ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس آج ہو رہا ہے، جس میں علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس تہران مشترکہ اجلاس کی تجویز پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورہ تہران کے دوران پیش کی تھی، جس کا ایران نے خیرمقدم کیا تھا۔
اہم نکات
- تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس آج ہو رہا ہے۔
- ایرانی حکام کے مطابق اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورہ تہران کے دوران دی تھی۔
- سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کر رہے ہیں۔
- پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن کر رہے ہیں۔
- اجلاس میں علاقائی سلامتی کے مشترکہ نظام اور باہمی اعتماد پر گفتگو ہو رہی ہے۔
- ایرانی ترجمان کے مطابق ایران سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کے ساتھ ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔
تہران مشترکہ اجلاس میں کون شریک ہے
ایرانی حکام کے مطابق سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن اس مشترکہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ حکام تہران میں ایرانی قیادت اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے بھی اس اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے علاقائی سلامتی کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق یہ اجلاس خطے کے اپنے مفادات اور تقاضوں کی بنیاد پر سلامتی کے مشترکہ نظام کی جانب ایک قدم ہے۔

علاقائی سلامتی پر تعاون کی کوشش
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ یہ اجلاس مشترکہ مفادات کی بنیاد پر علاقائی سلامتی کے نظام میں تعاون کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے بغیر خطے میں پائیدار سلامتی قائم نہیں کی جا سکتی، اور یہ اجلاس وسیع تر تعاون کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ساتھ ہی سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ قطری وفد نے گزشتہ روز تہران کا دورہ کیا، جو علاقائی ممالک کے ساتھ جاری مذاکرات اور قطری ثالثی کے سلسلے کا حصہ تھا۔
مکہ معاہدے کا پس منظر
اگست میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کی منظوری دی تھی، جبکہ ترکیہ کی پارلیمنٹ میں اس کی توثیق کا عمل جاری ہے۔ تہران میں ہونے والا یہ مشترکہ اجلاس اسی علاقائی تعاون کے سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق خطے کی سلامتی کا حصول صرف خطے کے ممالک کی اپنی صلاحیتوں، ان کی مرضی اور سلامتی سے متعلق تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔