امریکی چپ ساز کمپنی مارول ٹیکنالوجی نے آپٹیکل اجزا بنانے والی کمپنی لومینٹم کو تقریباً ۱۱۵ ارب ڈالر کے مکمل حصص کے معاہدے میں خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ ۲ نومبر ۲۰۲۶ کو طے پایا اور اسے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کی بڑھتی ہوئی مانگ پر اب تک کے سب سے بڑے کارپوریٹ دعووں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت لومینٹم کے ہر حصص کے بدلے مارول کے ۴ء۵ حصص دیے جائیں گے۔ مشترکہ کمپنی میں مارول کے حصص یافتگان کی ملکیت تقریباً ۶۷ فیصد اور لومینٹم کے حصص یافتگان کی تقریباً ۳۳ فیصد ہو گی۔ لومینٹم کے فی حصص کی قیمت ۱۱۲۳ ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو ۲۸ اکتوبر کی بند قیمت سے ۲۳ء۹ فیصد زیادہ ہے۔
اہم نکات
- مارول لومینٹم کو تقریباً ۱۱۵ ارب ڈالر کے معاہدے میں خریدے گا۔
- یہ معاہدہ مکمل طور پر حصص کی صورت میں ہو گا، نقد ادائیگی نہیں ہو گی۔
- لومینٹم کے حصص یافتگان کو فی حصص ۱۱۲۳ ڈالر ملیں گے، جو ۲۳ء۹ فیصد پریمیم ہے۔
- مشترکہ کمپنی کا کل قابل رسائی بازار ۵۵۰ ارب ڈالر تک پھیل جائے گا۔
- معاہدے کی تکمیل ۲۰۲۸ کی پہلی ششماہی میں متوقع ہے، جو اگست ۲۰۲۸ تک بڑھ سکتی ہے۔
- یہ ۲۰۲۶ کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی معاہدوں میں سے ایک ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کی دوڑ
لومینٹم ایسے آپٹیکل اجزا بناتی ہے جو مصنوعی ذہانت کے چپس کے درمیان تیز رفتار ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت پر خرچ بڑھا رہی ہیں، ان اجزا کی مانگ رسد سے آگے نکل رہی ہے۔ مارول کا ماننا ہے کہ یہ مانگ آنے والے برسوں تک برقرار رہے گی۔
اس معاہدے سے مارول کو اپنے بڑے حریف براڈکام کے مقابلے میں مزید طاقت ملے گی۔ مارول نے اگست میں گوگل کے مصنوعی ذہانت کے پروسیسرز کے ساتھ کام کرنے والے چپس کی فراہمی کا بڑا معاہدہ بھی حاصل کیا تھا۔ این ویڈیا نے مارول اور لومینٹم دونوں میں ۲ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

معاہدے کے اعداد
| شعبہ | تفصیل |
|---|---|
| کل معاہدہ | تقریباً ۱۱۵ ارب ڈالر، قرض سمیت |
| ایکویٹی مالیت | ۱۰۲ء۵۴ ارب ڈالر |
| فی حصص قیمت | ۱۱۲۳ ڈالر |
| پریمیم | ۲۳ء۹ فیصد |
| مارول کی ملکیت | تقریباً ۶۷ فیصد |
| لومینٹم کی ملکیت | تقریباً ۳۳ فیصد |
| قابل رسائی بازار | ۵۵۰ ارب ڈالر |
منظوریاں ابھی باقی ہیں
یہ معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا۔ اسے ریگولیٹری اداروں اور حصص یافتگان کی منظوری درکار ہے۔ مارول کے مطابق معاہدہ ۲۰۲۸ کی پہلی ششماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے، لیکن اگر ریگولیٹری منظوریاں نہ ملیں تو یہ اگست ۲۰۲۸ تک بڑھ سکتا ہے۔
معاہدے کی خبروں کے بعد مارول کے حصص میں صبح کے کاروبار میں ۲ء۸ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ لومینٹم کے حصص کی تجارت روک دی گئی۔ تاہم گزشتہ ہفتوں میں چپ کے حصص میں عام کمی کے دوران مارول کے حصص تقریباً ۲۲ فیصد اور لومینٹم کے تقریباً ۸ فیصد گرے تھے۔
چین کا پہلو
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین سے متعلق ریگولیٹری امور اس معاہدے کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ لومینٹم کا مقابلہ امریکی کمپنی کوہیرنٹ اور چین کی ژونگجی انولائٹ سے ہے۔ امریکہ میں مجوزہ پابندیوں سے لومینٹم کو فائدہ پہنچنے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔
نتیجہ
مارول اور لومینٹم کا معاہدہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی دوڑ میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہو گیا تو مشترکہ کمپنی ڈیٹا مراکز کے لیے تیز رفتار رابطوں کی دنیا میں ایک اہم طاقت بن جائے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مارول لومینٹم کو کتنے میں خرید رہا ہے؟
تقریباً ۱۱۵ ارب ڈالر کے مکمل حصص کے معاہدے میں۔
لومینٹم کیا بناتی ہے؟
آپٹیکل اجزا، جو مصنوعی ذہانت کے چپس کے درمیان تیز رفتار ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔
معاہدہ کب مکمل ہو گا؟
۲۰۲۸ کی پہلی ششماہی میں متوقع ہے، جو اگست ۲۰۲۸ تک بڑھ سکتا ہے۔
یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟
کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کی بڑھتی مانگ پر ایک بڑا کارپوریٹ دعوی ہے۔