×
خلیج میں سفر کرتا ہوا گیس کا بڑا جہاز

قطر کے گیس ٹینکر المایدہ پر خلیج فارس میں نامعلوم اشیا سے حملہ ہوا ہے، جس کے بعد جہاز کی منزل، حملہ آور کی شناخت اور نقصان کی مکمل تفصیل کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔ جہاز کے مالک ادارے کے مطابق عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا اور ماحول کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا، جبکہ جہاز محفوظ حالت میں اور فعال ہے۔

یہ ٹینکر قطر سے پاکستان کے لیے گیس لے کر جا رہا تھا۔ حملے کی خبر نے خلیج میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی فراہمی کی سلامتی کے بارے میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اسی آبی گزرگاہ سے دنیا کی توانائی کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اہم نکات

  • جہاز: المایدہ، قطر کی کمپنی ناکلات کا گیس ٹینکر، جو مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔
  • واقعہ: جمعے کی شام 30 اکتوبر کو خلیج فارس میں نامعلوم اشیا سے حملہ، آبنائے ہرمز کے قریب۔
  • عملہ: 25 افراد، جن میں چھ بھارتی شہری شامل ہیں؛ سب محفوظ ہیں، کوئی زخمی نہیں ہوا۔
  • منزل: قطر کے راس لفان سے کراچی کے پورٹ قاسم کی جانب سفر، جہاں 2 نومبر کی دوپہر پہنچنا تھا۔
  • حملہ آور: تاحال نامعلوم؛ قطر نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کسی ملک پر الزام نہیں لگایا۔
  • جہاز کی حالت: مالک ادارے کے مطابق محفوظ اور فعال، اثرات کا جائزہ جاری ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا

جہاز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم کے مطابق المایدہ 30 اکتوبر کو قطر کے راس لفان گیس مرکز سے روانہ ہوا تھا اور اسے 2 نومبر کی دوپہر کراچی کے پورٹ قاسم پہنچنا تھا۔ اسی روز جمعے کی شام خلیج فارس میں اس پر نامعلوم اشیا سے حملہ ہوا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ ٹینکر نامعلوم اشیا کی زد میں آیا۔ مالک کمپنی ناکلات نے بھی تصدیق کی کہ جہاز پر خلیج میں نامعلوم اشیا سے حملہ ہوا، تاہم اس نے حملہ کرنے والی چیزوں کی نوعیت، جہاز کا درست مقام اور نقصان کی تفصیل نہیں بتائی۔

ناکلات کے مطابق جہاز محفوظ حالت میں ہے اور فعال ہے، جبکہ واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ جہاز، اس کے عملے اور خطے کی متعلقہ بحری سلامتی کے اداروں سے براہ راست رابطے میں ہے اور صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

گیس کی بندرگاہ پر لنگر انداز جہاز
علامتی تصویر

ردعمل اور مذمت

قطر نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بحری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ قطر نے خبردار کیا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات خطے کے امن و استحکام اور عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ دوحہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے اثاثوں، قومی مفادات، جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

سعودی عرب نے بھی حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ بحری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ سعودی عرب نے کہا کہ وہ بحری نقل و حمل کی آزادی اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

خلیج تعاون کونسل، متحدہ عرب امارات، بحرین اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ بھارت کے بحری امور کے وزیر ساربانند سونووال نے کہا کہ عملے کے تمام 25 افراد، جن میں چھ بھارتی شہری شامل ہیں، مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

دوسری جانب، رپورٹ کے وقت پاکستان اور ایران کی جانب سے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق اس نے پاکستان کے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے ردعمل کے لیے رابطہ کیا تھا، لیکن اس وقت تک کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا تھا۔

ابھی کیا واضح نہیں

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حملہ کس نے کیا اور کیوں کیا۔ قطر نے کہا ہے کہ متعلقہ اداروں نے واقعے کی وجوہات اور ذمہ دار عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، لیکن تاحال کسی ملک یا گروہ پر الزام نہیں لگایا گیا۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے 30 اکتوبر کو ایران سے جہاز کے محفوظ گزرنے کے بارے میں بات کی تھی اور ایرانی حکام نے حملے سے چند گھنٹے قبل گزرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم یہ خبر نامعلوم ذرائع پر مبنی ہے اور اس کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے اسے حتمی موقف کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

یہ بھی واضح نہیں کہ جہاز اپنی منزل تک کب پہنچے گا اور اس کی گیس کی ترسیل پر کیا اثر پڑے گا۔ جہاز کی نگرانی کے اعداد کے حوالے سے بتایا گیا کہ حملے کے بعد جہاز نے رخ بدلا اور خلیج کے اندرونی پانیوں کی جانب واپس گیا۔ اگر یہ کھیپ وقت پر نہ پہنچی تو پاکستان کو کھلی منڈی سے گیس خریدنی پڑ سکتی ہے، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بتائی جاتی ہیں، لیکن یہ ایک ممکنہ صورت حال ہے، پیش آیا ہوا واقعہ نہیں۔

توانائی اور تجارت پر اثر

اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ المایدہ پاکستان کے لیے قطر کی گیس لے کر جا رہا تھا۔ طویل مدتی معاہدے کے تحت پاکستان قطر سے روزانہ تقریبا 60 کروڑ مکعب فٹ گیس درآمد کرتا ہے۔ شپنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق دسمبر اور جنوری میں اس معاہدے کے تحت 20 کھیپیں آنا تھیں، جبکہ پاکستان کھلی منڈی سے 10 کھیپیں خریدنا چاہتا تھا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ فروری میں ایران سے متعلق جنگ شروع ہونے کے بعد سے تجارتی جہاز رانی کو خطرات کا سامنا ہے، اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی سلامتی عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک اہم معاملہ بن گئی ہے۔

مزید تفصیلات سامنے آنے پر یہ واضح ہو سکے گا کہ حملہ آور کون تھا، جہاز کو کتنا نقصان پہنچا اور اس کی کھیپ کب اپنی منزل تک پہنچے گی۔ اس وقت تک سب سے زیادہ توجہ قطر کی تحقیقات اور جہاز کی اگلی نقل و حرکت پر رہے گی۔

خطے کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanch0013@gmail.com

Related Posts

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت

انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیے

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے رابطہ کر کے...

Read out all
ترکیہ کی پہاڑیوں پر طلوع آفتاب کے وقت ونڈ ٹربائنیں

ترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیا

ترکیہ نے 2 نومبر کو سات یکا آر ای ایس 2026 ونڈ ٹینڈرز میں 1500 میگاواٹ مختص کیا، جس میں سیواس 320...

Read out all
کم اخراج والے کیمیکل پلانٹ میں انجینئرز

آرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیق

آرکیما کے مطابق وہ کیمیائی صنعت کے لیے نئی رہنمائی کے تحت توثیق پانے والی پہلی کمپنی ہے، جس کے 2035 کے...

Read out all
پشاور ہائی کورٹ کی عمارت

سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسال

پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کر دیا اور لارجر...

Read out all
test

آذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغاز

آذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کو ماحول کا محافظ بنانے والا نیا منصوبہ شروع ہو گیا ہے جس میں تربیت، کھیل...

Read out all
لندن کی سڑک پر پیدل چلنے والے لوگ اور سرخ ڈبل ڈیکر بس، علامتی تصویر

برطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سخت

برطانیہ نے مستقل رہائش کے قواعد میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے؛ نئے مجوزہ نظام میں مستقل رہائش خود بخود...

Read out all