امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں بارہ گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات کیے، جب کہ آج دوحہ میں بھی بات چیت جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایک نئی جنگ کا خدشہ برقرار ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط لکھا ہے، جس میں براہ راست مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے۔
- قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں بارہ گھنٹے سے زائد مذاکرات کیے، اور دوحہ کو آئندہ براہ راست مذاکرات کے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
- ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے سات روزہ منصوبے پر ثالثوں سے رابطے میں ہے۔
- اہم رکاوٹ مذاکرات کی ترتیب ہے: امریکہ پہلے جوہری معاملے پر رعایتیں چاہتا ہے، جب کہ ایران پہلے ناکہ بندی کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور تیل کی فروخت کی اجازت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
- ایک رپورٹ شدہ مسودہ فریم ورک میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے یا اس کی افزودگی کم کرنے اور سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز شامل ہے۔
وینس کا خط اور قطری ثالثی
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر محسن رضائی کو خط بھیجا۔ خط قطری ثالثوں کے ذریعے پہنچایا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق خط اور اس کے بعد ہونے والی بات چیت میں امن معاہدے کی مخصوص شرائط کے بجائے مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک پر توجہ مرکوز کی گئی، اور وینس نے امریکی وفد کی قیادت کی پیش کش کی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم ابھی اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوال پر کہا کہ انہوں نے وینس کو امن مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطے کی ہدایت نہیں دی تھی، اور ان کے مطابق یہ رابطہ طبی سامان کی فراہمی سے متعلق تھا۔ اس تضاد کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالثی کا عمل جاری ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری ثالث 30 اکتوبر کو بھی تہران واپس پہنچے تاکہ امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی میں مفاہمت آگے بڑھائی جا سکے۔ قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے ایک سینئر مشیر کی قیادت میں وفد نے جمعے کی صبح تہران میں مشاورت کی۔ رپورٹوں کے مطابق قطری وفد کو وینس کے خط کا جواب ایک ہفتے کے اندر مل سکتا ہے، اور آئندہ ملاقات دوحہ یا استنبول میں ہو سکتی ہے۔
دونوں فریقوں کے مطالبات اور رکاوٹیں
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دو متضاد مطالبات مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ایران مذاکرات کی بحالی کے بدلے جوہری معاملات پر رعایتیں دے، جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ناکہ بندی ختم کی جائے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کیے جائیں اور تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ پیش رفت کا انحصار ایران کی سات شرائط کی منظوری پر ہے، جن میں خطے میں جنگ بندی، ایرانی اثاثوں کی واپسی، تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق فریقوں کے سامنے رکھے گئے ابتدائی مسودے میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی متفقہ تیسرے ملک منتقل کرنے یا اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابتدائی مفاہمت کے سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے۔ براہ راست مذاکرات استنبول کے بجائے دوحہ میں کرانے اور چین کو معاہدے کا ضامن بنانے کی تجویز بھی مسودے کا حصہ بتائی گئی ہے، جب کہ تاخیر یا خلاف ورزی کی صورت میں ثالثوں اور ضامن ممالک پر مشتمل تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران ثالثوں کے ساتھ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے طریقوں پر بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، لیکن ایران سفارت کاری کو کامیابی کا موقع دے رہا ہے۔
جنگ کا پس منظر اور خطے پر اثرات
رواں برس فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی۔ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، اور اب وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے ایرانی معیشت کو دباؤ میں لانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ ان حالات میں عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے کئی خلیجی عرب ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ مختصر اور شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہیں، تاہم اخبار کے مطابق ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کا وسیع تر جوابی کارروائی سے جواب دے گی۔ ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کشیدگی کم کرنے کے عمل پر معاہدے کے قریب ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں پیش رفت متوقع ہے۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ وینس کے خط، قطری ثالثی اور مسودہ فریم ورک نے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا ہے، لیکن مذاکرات کی ترتیب پر اختلاف اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آئندہ چند روز میں تہران کے جواب اور دوحہ میں ممکنہ ملاقات سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا سفارت کاری جنگ کا راستہ روک پاتی ہے یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی جانب بڑھتا ہے۔ مزید عالمی خبریں یہاں پڑھیں۔
