پاکستانی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ جمعہ، ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو پاکستان کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ یہ فلم ایک دس سالہ بچی کی کہانی ہے جو اپنے گاؤں کے بند اسکول کو دوبارہ کھلوانا چاہتی ہے۔ دنیا بھر کے فلمی میلوں میں پذیرائی حاصل کرنے کے بعد یہ فلم اب اپنے وطن کے ناظرین تک پہنچ رہی ہے، اور اس کی پاکستان آمد کا سفر عدالت کے فیصلے سے ہو کر گزرا ہے۔
اہم نکات
- پاکستانی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو پاکستان کے سینما گھروں میں ریلیز ہو رہی ہے۔
- فلم کی ہدایت کارہ برطانوی پاکستانی فلم ساز سیماب گل ہیں، اور یہ ان کی پہلی فیچر فلم ہے۔
- مرکزی کردار رابعہ کا کردار نوجوان اداکارہ نزولیا ارسلان نے ادا کیا ہے، جب کہ ان کی والدہ کے کردار میں سمینہ سحر نظر آئیں گی۔
- فلم کا عالمی پریمیئر ستمبر ۲۰۲۵ میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا تھا۔
- سندھ ہائی کورٹ نے ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کو سنسر بورڈ کی بیشتر کٹوتیاں ختم کر دیں، جس کے بعد فلم کی نمائش کی راہ ہموار ہوئی۔
- وفاقی اور پنجاب کے سنسر بورڈز نے فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے کلیئر کر دیا تھا۔
کہانی: ایک بچی کا سوال
فلم کی کہانی سندھ کے ایک گاؤں کی دس سالہ بچی رابعہ کے گرد گھومتی ہے، جسے اسکول جانا سب سے زیادہ عزیز ہے۔ ایک صبح وہ اسکول پہنچتی ہے تو دروازہ زنجیر سے بند ملتا ہے۔ گاؤں میں یہ بات پھیل جاتی ہے کہ اسکول پر کسی آسیب کا سایہ ہے، اس لیے اسے بند کر دیا گیا ہے۔ زیادہ تر بچے اس غیر متوقع چھٹی پر خوش ہوتے ہیں، مگر رابعہ مطمئن نہیں ہوتی۔
رابعہ دروازے دروازے اور دفتر دفتر جا کر سوال کرتی ہے کہ اسکول آخر کیوں بند ہے۔ اس کی تلاش میں آہستہ آہستہ یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل مسئلہ کسی مافوق الفطرت کہانی میں نہیں، بلکہ ان لوگوں کے مفادات میں چھپا ہے جو گاؤں کے نظام کو چلاتے ہیں۔ فلم کی یہی خوبی ہے کہ وہ ایک بچے کی معصوم نظر سے بڑوں کی دنیا کے پیچیدہ راز کھولتی ہے۔

’گھوسٹ اسکول‘ کا مطلب کیا ہے؟
فلم کا عنوان دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک طرف گاؤں میں یہ افواہ ہے کہ اسکول میں آسیب ہے، اور دوسری طرف ’گھوسٹ اسکول‘ اس سرکاری اسکول کو بھی کہتے ہیں جو کاغذوں میں موجود ہو، اس کی عمارت اور بجٹ بھی درج ہو، مگر عملی طور پر وہاں کوئی بچہ پڑھتا نہ ہو۔ ہدایت کارہ سیماب گل نے بتایا ہے کہ ۲۰۲۲ میں پاکستان کے دورے کے دوران سندھ اور بلوچستان میں ویران اسکولوں کی عمارتیں دیکھ کر انہیں یہ فلم بنانے کا خیال آیا۔ ان کا مقصد بچیوں کی تعلیم کی کہانی کو پردے پر لانا تھا۔
یہ مسئلہ پاکستان میں پرانا اور دستاویزی ہے۔ کئی اسکول برسوں سے بند پڑے ہیں، جب کہ ان کے اخراجات اور عملہ کاغذوں میں موجود رہتا ہے۔ فلم اسی خاموش حقیقت کو ایک بچی کی کہانی کے ذریعے ناظرین کے سامنے لاتی ہے، اور یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب اسکول کا دروازہ بند ہو جائے تو بچوں کا مستقبل کہاں جائے۔
سنسر بورڈ سے عدالت تک کا سفر
اگست ۲۰۲۶ میں سندھ بورڈ آف فلم سنسرز نے فلم کو نمائش کے لیے سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا اور صرف یہ لکھا کہ یہ فلم ’عوامی نمائش کے لیے موزوں نہیں‘، مگر کوئی تفصیلی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ہدایت کارہ نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا، کیونکہ ان کے مطابق فلم کا موضوع صرف تعلیم ہے۔ اس کے بعد فلم سازوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت کی ہدایت پر بورڈ نے ستمبر میں دوسرا فیصلہ سنایا، جس میں آٹھ کٹوتیوں کی شرط پر فلم کو عام نمائش کی کیٹیگری دینے کی پیشکش کی گئی۔ ان کٹوتیوں میں بعض الفاظ اور فلم کے آخری حصے کے دو مناظر شامل تھے۔ ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کو سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے، جس کی سربراہی جسٹس یوسف علی سعید کر رہے تھے، ان میں سے بیشتر کٹوتیاں ختم کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ بورڈ نے مختلف اعتراضات کو ایک جیسا سمجھا اور بیشتر پر کوئی وجہ نہیں دی، جب کہ وفاقی اور پنجاب کے بورڈز نے اسی ورژن کو بغیر کٹوتی پاس کر دیا تھا۔ صرف وہ ایک کٹوتی برقرار رہی جس پر فلم سازوں نے خود اتفاق کر لیا تھا۔ عدالت نے بورڈ کو دس دن میں سرٹیفکیٹ پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی۔

عالمی میلوں میں پذیرائی
’گھوسٹ اسکول‘ نے دنیا کے بڑے فلمی میلوں میں اپنا سفر ستمبر ۲۰۲۵ میں ٹورنٹو سے شروع کیا، جہاں اس کا عالمی پریمیئر ہوا اور اسے بہترین فلم کی کیٹیگری میں نامزدگی ملی۔ دسمبر ۲۰۲۵ میں یہ فلم ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی، جب کہ فروری ۲۰۲۶ میں برلن فلم فیسٹیول میں اسے گرینڈ پرکس کی نامزدگی ملی۔ مئی ۲۰۲۶ میں برطانیہ ایشین فلم فیسٹیول میں سیماب گل کو بہترین ہدایت کارہ کا ایوارڈ ملا، اور اپریل ۲۰۲۶ میں لاس اینجلس کے انڈین فلم فیسٹیول میں فلم کو جیوری کی خصوصی ستائش حاصل ہوئی۔
ناقدین نے خاص طور پر نزولیا ارسلان کی فطری اداکاری اور فلم کی عکاسی کی تعریف کی ہے۔ فلم کی سینماٹوگرافر زمرین وحدت ہیں، جن کی گاؤں کی منظر کشی کو تنقیدی حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ کاسٹ میں سمینہ سحر کے علاوہ عدنان شاہ ٹیپو بھی شامل ہیں۔ ہدایت کارہ نے یہ فلم خود اپنے وسائل سے بنائی اور اس کی تقسیم کا خرچ بھی خود برداشت کر رہی ہیں۔ فلم جرمنی کے سینما گھروں میں بھی دکھائی جا چکی ہے، اور پاکستان میں اس کی نمائش پنجاب اور سندھ میں متوقع ہے، جہاں سندھ میں حتمی سرٹیفکیٹ عدالت کے حکم کے مطابق بورڈ کے نئے فیصلے سے مشروط ہے۔
’گھوسٹ اسکول‘ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ تعلیم کے حق کی کہانی ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ جب ایک بچی سوال کرنا نہیں چھوڑتی، تو بند دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ ۳۰ اکتوبر کو سینما گھروں میں یہ فلم ان ناظرین کے لیے ایک اہم تجربہ ہو سکتی ہے جو پاکستانی سینما میں سنجیدہ، بامعنی اور سماجی موضوعات پر بنی کہانیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔
وطن نیوز کی مزید شوبز خبریں یہاں پڑھیں۔