اسلام آباد میں 3 نومبر 2026 کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج، جس کی مالیت 160 ارب روپے ہے، پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں قومی اور داخلی سلامتی کے امور زیر غور آئے اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی۔
اہم نکات
- وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں اعلی سطح اجلاس کی صدارت کی۔
- خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں اب تک اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
- اجلاس میں 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
- بارہ اضلاع میں امن و امان کی صورت حال اور ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کی کارکردگی زیر غور آئی۔
- وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کی۔
خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد کا جائزہ
اجلاس میں اعلی عسکری و سول حکام اور وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے مختلف شعبوں میں اب تک اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر کام کہاں تک پہنچا ہے اور اس کی رفتار کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بارہ اضلاع میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کی اب تک کی کارکردگی پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکام، صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے مزید بہتر بنائے جائیں تاکہ ترقیاتی کاموں اور امن کی بحالی کی کوششیں ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

پیکیج کا پس منظر
خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان اکتوبر 2026 میں پشاور میں ہونے والے اعلی سطح اجلاسوں کے دوران کیا گیا تھا۔ اس پیکیج کا مقصد ضم شدہ اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنا اور عوام کو بنیادی سہولتیں پہنچانا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا نے بتایا تھا کہ اس رقم کا بڑا حصہ ان علاقوں پر خرچ ہوگا جو ماضی میں محروم رہے ہیں۔
صوبے کو اس وقت دہشت گردی، بے روزگاری، کمزور انفراسٹرکچر اور ناکافی عوامی خدمات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ امن کی بحالی اور ترقیاتی کاموں کو ساتھ ساتھ چلانا ضروری ہے تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آ سکے۔
صوبے کے لیے آئندہ اقدامات
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی پیکیج کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے وفاق اور صوبے کے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو موثر کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے امور بھی اجلاس میں زیر بحث آئے۔
اجلاس کی تفصیلات ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ پیکیج کے تحت منصوبوں کی تفصیل اور ان کی تکمیل کے مراحل کے بارے میں مزید معلومات آئندہ دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔