کراچی میں دنیا کی ثقافتوں کا رنگا رنگ میلہ جاری ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تیسرا عالمی ثقافتی میلہ ۲۹ اکتوبر کو شروع ہوا اور ۲۲ نومبر تک جاری رہے گا۔ پچیس روزہ اس میلے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک کے ایک ہزار سے زائد بین الاقوامی فنکار اور پانچ سو سے زیادہ پاکستانی فنکار اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تھیٹر، موسیقی، رقص، فلم اور بصری فنون کے پروگرام روزانہ آرٹس کونسل کراچی میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
میلے کا افتتاح سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ ثقافت میں سرمایہ کاری دراصل ذہنی نشوونما اور روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے بتایا کہ اس میلے کا مقصد دنیا بھر کی ثقافتوں کو ایک دوسرے سے روشناس کرانا اور پاکستان کی ثقافتی شناخت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اہم نکات
- تیسرا عالمی ثقافتی میلہ کراچی ۲۹ اکتوبر سے ۲۲ نومبر ۲۰۲۶ تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ہے۔
- میلے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک کے ایک ہزار سے زائد بین الاقوامی فنکار اور پانچ سو سے زیادہ پاکستانی فنکار شریک ہیں۔
- پچیس روزہ میلے میں تھیٹر، موسیقی، رقص، فلم اور بصری فنون کے پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔
- میلے کے چوتھے دن پاکستانی فلم وخری کی نمائش ہوئی، جس کے بعد ہدایت کارہ اور پروڈیوسر سے سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔
- عوام مفت رجسٹریشن کے ذریعے میلے کے پروگراموں میں شرکت کر سکتے ہیں۔
- میلے کا پہلا ایڈیشن ۴۳ ممالک کے فنکاروں کے ساتھ ہوا تھا، جبکہ دوسرے ایڈیشن میں ۱۴۲ ممالک کے فنکار شریک ہوئے تھے۔
میلے کے پہلے دنوں کی جھلکیاں
میلے کے تیسرے دن یکم نومبر کو موسیقی، فلم، تھیٹر اور رقص کے متنوع پروگرام پیش کیے گئے۔ اس دن وائلن اور سیلو کی موسیقی کی ماسٹر کلاس ہوئی، پاکستانی فلم وخری کی نمائش کی گئی، تھیٹر پرفارمنس چیچا پیش کی گئی، موسیقی کا پروگرام کراس فیڈ ہوا اور رقص کی پیشکش بیٹس گیلور نے ناظرین کو محظوظ کیا۔
چوتھے دن ۲ نومبر کو بھی میلے نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ اس دن بین الاقوامی ماسٹر کلاسز، فلمی نمائشیں، تھیٹر کی پیشکشیں اور عالمی موسیقی و رقص کے پروگرام آرٹس کونسل کراچی میں پیش کیے گئے۔ ہر دن کے پروگرام میں مختلف ممالک کی ثقافتی روایات اور فنکارانہ اظہار کی جھلک دیکھنے کو مل رہی ہے۔

پاکستانی فلم وخری کی خصوصی پیشکش
میلے کے پروگرام میں پاکستانی فلم وخری کی نمائش کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ فلم کی نمائش کے بعد ہدایت کارہ ایرم پروین بلال نے ویڈیو لنک کے ذریعے ناظرین سے گفتگو کی، جبکہ پروڈیوسر عابد مرچنٹ نے براہ راست سامعین کے سوالات کے جوابات دیے۔ نشست میں فلم کی تیاری، اس کے موضوع اور کہانی کے انتخاب پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وخری ایک پاکستانی فیچر فلم ہے جو ۲۰۲۴ میں پاکستان میں ریلیز ہوئی تھی اور اس سے قبل کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھی پیش کی جا چکی ہے۔ عالمی ثقافتی میلے میں اس کی نمائش نے پاکستانی سینما کو بین الاقوامی سامعین کے سامنے پیش کرنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے۔

عوام کے لیے کیا ہے اور میلہ کیوں اہم ہے
عالمی ثقافتی میلہ کراچی کو دنیا کے بڑے ثقافتی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق عوام مفت رجسٹریشن کے ذریعے پروگراموں میں شرکت کر سکتے ہیں، جس سے کراچی کے شہریوں کو دنیا بھر کی ثقافتوں سے براہ راست روشناس ہونے کا موقع مل رہا ہے۔
میلے کی اہمیت اس کے تسلسل سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ پہلے ایڈیشن میں ۴۳ ممالک کے فنکار شریک ہوئے تھے، دوسرا ایڈیشن دسمبر ۲۰۲۵ میں ۳۹ روز تک جاری رہا جس میں ۱۴۲ ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ فنکاروں نے شرکت کی تھی، اور اب تیسرا ایڈیشن ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک تک پہنچ گیا ہے۔ یہ سفر ظاہر کرتا ہے کہ کراچی عالمی ثقافتی نقشے پر ایک اہم مقام حاصل کر رہا ہے۔
میلے کے باقی دنوں میں بھی تھیٹر، موسیقی، رقص اور فلم کے نئے پروگرام پیش کیے جائیں گے، اور ۲۲ نومبر کو اختتام تک کراچی دنیا کی ثقافتوں کا مرکز بنا رہے گا۔ پاکستانی فنکاروں کے لیے یہ میلہ بین الاقوامی فنکاروں سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا قیمتی موقع ہے۔
مزید اردو خبریں اور ثقافتی معلومات کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔