دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے جاری بات چیت کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت محض دو روز کے اندر بحال کرنے کا نیا منصوبہ سامنے رکھ دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد دو مرحلوں میں ہوگا، تاہم اس کی حتمی کامیابی کا انحصار واشنگٹن کے جواب پر ہے۔
اہم نکات
- ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق پہلے روز امریکہ مخصوص اقدامات کرے گا اور دوسرے روز آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا۔
- اس سے پہلے سات روز کا منصوبہ زیر غور تھا جس میں چھٹے روز راستہ کھولنے کی بات تھی، مگر قطری ثالثوں سے مشاورت کے بعد مدت گھٹا کر دو روز کر دی گئی ہے۔
- دوحہ میں بات چیت مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہی، اور ایرانی وزیر خارجہ نے اسے جاری اور آگے بڑھتا ہوا عمل قرار دیا، لیکن کسی حتمی معاہدے کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
- امریکہ نے اس منصوبے کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا ہے، اور تہران کا کہنا ہے کہ نتیجہ واشنگٹن کے جواب سے مشروط ہے۔
- سفارتی پیش رفت کی امید پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
دو روزہ منصوبہ کیا ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا ہے کہ قطر کی ثالثی میں ہونے والی گفتگو کے نتیجے میں دو روز پر مشتمل نیا خاکہ تیار ہوا ہے۔ اس خاکے کے تحت پہلے دن امریکہ کو طے شدہ اقدامات کرنا ہوں گے، جس کے بعد دوسرے دن آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول پر لانے کا مرحلہ آئے گا۔
عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا دوحہ جانا امریکی حکام سے براہ راست ملاقات کے لیے نہیں تھا، بلکہ بات چیت قطری ثالثوں کے واسطے سے آگے بڑھی ہے۔ ان کے بقول مذاکرات عمل درآمد کی سمت میں بڑھ رہے ہیں، تاہم ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل جو سات روزہ خاکہ زیر بحث تھا، اس میں آبنائے ہرمز کو چھٹے روز کھولنے کی تجویز شامل تھی۔ قطری ثالثوں سے مشاورت کے بعد اسی خاکے کو مختصر کر کے دو روز تک محدود کر دیا گیا ہے، جسے تہران کی جانب سے ایک نئی اور تیز پیش رفت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف اور عالمی ردعمل
امریکی جانب سے اس منصوبے کی باضابطہ قبولیت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے مذاکرات کو درست سمت میں آگے بڑھتا ہوا قرار دیا، مگر ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ ان باتوں پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب بحرین میں ایک سیکیورٹی فورم کے دوران ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کو عالمی معیشت پر دباؤ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، جبکہ سفارتی راستے کھلے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی اور قطری حکام کے درمیان مسلسل تیسرے روز بھی مشاورت ہوئی، جس کا مقصد جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ سفارتی پیش رفت کی امید نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کر دیا۔ کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 3.68 ڈالر یعنی 3.2 فیصد کمی کے بعد 109.75 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 3.43 ڈالر یعنی 3.3 فیصد کمی کے بعد 100.69 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر برینٹ خام تیل گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر تھا، جس کی ایک وجہ یہ خدشہ تھا کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ تاہم ہفتے کے اختتام پر کسی بڑی فوجی کارروائی کے سامنے نہ آنے اور سفارتی کوششوں کی خبروں نے قیمتوں میں فوری دباؤ کم کر دیا۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور تجارتی جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اسی لیے اس کی بحالی کو عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور بحری راستے کی صورتحال معمول پر لانا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی حتمی تصدیق اسی وقت ممکن ہوگی جب منصوبے پر عملی طور پر عمل درآمد شروع ہو جائے اور دونوں فریق اس پر متفق ہو جائیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن کے جواب پر لگی ہوئی ہیں، جو اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا دو روزہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے یا بات چیت مزید طول پکڑتی ہے۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔