اسلام آباد: پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے ترجمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وزارت نے ۳۱ اکتوبر کو جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے سرخ لکیر ہے اور اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اہم نکات
- وزارت اطلاعات و نشریات نے ۳۱ اکتوبر کو افغان طالبان ترجمان کے بیان پر باضابطہ ردعمل جاری کیا۔
- وزارت کے مطابق افغان قیادت اصل مسئلے یعنی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔
- پاکستان نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔
- افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ کابل نے مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حتمی کوششیں کیں مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
- امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان میں دہشت گردی نہیں دیکھنا چاہتا۔
افغان طالبان بیان پر وزارت کا موقف
وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان ترجمان کا حالیہ بیان اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو تعلقات میں خرابی کی اصل وجہ کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ بیان کے مطابق کابل کی قیادت مسلسل اسلام آباد کی پالیسیوں پر الزام عائد کر رہی ہے، جبکہ وہ اس بنیادی مسئلے کو دیکھنا نہیں چاہتی کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے ہو رہے ہیں اور انہیں روکا نہیں جا رہا۔
وزارت نے زور دیا کہ الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیاں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے بحران حل نہیں ہوگا اور نہ ہی کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو سکے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار ایسی پناہ گاہوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں، اور اپنے عوام کی حفاظت کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان حکومت کی عدم کارروائی، تاخیر یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس کے بقول دہشت گردی کے مسئلے پر کابل کا مسلسل انکار ہی معمول کے تعلقات کی بحالی میں بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

پس منظر: تعلقات میں کشیدگی کیوں بڑھی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ اسلام آباد کا یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ کابل اپنی سرزمین ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جو پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت کئی مسلح گروہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ دوسری جانب کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
افغان ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کابل نے پاکستان کے ساتھ اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مطلوبہ آمادگی موجود نہیں۔ پاکستان کی وزارت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلے کی جڑ مذاکرات کی کمی نہیں بلکہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ ہے۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کے تحفظات کی بازگشت
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اٹلانٹا میں بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کے تحفظات کو تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے، اور واشنگٹن اس معاملے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزارت اطلاعات نے آخر میں زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بحران کا حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کابل دہشت گردی کے خلاف ٹھوس، قابل تصدیق اور مسلسل اقدامات کرے۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔