مہمند میں پولیو مہم پر حملہ ہوا ہے، جہاں انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر جانے والی پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ آج منگل کو پنڈیالی تحصیل کے علاقے تمانزئی میں پیش آیا۔
اہم نکات
- مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے تمانزئی میں پولیس ٹیم پر فائرنگ کی گئی
- فائرنگ میں دو پولیس اہلکار شہید اور ایک اہلکار زخمی ہوا
- شہید اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی خان کے نام سے ہوئی ہے، زخمی اہلکار کا نام صابر اللہ ہے
- شہدا اور زخمی اہلکار کو غلنئی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا
- حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے
- حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے
واقعہ کیسے پیش آیا
پولیس کے مطابق اہلکار انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر روانہ ہو رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے دو اہلکار شہید ہو گئے جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے بعد شہدا اور زخمی اہلکار کو فوری طور پر غلنئی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمی اہلکار کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کر کے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

مہمند میں پولیو مہم پر حملہ اور سرچ آپریشن
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے فرار کا راستہ معلوم کرنے اور ان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ تاحال کسی حملہ آور کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے اور نہ ہی کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی خدشات
خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کے دوران حفاظتی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں اور صحت کے کارکنوں کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے مہم کے دوران ٹیموں کی حفاظت کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی جاتی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی مہم بچوں کو اس موذی مرض سے بچانے کے لیے جاری ہے۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔