عالمی ادارہ صحت نے 20 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی اپنی نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کینسر، دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں کا بوجھ دنیا بھر میں سب لوگوں پر برابر نہیں پڑتا۔ رپورٹ کے مطابق کسی شخص کی آمدنی، تعلیم، رہائش، صاف ہوا تک رسائی اور قریبی کلینک کی دوری یہ طے کرتی ہے کہ وہ بیمار کب ہوگا اور اس کا علاج کب اور کیسے ہوگا۔
اہم نکات
رپورٹ کا نام غیر متعدی امراض اور ان کے خطرات میں عدم مساوات کی حالت ہے۔ یہ چار بڑی بیماریوں یعنی کینسر، دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں، پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں اور ذیابیطس کے ساتھ پانچ بڑے خطرات یعنی تمباکو اور شراب کا استعمال، موٹاپا اور غیر صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی اور فضائی آلودگی کا جائزہ لیتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اسے ملکوں کے اندر عدم مساوات کا اب تک کا سب سے جامع عالمی جائزہ قرار دیتا ہے۔ رپورٹ کے ساتھ ایک وکالتی خلاصہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں حکومتوں کے لیے عملی سفارشات دی گئی ہیں۔
دیہی علاقوں میں تشخیص اور علاج کی کمی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جغرافیائی فرق صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بلڈ پریشر کی تشخیص اور کینسر کی اسکریننگ تک شہری علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رسائی حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری اکثر دیر سے پکڑی جاتی ہے، جب علاج مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی اوسط بہتر ہونے کے باوجود کچھ آبادیاں پیچھے رہ سکتی ہیں، اس لیے پالیسی بناتے وقت ملک کے اندر کے فرق کو دیکھنا ضروری ہے۔
صنف اور عمر کا کردار
صنف اور عمر بھی بیماری کے خطرے اور علاج میں فرق پیدا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلڈ پریشر کے شکار مردوں کی تشخیص اور علاج خواتین کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، حالانکہ مرد تمباکو اور شراب زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف موٹاپا خواتین میں زیادہ عام ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں۔ عمر، معذوری، نقل مکانی کی حیثیت اور سماجی پسماندگی بھی خطرہ بڑھانے والے اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

پارک میں صبح کی سیر اور ورزش دل کی بیماریوں اور ذیابیطس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی سفارشات
عالمی ادارہ صحت نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ تمباکو، شراب اور میٹھے مشروبات پر صحت سے متعلق ٹیکس بڑھائیں، کیونکہ یہ اقدامات کم آمدنی والے لوگوں میں خاص طور پر مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں محروم آبادیوں کے لیے بیمہ یا سبسڈی کے خصوصی انتظامات اور قومی صحت کے نظام میں عدم مساوات کے اشارے شامل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ روک تھام اور علاج کی سہولتیں ان لوگوں تک پہنچیں جو سب سے زیادہ پیچھے ہیں۔
موسمیاتی منصوبوں میں صحت کا ذکر
اسی ہفتے عالمی ادارہ صحت کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ 140 فریقوں میں سے 128 یعنی 91 فیصد نے اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں میں صحت کا ذکر کیا ہے، لیکن صحت کے فوائد کو ناپنے والے فریق صرف چار رہے۔ صحت کے فوائد کو پہچاننے والے فریقوں کا تناسب 2020 میں 10 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 30 فیصد اور اب 59 فیصد ہو گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صحت اور موسمیاتی عمل کے ربط کو تسلیم تو کیا جا رہا ہے، مگر قابل پیمائش وعدے ابھی کم ہیں۔
متعلقہ مضامین
ہلکی زندگی: مرمت، دوبارہ استعمال اور کم خوراک کا ضیاع
غیر محفوظ خوراک اور صحت کے خطرات
نتیجہ
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کا پیغام واضح ہے: دائمی بیماریوں سے لڑنے کے لیے صرف اوسط اعداد بہتر کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ فائدہ کس تک پہنچ رہا ہے اور کون پیچھے رہ گیا ہے۔ صحت کے ٹیکس، ہدف شدہ سبسڈی اور بہتر اعداد و شمار کے ذریعے حکومتیں اس فرق کو کم کر سکتی ہیں اور روک تھام و علاج کو سب کے لیے برابر بنا سکتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
غیر متعدی امراض کون سی بیماریاں ہیں؟
غیر متعدی امراض وہ دائمی بیماریاں ہیں جو ایک شخص سے دوسرے کو نہیں لگتیں، جن میں کینسر، دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں اور ذیابیطس شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں عدم مساوات سے کیا مراد ہے؟
عدم مساوات سے مراد ملک کے اندر مختلف آبادیوں کے درمیان بیماری کے خطرے، تشخیص اور علاج تک رسائی میں فرق ہے، جو آمدنی، تعلیم، علاقے اور سماجی حیثیت سے جڑا ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے حکومتوں کو کیا مشورہ دیا ہے؟
ادارے نے تمباکو، شراب اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے، محروم آبادیوں کے لیے سبسڈی اور صحت کے نظام میں عدم مساوات کے اشارے شامل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔