موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ طور پر عالمی صحت ایمرجنسی تسلیم کیا جائے، لانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن کی 2026 کی رپورٹ کے مصنفین نے یہ مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی سے ہونے والی اموات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں جبکہ دنیا کا ردعمل اس کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ دسویں سالانہ رپورٹ 28 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی اور لندن میں صحت اور موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 2026 میں اس کا اجرا کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پیرس معاہدے کے بعد کی دہائی میں موسمیات سے جڑے کئی صحت کے نقصانات اس سے پہلی دہائی کے مقابلے میں تیزی سے بڑھے۔
یہ رپورٹ یو سی ایل کی قیادت میں ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں 30 سے زیادہ ملکوں کے 100 سے زیادہ اداروں کے 146 محققین نے کام کیا اور صحت، موسمیات اور پالیسی کے 54 اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
گرمی سے اموات کا ریکارڈ
رپورٹ کے مطابق 2016 سے 2023 کے درمیان گرمی سے اوسطاً ہر سال 540800 اموات کا تخمینہ لگایا گیا، جن میں سے 68 فیصد یعنی ہر سال تقریباً 369900 اموات انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ شرح 2006 سے 2015 کے دوران 55 فیصد یعنی ہر سال 219100 اموات تھی۔
صرف 2023 میں، جو اس عرصے کا گرم ترین سال تھا، گرمی سے ریکارڈ 710000 اموات کا تخمینہ لگایا گیا، جن میں سے 71.5 فیصد موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھیں۔ یہ تعداد اس سال ملیریا یا ایچ آئی وی سے ہونے والی اموات سے زیادہ تھی۔ مجموعی طور پر 2016 سے 2023 کے درمیان موسمیاتی تبدیلی سے تقریباً 30 لاکھ افراد گرمی سے ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بزرگ افراد، باہر کام کرنے والے مزدور اور وہ گھرانے جن کے پاس ٹھنڈک کی سہولت نہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، کیونکہ گرمی کی لہریں طویل اور شدید ہوتی جا رہی ہیں۔
مزدوروں پر کھربوں ڈالر کا بوجھ
شدید گرمی نے لوگوں کی کام کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا۔ 2025 میں اس سے عالمی معیشت کو تقریباً 1.07 کھرب ڈالر کی ممکنہ آمدنی کا نقصان ہوا، جو عالمی پیداوار کا 0.91 فیصد ہے۔ یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب یہ نقصان ایک کھرب ڈالر سے زیادہ رہا۔
جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں نقصان بالترتیب جی ڈی پی کا 3.9 فیصد اور 3.2 فیصد رہا، جبکہ یورپ میں یہ 0.2 فیصد اور امریکہ میں 1.5 فیصد تھا۔ زراعت نے نقصان کا 38 فیصد اور تعمیرات نے 29 فیصد برداشت کیا، کیونکہ ان دونوں شعبوں میں کام زیادہ تر باہر اور جسمانی مشقت والا ہوتا ہے۔
مطالبہ: عالمی صحت ایمرجنسی
رپورٹ کا مرکزی پیغام رفتار کے بارے میں ہے۔ یو سی ایل میں لانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر مارینا رومانیلو نے کہا کہ پیرس معاہدے کے ایک دہائی بعد نتائج واضح ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات دنیا کے ردعمل سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور کئی صورتوں میں ان میں تیزی آ رہی ہے۔
مصنفین کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ طور پر عالمی صحت ایمرجنسی تسلیم کیا جائے اور ہر موسمیاتی فیصلے کے مرکز میں صحت کو رکھا جائے، اور ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحدہ کی قیادت میں مربوط اعداد، مالیات اور ردعمل کا انتظام کیا جائے۔ یہ مطالبہ کاپ31 موسمیاتی سربراہی اجلاس سے دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آیا ہے، جو 9 نومبر 2026 کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں شروع ہو رہا ہے۔ اس سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے بارے میں وطن نیوز کی کاپ31 کی تیاریوں سے متعلق خبر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
پیشرفت کیا ہوئی اور کیا ابھی باقی ہے
رپورٹ میں پیشرفت بھی درج ہے کہ 2025 میں صاف توانائی میں سرمایہ کاری ریکارڈ 2.1 کھرب ڈالر تک پہنچی اور کچھ ملکوں میں فضائی آلودگی سے اموات کم ہوئیں، اور صحت کے نظام کی تیاری بہتر ہوئی۔ لیکن فوسل ایندھن اب بھی عالمی توانائی کا 80 فیصد سے زیادہ فراہم کرتے ہیں اور ہر سال تقریباً 27 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے ہلاک ہوتے ہیں۔
شدید خشک سالی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ 2016 سے 2025 کے درمیان شدید خشک سالی سے متاثرہ زمین کی شرح گزشتہ دہائی کے مقابلے میں تقریباً 700 فیصد بڑھ گئی، جس سے پانی، خوراک اور صفائی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اہم نکات
- رپورٹ: صحت اور موسمیاتی تبدیلی پر لانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن کی دسویں سالانہ رپورٹ، 28 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی۔
- گرمی سے اموات: 2016 سے 2023 میں اوسطاً ہر سال 540800، اور 2023 میں ریکارڈ 710000۔
- موسمیاتی حصہ: 2016 سے 2023 میں گرمی سے اموات کا 68 فیصد انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے منسوب۔
- کام کا نقصان: 2025 میں گرمی سے 1.07 کھرب ڈالر کی ممکنہ آمدنی ضائع ہوئی۔
- مطالبہ: انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر 2026 تک ہونے والے کاپ31 سے پہلے موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت ایمرجنسی تسلیم کیا جائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
لانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن کیا ہے؟
یہ موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے تعلق کا سالانہ آزاد جائزہ ہے، جس کی قیادت یو سی ایل کرتی ہے اور ڈبلیو ایچ او اس میں تعاون کرتی ہے۔ 2026 کی رپورٹ اس کی دسویں رپورٹ ہے اور اس میں 54 اشاریوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ گرمی سے کتنی اموات بتاتی ہے؟
2016 سے 2023 میں اوسطاً ہر سال 540800 گرمی سے اموات، جن میں سے ہر سال تقریباً 369900 انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے منسوب ہیں۔ 2023 میں گرمی سے ریکارڈ 710000 اموات ہوئیں۔
مصنفین عالمی صحت ایمرجنسی کا اعلان کیوں چاہتے ہیں؟
ان کا کہنا ہے کہ صحت کے نقصانات ردعمل سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور باضابطہ ایمرجنسی کے اعلان سے ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحدہ کے ذریعے مربوط اعداد، مالیات اور ردعمل ممکن ہو سکے گا۔
شدید گرمی سے سب سے زیادہ کون متاثر ہوتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق بزرگ افراد، زراعت اور تعمیرات میں باہر کام کرنے والے مزدور، اور وہ گھرانے جن کے پاس ٹھنڈک کی سہولت نہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
یہ نتائج کاپ31 سے ٹھیک پہلے سامنے آئے ہیں، جو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر 2026 تک ہوگا، جہاں حکومتیں مالیات، موافقت اور قومی موسمیاتی منصوبوں پر عمل درآمد پر مذاکرات کریں گی۔
رپورٹ کی وارننگ واضح ہے کہ تیز عمل کے بغیر گرم ہوتی دنیا میں صحت کا نقصان بڑھتا رہے گا، اور جو لوگ گرمی سے سب سے کم بچ سکتے ہیں، وہی سب سے زیادہ قیمت ادا کریں گے۔