انگلستان اور ویلز میں 26 اکتوبر 2026 سے ریسپیکٹ آرڈرز نافذ ہو گئے ہیں، جو مسلسل سماج دشمن رویے سے نمٹنے کے لیے پولیس، کونسلوں اور ہاؤسنگ اداروں کو نئے اور سخت اختیارات دیتے ہیں۔ یہ نئے عدالتی احکامات جرائم اور پولیسنگ ایکٹ 2026 کے تحت متعارف کرائے گئے ہیں اور بالغ افراد کے خلاف پرانے سول حکم ناموں کی جگہ لیں گے۔
اہم نکات
ریسپیکٹ آرڈر ایک سول عدالتی حکم ہے جو 18 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ان افراد کے خلاف جاری کیا جا سکتا ہے جن کا رویہ دوسروں کے لیے ہراسانی، خوف یا پریشانی کا باعث بنے۔ عدالتیں مجرموں کو شہر کے مراکز یا عوامی مقامات میں داخلے سے روک سکتی ہیں، عوامی مقامات پر شراب نوشی سے منع کر سکتی ہیں، کرفیو یا بلا معاوضہ کام کی شرط لگا سکتی ہیں، اور منشیات یا شراب کے علاج یا غصے پر قابو کے پروگرام میں شرکت کا حکم دے سکتی ہیں۔ حکم کی خلاف ورزی اب فوجداری جرم ہوگی جس پر دو سال تک قید کی سزا ہو سکے گی۔
کون درخواست دے سکتا ہے
ریسپیکٹ آرڈر کے لیے پولیس، مقامی کونسلیں، ہاؤسنگ ایسوسی ایشنز اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ احکامات پولیس نیشنل کمپیوٹر پر درج ہوں گے تاکہ افسران موقع پر جانچ سکیں کہ کوئی شخص حکم کا پابند ہے یا نہیں۔ پرانے نظام کے برعکس نئے احکامات صرف پابندی نہیں لگاتے، بلکہ مجرموں کو اپنے رویے کی وجوہات دور کرنے کے لیے مثبت اقدامات کا بھی پابند بناتے ہیں، جیسے علاج یا تربیتی پروگرام میں شرکت۔

انگریزی قصبوں کی مرکزی سڑکیں اور بازار وہ مقامات ہیں جہاں سماج دشمن رویہ مقامی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔
وزیر اور مقامی نمائندوں کا ردعمل
پولیسنگ کی وزیر سارہ جونز نے نفاذ سے پہلے ہیمل ہیمپسٹیڈ کا دورہ کیا اور مقامی شراکت داروں سے سنا کہ نئے اختیارات کس طرح استعمال ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار سماج دشمن رویے کے مرتکب افراد سب کی زندگی مشکل بنا دیتے ہیں اور نئے اختیارات پولیس، کونسلوں اور ہاؤسنگ اداروں کو ایسی شرائط لگانے کا موقع دیں گے جن کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ہیمل ہیمپسٹیڈ کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ ٹیلر نے بتایا کہ سماج دشمن رویہ ان کے حلقے کے کام کا تقریباً دسواں حصہ ہے، جس میں اونچی موسیقی، خلل ڈالنے والی گاڑیاں اور پیدل چلنے والوں کے علاقوں میں سائیکل چلانا شامل ہے۔
کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر
ہرٹفورڈشائر کے پولیس و کرائم کمشنر جوناتھن ایش ایڈورڈز نے نئے اقدامات کا خیرمقدم کیا، لیکن خبردار کیا کہ ان کی کامیابی کا انحصار عدالتوں اور پولیس کے فوری عمل پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو درخواستیں تیزی سے نمٹانی ہوں گی اور خلاف ورزی پر فوجداری نظام کو کارروائی کرنی ہوگی۔ پولیس کے مطابق ہرٹفورڈشائر پولیس نے پہلے ہی ایسے افراد کی نشاندہی کر لی ہے جن کے خلاف احکامات کے لیے درخواست دی جائے گی۔ قومی پولیس سربراہان کونسل کی رہنما کیتھرین ایکیہرسٹ نے کہا کہ یہ نیا ذریعہ بار بار جرم کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی اور بحالی کو ترجیح دے گا۔
بچوں کے لیے الگ نظام
اسی تاریخ سے 10 سے 17 برس کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے پرانے سول حکم ناموں کا نام یوتھ انجکشن رکھ دیا گیا ہے، جبکہ بالغ افراد کے لیے ریسپیکٹ آرڈر ہوگا۔ اس کے ساتھ کمیونٹی تحفظ کے نوٹس اور عوامی مقامات کے تحفظ کے احکامات کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ سزائیں بھی بڑھا دی گئی ہیں، اور منتشر کرنے کے احکامات و بندش کے نوٹس کی مدت بھی بڑھائی گئی ہے۔
متعلقہ مضامین
برطانیہ میں طوفان بوئیلو کی تباہی
برطانوی بجٹ میں بینکوں کے لیے اقدامات
نتیجہ
ریسپیکٹ آرڈرز کا نفاذ انگلستان اور ویلز میں سماج دشمن رویے کے خلاف پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے۔ حکومت کا مقصد صرف سزا نہیں، بلکہ بار بار ہونے والے رویے کی وجوہات کو دور کر کے متاثرہ برادریوں کو دیرپا سکون دینا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ عدالتیں اور پولیس ان اختیارات کو کتنی تیزی اور مستقل مزاجی سے استعمال کرتی ہیں۔