×
پہاڑی وادی کے اوپر کیبل کار کا منظر

پاکستان کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے عالمی سینما میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے اس فلم کو ۹۹ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم منتخب کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے اس کیٹیگری میں کسی دستاویزی فلم کو اپنی نمائندگی کے لیے چنا ہو، اور یہی بات اس انتخاب کو پاکستانی سینما کی تاریخ میں ایک خاص مقام دیتی ہے۔

اس انتخاب کا اعلان کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے کینیڈا میں منعقدہ موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول کے دوران کیا، جہاں فلم کی نمائش بھی ہوئی۔ اسی میلے میں فلم کو جرأت مندانہ سینما کے لیے صبین محمود ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، جو اس کہانی کی انسانی گہرائی اور فنی معیار دونوں کی گواہی ہے۔

اہم نکات

  • ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ ۹۹ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم ہے۔
  • یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان نے اس کیٹیگری میں کسی دستاویزی فلم کا انتخاب کیا ہے۔
  • فلم کی ہدایت کاری اور تحریر محمد علی نقوی نے کی ہے، جبکہ بلال سمیع اس کی تحریر اور پروڈکشن میں شریک ہیں۔
  • فلم اگست ۲۰۲۳ میں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں پیش آنے والے کیبل کار حادثے کی کہانی بیان کرتی ہے، جس میں آٹھ افراد گہری کھائی کے اوپر پھنس گئے تھے۔
  • فلم کا عالمی پریمیئر ۲۰۲۶ کے سنڈانس فلم فیسٹیول میں ہوا، اور ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ سے یہ پیراماؤنٹ پلس پر بھی پیش کی جا رہی ہے۔
  • پاکستان میں فلم کی نمائش کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے۔

وہ دن جب پوری دنیا کی نظریں بٹگرام پر تھیں

۲۲ اگست ۲۰۲۳ کی صبح خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے بٹگرام میں ایک مقامی کیبل کار، جسے علاقے میں ڈولی کہا جاتا ہے، اسکول جانے والے بچوں اور دیگر مسافروں کو لے کر وادی عبور کر رہی تھی کہ اچانک اس کی ایک تار ٹوٹ گئی۔ کار گہری کھائی کے اوپر ہوا میں معلق رہ گئی، جس میں چھ اسکول کے بچوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک معمول کا اسکول کا سفر اچانک زندگی اور موت کی کشمکش میں بدل گیا۔

گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد، جس میں مقامی رضاکاروں اور پاک فوج کے اہلکاروں نے حصہ لیا، رات گئے تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس ریسکیو آپریشن کی خبریں اور ویڈیوز اسی دن پوری دنیا میں پھیل گئی تھیں، اور لاکھوں لوگوں نے سانس روک کر اس کی خبر لی تھی۔ ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ اسی دن کی کہانی کو پردے پر لاتی ہے — نہ صرف حادثے کو، بلکہ ان خاندانوں، بچوں اور امدادی کارکنوں کے جذبات کو بھی، جنہوں نے وہ گھنٹے ہوا میں معلق گزارے یا زمین پر بے چینی سے انتظار کیا۔

سنیما ہال میں دستاویزی فلم کی نمائش دیکھتے ناظرین
سنیما ہال میں دستاویزی فلم کی نمائش — ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے عالمی میلوں میں ناظرین کی توجہ حاصل کی ہے۔

فلم کیسے بنی

ہدایت کار محمد علی نقوی نے اس فلم میں اسی دن موقع پر موجود لوگوں کی بنائی ہوئی ویڈیوز، زندہ بچ جانے والوں کے بیانات اور سنیما کے انداز میں دوبارہ عکس بندی کو یکجا کیا ہے۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ دوبارہ عکس بندی میں وہی امدادی کارکن بھی شامل ہیں جنہوں نے اصل ریسکیو میں حصہ لیا تھا، جس سے کہانی کی سچائی اور جذباتیت مزید گہری ہو جاتی ہے۔ فلم پاکستان، امریکا اور برطانیہ کی مشترکہ پروڈکشن ہے۔

فلم کا عالمی پریمیئر ۲۰۲۶ کے سنڈانس فلم فیسٹیول میں ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلے کے دوران ہوا، جس کے بعد اسے ٹرائی بیکا، سڈنی اور سیئٹل سمیت کئی عالمی میلوں میں پیش کیا گیا۔ برطانیہ میں اس کی سینما نمائش کی ذمہ داری ڈاگ ووف نے سنبھالی، جبکہ امریکا میں ابراموراما نے اسے پیش کیا۔ ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ سے یہ فلم پیراماؤنٹ پلس پر بھی دستیاب ہے، جس سے عالمی ناظرین کی ایک بڑی تعداد تک اس کی رسائی ممکن ہوئی ہے۔

پہاڑی علاقے میں امدادی کارکن رسیوں اور سامان کے ساتھ تیاری کرتے ہوئے
پہاڑی علاقے میں امدادی تیاری کا منظر — بٹگرام ریسکیو میں مقامی رضاکاروں اور امدادی ٹیموں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کے آسکر سفر میں ایک نیا باب

پاکستان نے اس کیٹیگری میں پہلی مرتبہ ۱۹۵۹ میں فلم جمع کرائی تھی، اور اب تک بھیجی گئی فلموں میں سے کوئی بھی آسکر نامزدگی حاصل نہیں کر سکی۔ سب سے قریب کامیابی ۲۰۲۲ میں ملی، جب صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ شارٹ لسٹ تک پہنچی۔ اس تناظر میں ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کا انتخاب ایک نیا باب ہے، کیونکہ یہ پہلی دستاویزی فلم ہے جو اس کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے اس سے پہلے مختصر دستاویزی فلم کی کیٹیگری میں دو مرتبہ آسکر جیت چکی ہیں، مگر وہ ایک مختلف کیٹیگری تھی۔ ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کی اہمیت یہ ہے کہ ایک سچی پاکستانی کہانی، جو ایک دور دراز پہاڑی گاؤں سے شروع ہوئی تھی، اب دنیا کے سب سے بڑے فلمی اعزاز کی دوڑ میں ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اکیڈمی کی شارٹ لسٹ کا اعلان دسمبر میں متوقع ہے، اور پاکستانی سینما کے مداح اس لمحے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

’ہینگنگ بائی اے وائر‘ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی سب سے طاقتور کہانیاں اس کی اپنی زمین، اس کے لوگوں اور ان کی ہمت سے جنم لیتی ہیں۔ بٹگرام کے بچوں کی کہانی اب دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچ رہی ہے — اور یہی پاکستانی سینما کی اصل کامیابی ہے۔

مزید اردو خبریں اور فلموں کی تازہ معلومات کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanch0013@gmail.com

Related Posts

درختوں سے سجی سڑک، سائیکل سواروں اور پودوں سے ڈھکی عمارتوں والا سرسبز اور قابل رہائش شہر

پانچ شہروں نے پائیدار شہری ترقی کا 2026 شنگھائی ایوارڈ جیت لیا

پانچ شہروں — ادیس ابابا، سینٹیاگو دے کالی، استنبول، جنگ دے جن اور کٹووائس — نے چین کے شہر فوجو میں عالمی...

Read out all
پہاڑی علاقے میں پاکستانی سرحدی چوکی اور قومی پرچم

ڈی جی آئی ایس پی آر کا طالبان رجیم کو انتباہ: دہشت گردوں کی حمایت بند کرو ورنہ سنگین قیمت چکانا پڑے گی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان رجیم کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان...

Read out all
پشاور میں سرکاری عمارت کے سامنے پاکستان کا پرچم

شوکت یوسف زئی کا وزیراعظم کے خیبرپختونخوا پیکج پر ردعمل، بڑے پیکج کی امید ظاہر کر دی

پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم کے صوبے کے لیے اعلان کردہ پیکج پر ردعمل دیتے...

Read out all
چین صحرا شمسی پینل ہوا ٹربائن

چین کے صحرائی ہوا اور شمسی مراکز ایک سو ستاون گیگا واٹ سے تجاوز کر گئے

چین کے صحرائی ہوا اور شمسی مراکز کی مکمل صلاحیت ستمبر دو ہزار چھبیس تک ایک سو ستاون گیگا واٹ سے تجاوز...

Read out all
یورپی موسمیاتی لچک منصوبہ سیلاب سے تحفظ دریا کنارہ

یورپی یونین کا موسمیاتی لچک منصوبہ: تین ڈگری گرمی کے لیے تیاری

یورپی کمیشن نے تجویز کیا ہے کہ یورپی یونین کے تمام ستائیس ممالک تین ڈگری تک گرمی کے لیے قومی موسمیاتی لچک...

Read out all
اسلام آباد میں سرکاری عمارت کے سامنے پاکستان کا پرچم

پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی فور کی صدارت سنبھال لی

پاکستان نے یکم نومبر ۲۰۲۶ کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب...

Read out all