چین کے خود مختار علاقے تبت کے شمالی حصے میں جمعرات کی رات آنے والے 7 شدت کے طاقتور زلزلے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ زلزلے نے سینکڑوں مکانات کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا اور پہاڑی علاقے میں مواصلات اور آمد و رفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ حکام نے متاثرہ علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
اہم نکات
- زلزلے کی شدت 7 ریکارڈ کی گئی، جو جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔
- زلزلے کا مرکز تبت کے شہر ناگکو سے 191 کلومیٹر مشرق شمال مشرق میں تھا، اور اس کی گہرائی 18 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔
- اب تک کم از کم 16 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ درجنوں زخمی ہیں، جن میں 11 کی حالت تشویش ناک ہے۔
- کم از کم 339 مکانات اور 20 مویشیوں کے باڑے منہدم ہو گئے ہیں۔
- 1600 سے زیادہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں مصروف ہیں، اور ایک ہزار تیار شدہ مکانات سمیت 3 ہزار خیمے پہنچائے گئے ہیں۔
- حکام نے سطح دوم کا ہنگامی ردعمل فعال کر دیا ہے، اور برف باری کی پیش گوئی نے امدادی کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔
تبت میں زلزلہ: مرکز اور شدت
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگکو کے شمال مشرقی علاقے میں ایک کم آبادی والے اور بلند پہاڑی خطے میں تھا۔ سروے نے زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر بتائی ہے، جب کہ چینی نگرانی کے اداروں نے گہرائی کچھ کم بتائی ہے۔ متاثرہ علاقہ سطح سمندر سے تقریباً 4 ہزار 864 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جہاں آبادی بکھری ہوئی بستیوں میں رہتی ہے۔
زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ دکانوں میں سامان شیلفوں سے گر گیا اور لوگ خوف زدہ ہو کر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ چینی سرکاری ٹیلی ویژن کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ریسٹورنٹس سے بھاگ کر باہر آ رہے ہیں۔ زلزلے کے بعد 4.3 سے 5.2 شدت کے کم از کم سات آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔
متاثرہ ضلع باچن کے مرکزی قصبے میں بجلی اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق قصبے کی انتظامی عمارت کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ قومی شاہراہ 317 کے کچھ حصے پتھر گرنے کے باعث بند کر دیے گئے ہیں اور صرف امدادی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ مقامی ریل سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
امدادی کارروائیاں اور متاثرہ علاقوں کی مشکلات
چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں 1600 سے زیادہ امدادی کارکن تعینات کیے ہیں، جن میں پولیس اور آگ بجھانے والے دستوں کے سینکڑوں اہلکار شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں رات بھر ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف رہیں، اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے عارضی خیمے لگائے جا رہے ہیں۔

حکام نے متاثرین کے لیے ایک ہزار تیار شدہ مکانات، تقریباً 3 ہزار خیمے، تہہ کرنے والے بستر، ٹارچیں اور گرم کپڑے پہنچائے ہیں۔ سرد پہاڑی علاقے میں رات کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے، اس لیے بے گھر خاندانوں کو گرم پناہ گاہوں کی فوری ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق 12 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
موسمیاتی حکام نے آنے والے دنوں میں وقفے وقفے سے برف باری کی پیش گوئی کی ہے، جس سے امدادی کام اور متاثرہ علاقوں تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کا مکمل جائزہ ابھی جاری ہے، اور ہلاکتوں کی تعداد میں تبدیلی آ سکتی ہے کیوں کہ دور دراز بستیوں سے اطلاعات آہستہ آہستہ موصول ہو رہی ہیں۔
تبت کی زلزلہ خیز زمین اور پچھلا بڑا سانحہ
تبت دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے، کیوں کہ یہ اس مقام پر واقع ہے جہاں بھارتی اور یوریشیائی زمینی پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ اسی ٹکراؤ نے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کو جنم دیا ہے، اور اسی وجہ سے خطے میں بار بار زمین لرزتی رہتی ہے۔
رواں زلزلہ تبت میں گزشتہ چند برسوں کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جنوری 2025 میں تبت کے ضلع ٹنگری میں آنے والے زلزلے میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار مرکز کے آس پاس آبادی کم ہونے کی وجہ سے جانی نقصان نسبتاً کم ہوا، لیکن مٹی اور کچی اینٹوں سے بنے مکانات شدید جھٹکوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل تیز کر دی ہے اور نقصان کا جائزہ لینے والی ٹیمیں گاؤں گاؤں جا رہی ہیں۔ وطن نیوز پر عالمی خبروں کی مزید کوریج پڑھیں۔