ریاض — سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس اور سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق 24 سے 27 اکتوبر کے دوران مملکت کے مختلف علاقوں کی جانب میزائل اور ڈرون داغے گئے، جن میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے بھی شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا گیا، تاہم ان کا ملبہ کئی مقامات پر گرا۔ حوثیوں نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کے دعوے کی تردید کی ہے، جس سے واقعے کے حوالے سے دونوں فریقوں کے بیانات میں فرق سامنے آیا ہے۔
اہم نکات
- 24 اکتوبر کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کیے گئے، اور ان کا ملبہ جدہ، طائف، رابغ اور مکہ کے علاقوں میں گرا۔
- 25 اکتوبر کو خمیس مشیط اور احد رفیدہ میں گرنے والے ملبے سے دو افراد زخمی ہوئے اور تین رہائشی عمارتوں اور سات گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
- 27 اکتوبر کو سعودی قیادت والے اتحاد نے مشرقی علاقے کی جانب داغے گئے تین میزائل اور جنوبی علاقے کی جانب بھیجے گئے چار ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
- حوثی ترجمان نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اسے بہت بڑا جھوٹ قرار دیا ہے۔
- پاکستان اور مسلم ورلڈ لیگ نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
مکہ اور مدینہ کے علاقوں میں ملبہ گرا
سعودی سول ڈیفنس نے 24 اکتوبر کو بتایا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے گئے، جنہیں سعودی دفاعی دستوں نے فضا میں ہی روک لیا۔ سول ڈیفنس کے مطابق ان میزائلوں کا ملبہ مغربی سعودی عرب کے کئی مقامات پر گرا، جن میں مکہ میں وادی المغمص، جدہ میں النزہہ، طائف میں وادی جلیل اور رابغ میں مستورہ شامل ہیں۔
سول ڈیفنس نے کہا کہ اس کی ٹیموں نے ملبہ گرنے والے مقامات پر پہنچ کر ضروری کارروائی کی۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس سے پہلے اسی روز سول ڈیفنس نے مکہ سمیت چار مغربی صوبوں میں خطرے کی وارننگ جاری کی تھی اور لوگوں کو قریبی محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی تھی۔

حوثیوں کا انکار اور ان کے اپنے دعوے
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی دشمن کی جانب سے یہ دعویٰ کہ ان کی افواج نے مقدس علاقوں کو نشانہ بنایا، بہت بڑا جھوٹ ہے۔ حوثی ترجمان نے کہا کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف فوجی اڈے اور تیل کی تنصیبات تھیں۔
حوثیوں کے مطابق انھوں نے جمعے اور ہفتے کے دوران سعودی عرب کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، دمام کا شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، نجران کا ہوائی اڈہ، خمیس مشیط کا فضائی اڈہ، ینبع میں آرامکو کی تنصیب اور رابغ آئل ریفائنری شامل ہیں۔ دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے دو میزائل بھی تباہ کیے گئے۔ اس طرح دونوں فریقوں کے بیانات میں اہداف کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے۔
منگل کو تازہ کارروائی اور جوابی حملے
کشیدگی 27 اکتوبر کو بھی جاری رہی، جب سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا کہ سعودی فضائی دفاع نے مشرقی علاقے کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائل اور جنوبی علاقے کی جانب بھیجے گئے چار ڈرون تباہ کر دیے۔ سول ڈیفنس نے مشرقی علاقے اور الخرج گورنری میں ممکنہ خطرے کی ابتدائی وارننگ جاری کی، اور بعد میں اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس تازہ کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس سے ایک روز پہلے 26 اکتوبر کو سعودی پریس ایجنسی نے بتایا تھا کہ فضائی دفاع نے ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی روک لیا تھا۔ اتحاد نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے یمن میں جوابی فوجی کارروائی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے والی پانچ سرنگیں، چار میزائل لانچر اور میزائل ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب تباہ کر دی۔ اتحاد کی جانب سے دی گئی ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
مذمت اور کشیدگی کا پس منظر
پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ مسلم ورلڈ لیگ نے بھی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے حملے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ بھارت نے بھی اپنے شہریوں، خصوصاً عمرہ زائرین کے لیے ایک نئی ایڈوائزری جاری کی اور کہا کہ جدہ میں اس کا قونصل خانہ متاثرہ شہریوں کی مدد کر رہا ہے۔
یمن میں لڑائی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اہم علاقوں پر قبضہ کیا اور باب المندب کی جانب پیش قدمی کی، جو خلیجی تیل کی عالمی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی نے سرحد پار حملوں کو بڑی حد تک روک دیا تھا، لیکن تازہ لڑائی نے اس جنگ بندی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یمن کی جنگ 2014 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا، اور سعودی عرب نے مارچ 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔
مزید عالمی خبریں یہاں پڑھیں۔