پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا ہے، جس میں 35 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچوں کے ساتھ دو خاتون اساتذہ بھی شامل ہیں۔ پشاور اسکول سانحہ رپورٹ ضلعی انتظامیہ نے کمشنر پشاور ڈویژن کو ارسال کر دی ہے، جس میں عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور ہونے کی ابتدائی نشاندہی کی گئی ہے۔
اہم نکات
- پشاور کی دیر کالونی میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گر گئی؛ 35 افراد جاں بحق، جن میں بچوں کے ساتھ دو خاتون اساتذہ بھی شامل ہیں۔
- زخمیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی؛ بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
- لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں جبکہ دو لاشیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔
- ریسکیو کنٹرول روم کو صبح 8 بج کر 48 منٹ پر اطلاع ملی اور پہلی ٹیم سات منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
- ضلعی انتظامیہ کی پشاور اسکول سانحہ رپورٹ کمشنر پشاور ڈویژن کو ارسال؛ عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور، حتمی وجہ کے لیے تکنیکی تحقیقات ہوں گی۔
- اسکول کا مالک گرفتار، پرنسپل زیرِ حراست؛ انکوائری کمیٹی قائم، ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔
سانحے کی تفصیل
سانحہ پشاور کے گنجان آباد علاقے دیر کالونی میں پیش آیا، جہاں ایک نجی اسکول کی تین منزلہ عمارت کی چھت اچانک گر گئی۔ ملبے تلے دبنے کے باعث بچوں کے سر، سینے اور پیٹ پر شدید چوٹیں آئیں۔ اسپتال حکام کے مطابق زیادہ تر بچوں کی اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے سے ہوئیں، جبکہ سینے اور پیٹ کی شدید چوٹیں بھی اموات کا باعث بنیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ زخمی بچوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اسپتال کے عملے کو متاثرہ بچوں کے علاج اور ضروری طبی امداد کی فراہمی کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے، جس کے باعث اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دیر کالونی اسکول سانحے کے بعد امدادی کارروائیوں کا علامتی منظر؛ زخمی بچوں کو اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پشاور اسکول سانحہ رپورٹ کی اہم باتیں
ڈی سی پشاور نے دیر کالونی اسکول حادثے کی رپورٹ کمشنر پشاور ڈویژن کو ارسال کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت پہلی منزل اور گراؤنڈ فلور، دونوں کلاس رومز میں طلبہ موجود تھے اور دونوں کلاس رومز میں طلبہ کی موجودگی کے باعث حادثے میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا۔ ابتدائی مشاہدات کے مطابق اسکول کی عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا اور پہلی منزل کے کلاس روم کا ڈھانچہ گر کر گراؤنڈ فلور کے کلاس روم پر گرا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکول کی عمارت گرنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور واقعے کی تفصیلی تکنیکی تحقیقات کی جائیں گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نجی اسکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا اور عمارت کی خستہ حالی کے باوجود اسے رجسٹریشن جاری کر دی گئی تھی۔
تحقیقات اور آئندہ اقدامات
سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اسکول کے پرنسپل کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اسکول کب قائم کیا گیا اور عمارت کے حوالے سے متعلقہ ضوابط پر عمل درآمد کیا گیا تھا یا نہیں۔ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دیر کالونی میں اسکول حادثے کے بعد صوبے کے نجی اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وطن نیوز کے قارئین وتن نیوز اردو پر ملک بھر کی تازہ ترین خبروں سے باخبر رہ سکتے ہیں۔