پیرس فیشن ویک کے اختتامی دن یوکرینی ڈیزائنر لیلیا لیتکوفسکا نے اپنی بہار و گرما 2027 کی کلیکشن “اسٹریچا” پیش کی، جس کا مرکزی خیال انسانی ملاقات، تبدیلی اور خود کو پہچاننے کی خوبصورت کہانی ہے۔ چھ اکتوبر کو سینٹر پومپیڈو کے سامنے واقع کیفے بوبورگ میں مہمانوں کو صبح کی کافی پر مدعو کیا گیا، جہاں فیشن کو موسیقی اور پرفارمنس آرٹ کے ساتھ ملا کر ایک یادگار پیشکش تیار کی گئی۔
اہم نکات
- لیلیا لیتکوفسکا نے چھ اکتوبر 2026 کو پیرس فیشن ویک میں بہار و گرما 2027 کی کلیکشن “اسٹریچا” پیش کی۔
- “اسٹریچا” یوکرین کے ہوتسول لہجے کا لفظ ہے جس کا مطلب “ملاقات” یا “انکاؤنٹر” ہے۔
- پیشکش کا آغاز ماڈل پاشا ہارولیا کی پرفارمنس سے ہوا، جس کے بعد موسیقار دمترو نووچینکو کے ساتھ رن وے شو ہوا۔
- کلیکشن میں یوکرینی کیوبو فیوچرسٹ مصور بورس کوساریف کے فن سے متاثر نقاب پوش چہروں کی کڑھائی نمایاں رہی۔
- ڈراسٹرنگ اور کھلے سیون جیسے نئے طریقوں سے لباس پہننے والے کی مرضی سے اپنی شکل بدل سکتے ہیں۔
پیرس فیشن ویک میں “اسٹریچا” کی پیشکش
لیتکوفسکا کی یہ پیشکش رن وے کے ساتھ ساتھ ایک فنکارانہ تجربہ بھی تھی۔ کیفے بوبورگ کو صبح کی کافی کی فضا میں ڈھالا گیا، جہاں ماڈل پاشا ہارولیا نے ایک پرجوش پرفارمنس سے پروگرام کا آغاز کیا اور پھر خود ہی رن وے کی پہلی ماڈل کے طور پر چلیں۔ ان کے ساتھ موسیقار دمترو نووچینکو نے لائیو موسیقی پیش کی، جس سے پورا ماحول ایک پرسکون ملاقات کی طرح محسوس ہوا۔
ڈیزائنر کے مطابق ملاقات اکثر سطح سے شروع ہوتی ہے — ایک نظر، ایک اشارہ، پہلا تاثر — اور پھر گہری پرتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی خیال کو کلیکشن کے ہر لباس میں دکھایا گیا ہے۔
خود سے ملاقات کا تصور
لیلیا لیتکوفسکا نے اس کلیکشن کے بارے میں کہا: “یہ شو ملاقاتوں کے بارے میں ہے۔ زندگی میں ہمیں ہزاروں ملاقاتیں ہوتی ہیں، مگر ان میں سے ایک سب سے اہم ہے — خود سے ملاقات۔” ان کے مطابق جب دو لوگ ملتے ہیں تو صرف ایک جگہ موجود ہونا کافی نہیں ہوتا؛ اصل ملاقات اس وقت ہوتی ہے جب بناوٹی نقاب اتر جائیں اور انسان اپنی اصل شکل میں نظر آئے۔

بورس کوساریف سے فنکارانہ مکالمہ
اس سیزن کی سب سے مضبوط تحریک یوکرینی آونٹ گارڈ کے بانیوں میں سے ایک، کیوبو فیوچرسٹ مصور بورس کوساریف کا فن ہے۔ ان کے کولاج پورٹریٹ اور نقاب پوش چہرے — جو ہندسی سطحوں میں ٹوٹے ہوئے ہیں — براہ راست لباسوں کی تعمیر میں ڈھالے گئے ہیں۔ کوساریف کے بکھرے ہوئے چہرے ایپلکے، کولاج اور پرنٹس کی صورت میں سیٹن سویٹ شرٹس پر نظر آتے ہیں، یوں تاریخی فنون لطیفہ اور جدید روزمرہ لباس کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔
ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ اس شو کے ذریعے وہ کوساریف کے فن کو پیرس سے ملوا رہی ہیں — ایک ایسی ملاقات جو مصور کی زندگی میں کبھی نہ ہو سکی تھی۔
بدلنے والے لباس اور ناتمام کنارے
اس کلیکشن کی ایک نمایاں خصوصیت لباسوں کی تبدیلی پذیری ہے۔ ڈریسز اور کوٹس میں ڈراسٹرنگ لگائی گئی ہے، جس سے پہننے والا اپنی مرضی سے شکل بدل سکتا ہے — ایک ہی لباس گول آستینوں والا کھیلوں کا بومبر بن سکتا ہے یا پھر پریوں کی کہانی جیسی ڈھیلے ڈھالے ڈریس میں ڈھل سکتا ہے۔ ایک بلاؤز لمبا ہو کر ڈریس بن جاتا ہے اور ایک کیپ کھل کر لمبا کوٹ بن جاتا ہے۔
اسی طرح کھردے کنارے، باہر نکلی سلائی اور جان بوجھ کر ہٹے ہوئے سیون ٹیلرڈ جیکٹوں اور پتلونوں میں ہلکی سی بے ترتیبی پیدا کرتے ہیں، جس سے لباس میں حرکت اور جان آ جاتی ہے۔ پرانے کپڑوں سے بُنی چٹائیوں جیسی بناوٹ والا ایک ایپرن ڈریس، بے پشت کراس اسٹچ ٹاپ اور گدی دار مضبوط پٹیوں والے ڈیزائن بھی اسی دستکاری کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

اختتام
لیتکوفسکا کی “اسٹریچا” کلیکشن نے ثابت کیا کہ فیشن صرف کپڑے پہننے کا نام نہیں، بلکہ سوچ، فن اور ملاقات کا ایک ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ یوکرینی ثقافت، تاریخی فن اور جدید ڈیزائن کے امتزاج سے یہ شو پیرس فیشن ویک کے یادگار لمحوں میں سے ایک بن گیا۔ فیشن کی مزید خبریں اور اسی ہفتے پیش کی گئی بالنسیاگا سمر 2027 کی کلیکشن بھی ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
“اسٹریچا” کا کیا مطلب ہے؟
“اسٹریچا” یوکرین کے ہوتسول لہجے کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “ملاقات” یا “انکاؤنٹر”۔ یہی لفظ کلیکشن کا مرکزی خیال ہے۔
لیتکوفسکا کی یہ کلیکشن کب اور کہاں پیش کی گئی؟
یہ کلیکشن چھ اکتوبر 2026 کو پیرس فیشن ویک کے دوران پیرس کے کیفے بوبورگ میں پیش کی گئی۔
اس کلیکشن کی فنکارانہ تحریک کیا تھی؟
یوکرینی کیوبو فیوچرسٹ مصور بورس کوساریف کے کولاج پورٹریٹ اور نقاب پوش چہرے، جنہیں کڑھائی، ایپلکے اور پرنٹس کی صورت میں لباسوں پر ڈھالا گیا۔
اس کلیکشن کی خاص بات کیا ہے؟
تبدیلی پذیر ڈیزائن — ڈراسٹرنگ اور خاص سلائی کی بدولت ایک ہی لباس کئی شکلوں میں ڈھل سکتا ہے، جیسے بلاؤز سے ڈریس اور کیپ سے کوٹ بننا۔