×
Solar panel field with wind turbines at golden hour as solar overtakes nuclear generation worldwide in 2025

تاریخ میں پہلی بار، عالمی شمسی توانائی کی بجلی کی پیداوار نے پورے کیلنڈر سال میں نیوکلیئر توانائی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ سنگِ میل ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 میں درج کیا گیا ہے — وہ لمحہ جب شمسی توانائی نیوکلیئر سے آگے نکل گئی اور دنیا کی بجلی کے ذرائع میں ایک علامتی موڑ ثبت ہوا۔

فرانسیسی آزاد توانائی مشیر مائکل شنائیڈر کی نگرانی میں تیار ہونے والی یہ 596 صفحات پر مشتمل سالانہ رپورٹ اس ہفتے استنبول میں پیش کی گئی، اور اس میں دنیا کے ہر تجارتی نیوکلیئر ری ایکٹر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کی اہم ترین دریافت واضح ہے: نیوکلیئر پیداوار کے ریکارڈ سال کے باوجود، شمسی اور ہوا کی توانائی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ بجلی میں نیوکلیئر کا حصہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔

تاریخی موڑ: پہلی بار شمسی توانائی نیوکلیئر سے آگے

2025 میں شمسی بجلی کی پیداوار نے پہلی بار پورے سال کے دوران نیوکلیئر پیداوار کو پیچھے چھوڑا۔ یہ تبدیلی ماہ بہ ماہ بڑھتی گئی۔ مارچ 2025 میں ہوا کی توانائی نے ماہانہ بنیاد پر نیوکلیئر پیداوار کو پیچھے چھوڑا؛ اپریل 2025 میں شمسی توانائی نے بھی ایسا ہی کیا — تاریخ میں پہلا مہینہ جب عالمی شمسی پیداوار نیوکلیئر پیداوار سے زیادہ تھی۔

2025 کے بہار سے ماہانہ ریکارڈ

اس کے بعد برتری بار بار بدلتی رہی، لیکن تجدید پذیر توانائی آگے رہی۔ مارچ 2025 سے جون 2026 تک ہر ایک مہینے میں شمسی یا ہوا کی توانائی میں سے کسی ایک نے نیوکلیئر سے زیادہ بجلی پیدا کی۔ مارچ، اپریل اور مئی 2026 میں دونوں نے ہی نیوکلیئر سے زیادہ پیداوار دی۔

ایمبیری کی آزاد تصدیق

توانائی کے تھنک ٹینک ایمبیری کے الگ جائزے نے بھی اسی نتیجے کی تصدیق کی: 2025 میں شمسی اور نیوکلیئر پیداوار تقریباً برابر رہی، اور اپریل سے ستمبر تک شمسی توانائی نیوکلیئر سے آگے رہی۔ دو آزاد ڈیٹا سیٹس اس بات پر متفق ہیں کہ 2025 وہ سال تھا جب یہ تبدیلی رونما ہوئی۔

نیوکلیئر پیداوار ریکارڈ پر — لیکن حصہ گھٹ رہا ہے

نیوکلیئر توانائی زوال پذیر نہیں ہے۔ دنیا کے ری ایکٹروں نے 2025 میں ریکارڈ 2,703 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی پیدا کی، جو پچھلے سال سے 1.1 فیصد زیادہ ہے۔ ورلڈ نیوکلیئر ایسوسی ایشن کے اپنے جائزے میں بھی 2025 کی نیوکلیئر پیداوار ریکارڈ سطح (2,702 ٹیراواٹ گھنٹے) پر پائی گئی، جو رپورٹ کے اعداد و شمار کی وسیع تصدیق کرتی ہے۔

چین کا کردار

لیکن عالمی اضافہ مکمل طور پر ایک ملک کی وجہ سے ہوا۔ چین کی نیوکلیئر پیداوار 2025 میں 7.6 فیصد بڑھی؛ چین کے باہر نیوکلیئر پیداوار دراصل 0.2 فیصد گھٹ گئی۔ اب اس شعبے کی نمو تقریباً مکمل طور پر چین کی کہانی ہے۔

حصہ 45 سال کی کم ترین سطح پر

تیزی سے بڑھتے ہوئے بجلی کے نظام کے مقابلے میں ریکارڈ پیداوار بھی نیوکلیئر کے حصے کو برقرار نہ رکھ سکی۔ عالمی بجلی میں نیوکلیئر کا حصہ 9 فیصد سے گھٹ کر 8.8 فیصد رہ گیا — تقریباً 45 سال کی کم ترین سطح، اور 1996 کی 17.5 فیصد کی بلند ترین سطح کا تقریباً نصف۔

تعمیر کی دوڑ: 73 ری ایکٹر زیرِ تعمیر

رپورٹ نیوکلیئر صنعت کے لیے مکمل طور پر مایوس کن نہیں۔ یکم جولائی 2026 تک 14 ممالک میں 73 ری ایکٹر زیرِ تعمیر تھے — 1987 کے بعد سب سے زیادہ تعداد۔ ان میں سے 37 چین میں ہیں، 29 میں روسی ٹیکنالوجی شامل ہے (22 روس کے باہر)، اور زیرِ تعمیر دس میں سے نو ری ایکٹر ایشیا یا مشرقی یورپ میں ہیں۔

2025 میں تعمیر کے آغاز کی تعداد 12 تک پہنچی — 2010 کے بعد سب سے زیادہ سالانہ اعداد — جن میں نو چین، دو روس اور ایک جنوبی کوریا میں ہیں۔ اسی دوران آپریٹنگ بیڑا 31 ممالک میں 411 ری ایکٹرز پر مشتمل تھا، جو پچھلے سال سے تین زیادہ ہے لیکن 2002 کی 438 کی بلند ترین سطح سے اب بھی 27 کم ہے۔ تیس ری ایکٹر طویل مدتی بندش میں ہیں، جن میں 18 جاپان میں ہیں۔

چین کے باہر سکڑتا ہوا بیڑا

2025 میں چار ری ایکٹروں نے بجلی کی فراہمی شروع کی جبکہ سات مستقل طور پر بند ہوئے — 2021 کے بعد پہلا منفی سالانہ توازن۔ طویل مدتی تصویر اور بھی واضح ہے: 2006 سے 2025 کے درمیان 104 ری ایکٹر شروع ہوئے اور 106 بند ہوئے۔ چین میں 53 شروع ہوئے اور کوئی بند نہیں ہوا، یعنی باقی دنیا میں 55 ری ایکٹروں کی خالص کمی ہوئی، جو تقریباً 30.7 گیگاواٹ صلاحیت کے برابر ہے۔

ایک چوتھائی صدی سے جامد صلاحیت

نیوکلیئر صلاحیت بنیادی طور پر ساکن کھڑی ہے۔ 2025 میں نصب شدہ نیوکلیئر صلاحیت صرف 1.5 گیگاواٹ بڑھ کر 399.5 گیگاواٹ ہوئی، جبکہ اصل آپریٹنگ صلاحیت 0.5 گیگاواٹ گھٹ کر 368.6 گیگاواٹ رہ گئی۔ رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ نیوکلیئر صلاحیت 25 سال سے زیادہ عرصے سے بنیادی طور پر جامد ہے۔

تجدید پذیر توانائی کے ساتھ تضاد اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا۔ 2025 میں شمسی پیداوار 30 فیصد اور ہوا کی پیداوار 8 فیصد بڑھی۔ شمسی صلاحیت 510 گیگاواٹ بڑھ کر 2,383 گیگاواٹ ہو گئی — ایک سال میں 27 فیصد اضافہ — جبکہ ہوا کی صلاحیت 159 گیگاواٹ بڑھ کر 1,291 گیگاواٹ ہوئی، یعنی 14 فیصد اضافہ۔ اپریل 2026 میں شائع ہونے والے آئیرینا کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں 692 گیگاواٹ نئی تجدید پذیر صلاحیت شامل ہوئی، جس سے عالمی تجدید پذیر صلاحیت 5,149 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔

اہم نکات

  • 2025 میں شمسی پیداوار نے پہلی بار پورے سال میں نیوکلیئر پیداوار کو پیچھے چھوڑا۔
  • ہوا کی توانائی نے پہلی بار مارچ 2025 میں ماہانہ بنیاد پر نیوکلیئر کو پیچھے چھوڑا؛ شمسی نے اپریل 2025 میں ایسا کیا۔
  • نیوکلیئر پیداوار ریکارڈ 2,703 ٹیراواٹ گھنٹے (+1.1%) تک پہنچی، تمام اضافہ چین (+7.6%) میں ہوا؛ چین کے باہر 0.2% کمی۔
  • عالمی بجلی میں نیوکلیئر کا حصہ گھٹ کر 8.8% رہ گیا، تقریباً 45 سال کی کم ترین سطح۔
  • شمسی صلاحیت 510 گیگاواٹ (+27%) بڑھ کر 2,383 گیگاواٹ ہوئی؛ ہوا +159 گیگاواٹ (+14%) بڑھ کر 1,291 گیگاواٹ؛ نیوکلیئر صلاحیت 25+ سال سے جامد۔
  • 73 ری ایکٹر زیرِ تعمیر (1987 کے بعد سب سے زیادہ)؛ 411 آپریٹنگ ری ایکٹر، 2002 کی بلند ترین سطح سے 27 کم۔
  • 2025 میں 104 گیگاواٹ / 257 گیگاواٹ گھنٹے گرڈ اسکیل بیٹری اسٹوریج منسلک ہوئی؛ مجموعی اسٹوریج کا 78% سے زیادہ 2023–2025 میں نصب ہوا۔

شمسی توانائی نیوکلیئر سے آگے — چھت پر سولر پینل نصب کرتے تکنیشن
تکنیشن ایک تجارتی چھت پر شمسی پینل نصب کر رہے ہیں۔ 2025 میں شمسی صلاحیت ریکارڈ 510 گیگاواٹ بڑھی — ایک سال میں 27 فیصد اضافہ۔

اسٹوریج تیزی سے بڑھ رہی ہے، چھوٹے ری ایکٹروں کے وعدے دور ہیں

سال کے سب سے نمایاں اعداد میں بیٹریاں شامل ہیں: 2025 میں 104 گیگاواٹ اور 257 گیگاواٹ گھنٹے گرڈ اسکیل بیٹری اسٹوریج منسلک ہوئی، اور مجموعی بیٹری اسٹوریج کا 78 فیصد سے زیادہ 2023 سے 2025 کے درمیان نصب ہوا۔ اسٹوریج اتنی تیزی سے آ رہی ہے کہ ہوا اور شمسی کی اتار چڑھاؤ کو سنبھالا جا سکے۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر، جنہیں طویل عرصے سے نیوکلیئر کے چست مستقبل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، میں پیش رفت محدود ہے۔ کینیڈا نے 2026 میں جی ای-ہٹاچی کے بی ڈبلیو آر ایکس-300 کی تعمیر شروع کی، لیکن رپورٹ کئی سالوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی ایس ایم آرز کی صلاحیت پر شکوک کا اظہار کرتی ہے۔

ان اعداد کا مطلب کیا ہے

2026 کی رپورٹ ایک دوہری تصویر پیش کرتی ہے۔ نیوکلیئر توانائی نے ریکارڈ پیداوار حاصل کی اور 1987 کے بعد سے کسی بھی وقت سے زیادہ ری ایکٹر تعمیر کر رہی ہے — پھر بھی دنیا کی بجلی میں اس کا حصہ مسلسل گھٹ رہا ہے، اس کی صلاحیت جامد ہے، اور چین کے باہر اس کا بیڑا سکڑ رہا ہے۔ دوسری طرف تجدید پذیر توانائی ایسی رفتار سے صلاحیت بڑھا رہی ہے جس کا نیوکلیئر نے کبھی مقابلہ نہیں کیا۔

رپورٹ کے کوآرڈینیٹر مائکل شنائیڈر نے پی وی میگزین کو بتایا کہ 2025 کے اعداد “ان لوگوں کے لیے کافی چونکانے والے تھے جو عروج پذیر شعبہ دیکھنے کی توقع رکھتے تھے۔” یہ رپورٹ ایک آزاد جائزہ ہے اور اس کے مصنفین نیوکلیئر توانائی کے امکانات کے بارے میں اپنے شکوک کے لیے جانے جاتے ہیں — لیکن اس کے پیش کردہ اعداد صنعت اور سرکاری ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا 2025 میں واقعی شمسی توانائی نیوکلیئر سے آگے نکل گئی؟

جی ہاں، ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ 2025 میں عالمی شمسی توانائی کی پیداوار میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا اور یہ پورے کیلنڈر سال میں نیوکلیئر کے ریکارڈ 2,703 ٹی ڈبلیو ایچ سے بڑھ گئی۔ توانائی کے تھنک ٹینک ایمبر کے الگ جائزے میں بھی یہی نتیجہ سامنے آیا کہ اپریل سے ستمبر تک شمسی توانائی نیوکلیئر سے آگے رہی۔

کیا شمسی توانائی نیوکلیئر کو پیچھے چھوڑنے کا مطلب نیوکلیئر توانائی کا زوال ہے؟

بالکل نہیں۔ 2025 میں دنیا کے ری ایکٹروں نے ریکارڈ 2,703 ٹی ڈبلیو ایچ بجلی پیدا کی، جو پچھلے سال سے 1.1 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن یہ سارا اضافہ صرف چین کی وجہ سے ہوا، جہاں پیداوار میں 7.6 فیصد اضافہ ہوا؛ چین کے بغیر نیوکلیئر پیداوار میں 0.2 فیصد کمی آئی۔ اس کے باوجود عالمی بجلی میں نیوکلیئر کا حصہ کم ہو کر 8.8 فیصد رہ گیا — تقریباً 45 سال کی کم ترین سطح۔

ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ کون شائع کرتا ہے؟

یہ ایک آزاد سالانہ رپورٹ ہے جسے پیرس کے توانائی کنسلٹنٹ مائیکل شنائیڈر مربوط کرتے ہیں۔ اس کے مصنفین نیوکلیئر توانائی کے امکانات کے بارے میں شکوک کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن ان کے پیش کردہ اعداد صنعت اور سرکاری ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔

اس کہانی میں بیٹریاں اتنی اہم کیوں ہیں؟

کیونکہ یہ شمسی اور ہوا کی توانائی کو زیادہ قابلِ استعمال بناتی ہیں۔ 2025 میں دنیا بھر میں 104 گیگاواٹ اور 257 گیگاواٹ گھنٹے کی بیٹری اسٹوریج منسلک کی گئی، اور مجموعی اسٹوریج کا 78 فیصد سے زیادہ 2023 سے 2025 کے دوران لگایا گیا۔ بیٹریوں کی گرتی ہوئی قیمتیں شمسی توانائی کی توسیع کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

نیوکلیئر تعمیرات اصل میں کہاں بڑھ رہی ہیں؟

یکم جولائی 2026 تک 14 ممالک میں 73 ری ایکٹر زیرِ تعمیر تھے — جو 1987 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں سے 37 چین میں تھے اور 29 میں روسی ٹیکنالوجی شامل تھی۔ زیرِ تعمیر 10 میں سے 9 ری ایکٹر ایشیا یا مشرقی یورپ میں ہیں۔

مزید موسمیاتی خبریں: وطن نیوز کی موسمیاتی کوریج۔ ماخذ: پی وی میگزین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

لاہور میں پاکستانی فلم کے پریمیئر کی شاندار تقریب — پاکستانی تفریحی صنعت 2026

پاکستانی تفریحی صنعت 2026: سنیما، فیشن اور موسیقی کی نئی لہر

پاکستانی تفریحی صنعت 2026 میں نئے موڑ پر ہے — عید پر بڑی فلموں کی نمائش، لام فیشن ویک کا عالمی ماڈل،...

Read out all
طلوعِ آفتاب پر پہاڑی علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کا علامتی دستہ — کوہاٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کے خلاف کامیاب کارروائی

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا مرکزی ملزم ہلاک — سیکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کا لکی مروت میں مشترکہ آپریشن

سیکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی لکی مروت کی ایف آر لکی مروت میں مشترکہ کارروائی میں کوہاٹ پولیس لائنز خودکش حملے...

Read out all
شام کے وقت پارلیمنٹ کی عمارت — اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت کا علامتی منظر

وزیرِاعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت — خیبر پختونخوا میں تیسرے مرحلے کا آغاز

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔...

Read out all
شام کے وقت ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز باسیلیکا کا منظر

پوپ لیو چہاردہم کو پھیپھڑے کا کینسر: سرجری میں دایاں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکالا گیا

روم (وطن نیوز) — کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم کو پھیپھڑے کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ ویٹیکن کی...

Read out all
تجارت کا علامتی منظر — کنٹینر بندرگاہ پر مال بردار جہاز؛ چین اور امریکا کے ساتھ معاشی تعلقات کی حکمت عملی

وزیرِ خزانہ: پاکستان چین اور امریکا دونوں سے معاشی تعلقات یکساں آگے بڑھائے گا

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان چین اور امریکا دونوں کے ساتھ معاشی تعلقات یکساں طور پر آگے...

Read out all
بینڈ، اوریگون کے ابتدائی سکول کی عمارت کا دور سے نظارہ

اوریگون سکول فائرنگ: بینڈ کے ابتدائی سکول میں 16 سالہ حملہ آور کی فائرنگ سے تین بچے اور استاد ہلاک

اوریگون سکول فائرنگ جمعرات کو بینڈ کے سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں ہوئی: 16 سالہ حملہ آور کی فائرنگ میں 5، 8...

Read out all