائد کی ہیں۔
کاپ31 مذاکرات کی قیادت کون کرے گا؟
ترکیہ اور آسٹریلیا کی شراکت کے تحت ترکیہ کاپ کی صدارت کرے گا اور عملی ایجنڈے کی قیادت کرے گا، جبکہ آسٹریلیا رسمی مذاکرات کی قیادت کرے گا۔