امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران میں اب بھی ایک یا دو اہداف باقی ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر صرف دس منٹ میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مشتبہ زیر زمین جوہری مرکز پک ایکس ماؤنٹین کا نام لے کر کہا کہ اس مقام سے بھی نمٹنا باقی ہے اور یہ کام بہت جلد کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بات ہفتے کے روز فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کی جوہری صلاحیت کو بڑی حد تک ختم کر چکا ہے، تاہم ایک یا دو مقامات پر کارروائی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، لیکن تہران پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
اہم نکات
- ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ایک یا دو اہداف باقی ہیں جنہیں دس منٹ میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
- انہوں نے نطنز کے قریب واقع مشتبہ زیر زمین مرکز پک ایکس ماؤنٹین کا نام لیا۔
- ایران نے اس مقام پر کسی جوہری سرگرمی کی تردید کی ہے۔
- امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ نئے حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور سفارتی حل کا دروازہ کھلا ہے۔
- ایران کے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے کسی بھی نئے حملے پر فوری اور سخت جواب کی وارننگ دی ہے۔
ٹرمپ کا بیان اور پک ایکس ماؤنٹین
ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور متعدد جوہری تنصیبات کو پہلے ہی نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول اب صرف ایک یا دو مقامات باقی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اس ہفتے ہی ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے تو انہوں نے اس سوال کو غیر سنجیدہ قرار دیا، تاہم یہ دعویٰ دہرایا کہ باقی اہداف کو انتہائی کم وقت میں نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔
پک ایکس ماؤنٹین کو نطنز جوہری مرکز کے قریب کولنگ گز لا پہاڑی کے نیچے واقع ایک مشتبہ زیر زمین کمپلیکس بتایا جاتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس مقام کو پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا، جبکہ نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات پہلے کی کارروائیوں میں متاثر ہوئی تھیں۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ اس مقام پر کوئی جوہری کام نہیں ہو رہا۔

علامتی تصویر: مذاکرات اور کشیدگی کے درمیان سفارتی منظر۔
ایران کا موقف اور جوابی وارننگ
ایران کے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کے روز فوجی کمانڈروں سے خطاب میں کہا کہ کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا جواب فوری، مؤثر اور جغرافیائی پابندی کے بغیر دیا جائے گا۔ انہوں نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ ایران کی ہدف فہرست کو تازہ کیا جائے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت امریکی حکام کے ساتھ کسی ملاقات کا منصوبہ نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے نئے حملوں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور امریکہ سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے بھی کہا کہ امریکہ کو مزید فوجی کارروائی کی کوئی جلدی نہیں ہے، کیونکہ ان کے بقول ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
مذاکرات کا پس منظر
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششیں حالیہ ہفتوں میں تیز ہوئی ہیں۔ قطر میں ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں اور دوحہ میں بات چیت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن ان کے بقول تہران معاہدہ کرنے کے بعد اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے واشنگٹن جلد بازی نہیں کرنا چاہتا۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے خلیجی ریاستوں کو تین نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ مختصر اور شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا تھا کہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ان بیانات کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں اور فوجی تیاریاں دونوں زیر بحث ہیں۔
مزید خبروں کے لیے وتن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔