ایتھوپیا گرین لیگیسی شجرکاری کے تحت 2019 سے اب تک 47 ارب سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں، اور اس مہم کا ہدف 2030 تک 50 ارب پودے لگانا ہے۔ اکتوبر 2026 میں اس مہم پر تازہ رپورٹنگ نے ایک اہم سوال کو پھر سامنے لا دیا ہے: اربوں پودے لگانا ایک کامیابی ہے، لیکن ان کا زندہ رہ کر جنگل بننا اصل امتحان ہے۔
گرین لیگیسی نامی یہ مہم 2019 میں شروع ہوئی تھی اور اس میں کروڑوں ایتھوپیائی شہریوں نے حصہ لیا ہے، جن میں کسان، سرکاری ملازمین، اسکولوں کے بچے اور مذہبی تنظیمیں شامل ہیں۔ سرکاری اعداد کے مطابق اگست 2026 میں ایک ہی دن میں 26.6 ملین افراد نے 800 ملین پودے لگائے، جو پچھلے سال کے 714.7 ملین پودوں کے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
جنگلات کی ایک صدی کی تباہی پر قائم مہم
بیسویں صدی کے آغاز میں ایتھوپیا کا تقریبا 35 سے 40 فیصد رقبہ جنگلات سے ڈھکا تھا۔ کھیتی، چراگاہوں، ایندھن اور تعمیر کے لیے درخت کاٹے گئے تو 1989 تک جنگلات کا رقبہ 3 فیصد سے بھی کم رہ گیا، اور پہاڑی علاقوں سے ہر سال تقریبا ایک ارب میٹرک ٹن زرخیز مٹی بہہ جاتی تھی۔
1970 اور 1980 کی دہائیوں کے قحط کے بعد حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے مٹی اور پانی کے تحفظ، سیڑھی نما کھیتوں اور شجرکاری پر بھاری سرمایہ کاری کی۔ گرین لیگیسی نے 2019 میں اس کام کو قومی مہم بنا دیا۔ 2024 میں حکومت نے گرین لیگیسی اور زمین کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا، جس میں سالانہ وفاقی بجٹ کا 0.5 سے ایک فیصد، یعنی تقریبا 73 سے 145 ملین ڈالر، مختص کیے گئے۔
زمین کی خرابی سے ایتھوپیا کو اب بھی ہر سال تقریبا 4.3 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، کیونکہ فصلیں کم ہوتی ہیں اور کسانوں کی آمدنی گھٹتی ہے۔ 100 ملین سے زیادہ ایتھوپیائی شہری اپنی روزی کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔
ایتھوپیا گرین لیگیسی شجرکاری میں بحالی کی ابتدائی علامات
سرکاری اعداد کے مطابق قومی جنگلات کا رقبہ 2019 میں 17.2 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 23.6 فیصد ہو گیا، اور بحال شدہ علاقوں میں مٹی کے کٹاؤ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ 2013 سے 2023 کے دوران سالانہ جنگلات کی کٹائی کی شرح 350 مربع میل سے زیادہ سے کم ہو کر تقریبا 100 مربع میل رہ گئی۔
جہاں بحالی ہوئی ہے وہاں جنگلی حیات بھی واپس آ رہی ہے۔ ابیجاتا شالا نیشنل پارک میں دوبارہ پودے لگانے، سیڑھی نما بندوں اور مٹی کی چھوٹی دیواروں سے پانی زمین میں جذب ہونے لگا، جھیلوں کی سطح بلند ہوئی، اور مچھلیوں، پرندوں، غزالوں اور جنگلی کتوں کی تعداد ان علاقوں میں بڑھ گئی جہاں وہ کم ہو گئے تھے۔ یہ بات ایتھوپیا کی جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے کے سربراہ نے بتائی ہے۔
کسانوں کے لیے یہ تبدیلی ذاتی ہے۔ گوراگے زون کے 32 سالہ کسان نیکو ارگانے کی ڈھلوان زمین نالوں سے کٹ گئی تھی۔ 2019 سے انہوں نے اپنے کھیتوں کے کناروں پر گھاس، چارہ اور درخت لگائے ہیں، اور ان کی جو کی فصل تقریبا 1800 پاؤنڈ فی ایکڑ سے بڑھ کر تقریبا 3200 پاؤنڈ فی ایکڑ ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خراب زمین کی بحالی صرف ماحول کی حفاظت نہیں، بلکہ ان کے خاندان اور برادری کی زندگی بہتر بنانا ہے۔

پودا لگانا جنگل بننا نہیں ہے
محققین اعداد کی چمک کے بارے میں احتیاط کی تلقین کرتے ہیں۔ ایشیا میں جنگلات کی بحالی کے 176 منصوبوں پر 2022 کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ تقریبا آدھے لگائے گئے درخت پانچ سال زندہ نہ رہ سکے۔ صرف درخت جنگل نہیں بناتے: گھاس اور دوسری نباتات کی واپسی، مٹی اور پانی کا تحفظ، اور مقامی برادریوں کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔
نیدرلینڈ کی ویگننگن یونیورسٹی کے محقق آد کیسلر کا کہنا ہے کہ جنگلات کی بحالی سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے اور یہ تقریبا ہمیشہ ناکام ہو جاتی ہے، لیکن ایتھوپیا کی مہم اتنی بڑی ہے کہ اگر 30 فیصد درخت بھی زندہ رہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
ایتھوپیا کے بعض محققین کا کہنا ہے کہ مہم کی رفتار نے پودوں کی دیکھ بھال کے نظام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مہم کے دیگر ذمہ دار اس سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کے جنگلات اور زراعت کے ماہرین کسانوں کے کھیتوں میں جا کر انہیں پودے لگانے کی گہرائی، مٹی کے تحفظ کے ڈھانچوں اور درختوں کو کاٹنے کے بجائے محفوظ رکھنے کی تربیت دیتے ہیں۔
جنوبی ایتھوپیا میں 2023 میں لگائے گئے 44 ہزار 500 سے زیادہ پودوں پر 2026 کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ تقریبا 80 فیصد پودے زندہ رہے، اور تربیت یافتہ افراد کے لگائے گئے اور برسات کے موسم میں لگائے گئے پودوں کی بقا زیادہ تھی۔ ہمبو اور بولوسو سورے کے اضلاع میں شجرکاری کے ساتھ بارش کے پانی کو روکنے والے چھوٹے بند اور نیم چاند نما گڑھے بھی بنائے گئے ہیں تاکہ پانی زمین میں جذب ہو سکے۔
اہم نکات
- 2019 سے ایتھوپیا میں 47 ارب سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں، جبکہ 2030 تک 50 ارب پودوں کا ہدف ہے۔
- اگست 2026 میں ایک ہی دن میں 26.6 ملین افراد نے 800 ملین پودے لگائے، یہ سرکاری اعداد ہیں۔
- سرکاری اعداد کے مطابق جنگلات کا رقبہ 2019 میں 17.2 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 23.6 فیصد ہو گیا۔
- 44 ہزار 500 سے زیادہ پودوں پر تحقیق میں تقریبا 80 فیصد بقا پائی گئی، تربیت اور برسات کے موسم میں لگانے سے بقا زیادہ تھی۔
- زمین کی خرابی سے ایتھوپیا کو ہر سال تقریبا 4.3 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
بدلتی آب و ہوا نے امتحان اور سخت کر دیا ہے
ایتھوپیا اپنے جنگلات اور مٹی کی بحالی میں مصروف ہے، لیکن آب و ہوا کی تبدیلی ان مناظر کے لیے حالات بدل رہی ہے۔ آئی پی سی سی کا اندازہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت بڑھنے سے مشرقی افریقہ میں بارشیں زیادہ شدید اور بار بار ہوں گی۔ جولائی 2024 میں گیزے گوفا ضلع میں شدید بارش سے دو زمینی تودے گرے جن میں کم از کم 257 افراد ہلاک ہوئے۔
بارشوں میں تاخیر نے ملک کے بعض حصوں میں پودے لگانے کو بھی متاثر کیا ہے۔ خشک سالی سے متاثرہ امہارا علاقے کے 65 سالہ کسان بیلینہ مامو اس سال اگست تک کوئی فصل نہ لگا سکے، جب موسم کی پہلی بارش آئی۔ عفار اور صومالی کے خشک علاقوں میں مہم خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام پر توجہ دیتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ آج لگائے گئے درخت کئی دہائیوں بعد کے حالات برداشت کر سکیں گے یا نہیں۔
ایتھوپیا کا تجربہ ہر بڑی شجرکاری مہم کے لیے ایک سبق ہے: لگائے گئے پودوں کی تعداد سرخیاں بناتی ہے، لیکن تربیت، پانی، مٹی کی دیکھ بھال اور بعد کی نگرانی ہی فیصلہ کرتی ہے کہ ایک پودا جنگل بنے گا یا نہیں۔ شجرکاری کی ایک اور مہم کے بارے میں یہاں پڑھیں: کینیا کی کیامبو شجرکاری مہم۔
نتیجہ
ایتھوپیا کی گرین لیگیسی مہم نے ملک کے مناظر اور نیکو ارگانے جیسے کسانوں کی زندگیاں پہلے ہی بدل دی ہیں۔ اس کا اصل امتحان کسی ایک دن لگائے گئے پودوں کی گنتی سے نہیں، بلکہ آنے والی دہائیوں میں خشک سالی اور شدید بارشوں کے دوران ان پودوں کے زندہ رہنے سے ہوگا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ایتھوپیا کی گرین لیگیسی مہم کیا ہے؟
یہ 2019 میں شروع ہونے والی ملک گیر شجرکاری اور زمین کی بحالی کی مہم ہے، جس میں کسان، سرکاری ملازمین، اسکول اور مذہبی تنظیمیں حصہ لیتی ہیں اور ملک بھر میں مفت پودے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
اب تک کتنے پودے لگائے جا چکے ہیں؟
سرکاری اعداد کے مطابق 2019 سے 47 ارب سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں، جبکہ 2030 تک 50 ارب پودوں کا ہدف ہے۔
کیا ایتھوپیا کے جنگلات کا رقبہ واقعی بڑھا ہے؟
سرکاری اعداد کے مطابق جنگلات کا رقبہ 2019 میں 17.2 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 23.6 فیصد ہو گیا، اور 2013 سے 2023 کے دوران سالانہ کٹائی کی شرح کم ہوئی۔ یہ سرکاری اعداد ہیں، اور آزاد طویل مدتی نگرانی اب بھی اہم ہے۔
کیا لگائے گئے پودے زندہ رہتے ہیں؟
بقا مختلف ہوتی ہے۔ جنوبی ایتھوپیا میں 2023 میں لگائے گئے 44 ہزار 500 سے زیادہ پودوں پر 2026 کی تحقیق میں تقریبا 80 فیصد بقا پائی گئی، جو تربیت یافتہ افراد اور برسات کے موسم میں لگانے سے زیادہ تھی، جبکہ ایشیا کے منصوبوں پر 2022 کی تحقیق میں تقریبا آدھے درخت پانچ سال زندہ نہ رہ سکے۔
ایتھوپیا کی یہ مہم باقی دنیا کے لیے کیوں اہم ہے؟
یہ مہم یہ جانچتی ہے کہ بڑے پیمانے پر عوامی شرکت، مخصوص فنڈنگ اور کسانوں کی سطح پر مشورے سے زمین کی بڑے پیمانے پر تباہی کو پلٹا جا سکتا ہے یا نہیں، اور مٹی، پانی، خوراک کی پیداوار اور کاربن کے ذخیرے پر اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ یہ سبق دنیا بھر کی بحالی کی کوششوں کے لیے اہم ہے۔