- 0
- 6 words
اسلام آباد: نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 26-2025 کی جی ڈی پی گروتھ پر نظرثانی کرتے ہوئے حتمی شرح نمو 3.7 فیصد سے گھٹا کر 3.65 فیصد کر دی ہے۔ کمیٹی کا 118 واں اجلاس سیکریٹری منصوبہ بندی کی زیر صدارت اسلام آباد میں پاکستان بیورو آف شماریات کے مرکزی دفتر میں ہوا، جس میں اپ ڈیٹ شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر قومی اکاؤنٹس کے تخمینے کی منظوری دی گئی۔
اہم نکات
- نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے 118 ویں اجلاس میں مالی سال 26-2025 کی حتمی شرح نمو 3.65 فیصد منظور، عبوری 3.7 فیصد سے کمی
- ملکی معیشت کا حجم ایک ارب 70 کروڑ ڈالر گھٹ کر 450 ارب 40 کروڑ ڈالر رہ گیا
- فی کس سالانہ آمدن پانچ ڈالر کم ہو کر ایک ہزار 896 ڈالر رہ گئی
- زرعی شعبے کی حتمی نمو 3.5، صنعتی شعبے کی 3.34 اور خدمات کے شعبے کی 3.81 فیصد رہی
- مالی سال 25-2024 کی شرح نمو بھی 3.18 سے گھٹا کر 3.11 فیصد کر دی گئی
جی ڈی پی گروتھ پر نظرثانی کی تفصیل
کمیٹی کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے، جس کے بعد معیشت کے حجم میں ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ مالی سال 26-2025 میں ملکی معیشت کا حجم 450 ارب 40 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ عبوری طور پر یہ حجم 452 ارب 10 کروڑ ڈالر بتایا گیا تھا۔ فی کس سالانہ آمدن بھی پانچ ڈالر گر کر ایک ہزار 896 ڈالر رہ گئی، جبکہ عبوری تخمینے میں یہ ایک ہزار 901 ڈالر لگائی گئی تھی۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق مالی سال 26-2025 میں زرعی شعبے کی حتمی گروتھ 3.5 فیصد رہی۔ صنعتی شعبے کی نمو 3.51 فیصد کے عبوری تخمینے کے برعکس 3.34 فیصد رہی، جبکہ خدمات کے شعبے کی ترقی 4.09 فیصد کے عبوری تخمینے کے مقابلے میں 3.81 فیصد رہی۔ اسی طرح مالی سال 25-2024 کی شرح نمو پر بھی نظرثانی کر کے اسے 3.18 فیصد سے کم کر کے 3.11 فیصد کر دیا گیا ہے۔

آخری سہ ماہی میں نمو سست پڑ گئی
کمیٹی کے منظور کردہ سہ ماہی تخمینوں کے مطابق مالی سال کے پہلے نو ماہ نمو نسبتاً مضبوط رہی، مگر آخری سہ ماہی میں معیشت کی رفتار سست پڑ گئی۔ پہلی سہ ماہی کی نمو 3.92 سے گھٹا کر 3.89 فیصد، دوسری سہ ماہی کی 4.05 سے بڑھا کر 4.31 فیصد اور تیسری سہ ماہی کی 3.99 سے بڑھا کر 4.42 فیصد کر دی گئی۔ چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی نمو محض دو فیصد رہی، جبکہ ایک سال قبل اسی مدت میں یہ 6.07 فیصد تھی۔
ماہرین کے مطابق درآمدی اعداد و شمار اور سالانہ و سہ ماہی معاشی اشاریوں کی تازہ کاری کے بعد یہ نظرثانی معمول کا حصہ ہے، تاہم آخری سہ ماہی میں صنعتی شعبے کی کمزور کارکردگی توجہ کا مرکز رہی۔
پاکستان کی معاشی خبروں اور حکومتی فیصلوں کی تازہ ترین کوریج کے لیے وزٹ کریں: وطن نیوز اردو